کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: جو شخص اپنے نسب کے علاوہ کا دعوی کرے یا اپنے آزاد کرنے والے آقا کی بجائے کسی اور کی طرف نسبت ولاء قائم کرے اُس کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُفْرٌ تَبَرُّؤٌ مِنْ نَسَبٍ وَإِنْ دَقَّ ، وَادِّعَاءُ نَسَبٍ لَا يُعْرَفُ " .
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " كُفْرٌ بِامْرِئٍ " ، وَهُوَ مِنْ رِوَايَةِ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ .
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " كُفْرٌ بِامْرِئٍ " ، وَهُوَ مِنْ رِوَايَةِ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” نسب سے برات کا اظہار کرنا ، کفر ہے ، خواہ وہ نسب کتنا ہی ہلکا کیوں نہ ہو ، اور ( کسی ) ایسے نسب کا دعوی کرنا ، جو معروف نہ ہو ( یہ بھی کفر ہے ) “
یہ روایت امام أحمد نے ، اور امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” آدمی کی یہ چیز کفر ہے “ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
یہ روایت عمرو بن شعیب نے ، اپنے والد کے حوالے سے ، اپنے دادا سے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، اور امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” آدمی کی یہ چیز کفر ہے “ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
یہ روایت عمرو بن شعیب نے ، اپنے والد کے حوالے سے ، اپنے دادا سے نقل کی ہے ۔
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِيمَانِ مِنْ عُنُقِهِ " .
رَوَاهُ أَحْمَدُ ، رَوَاهُ عَنْ جَابِرٍ خَالِدُ بْنُ أَبِي حَيَّانَ ، وَثَّقَهُ أَبُو زُرْعَةَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
قُلْتُ : وَيَأْتِي هَذَا الْحَدِيثُ وَغَيْرُهُ فِيمَنْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ فِي الْفَرَائِضِ .
رَوَاهُ أَحْمَدُ ، رَوَاهُ عَنْ جَابِرٍ خَالِدُ بْنُ أَبِي حَيَّانَ ، وَثَّقَهُ أَبُو زُرْعَةَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
قُلْتُ : وَيَأْتِي هَذَا الْحَدِيثُ وَغَيْرُهُ فِيمَنْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ فِي الْفَرَائِضِ .
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص اپنے آزاد کرنے والے آقا کی بجائے ، کسی اور کی طرف نسبت ولاء ظاہر کرتا ہے ، وہ اپنی گردن سے ایمان کا پٹہ اتار دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ، اسے خالد بن ابوحیان نامی راوی نے نقل کیا ہے ، جسے امام ابوزرعہ نے ثقہ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ حدیث اور اس کے علاوہ دیگر احادیث ، جو اپنے حقیقی آقا کی بجائے کسی اور کی طرف نسبت ولاء ظاہر کرنے والے شخص کے بارے میں ہیں وہ فرائض سے متعلق باب میں آئیں گی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ، اسے خالد بن ابوحیان نامی راوی نے نقل کیا ہے ، جسے امام ابوزرعہ نے ثقہ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ حدیث اور اس کے علاوہ دیگر احادیث ، جو اپنے حقیقی آقا کی بجائے کسی اور کی طرف نسبت ولاء ظاہر کرنے والے شخص کے بارے میں ہیں وہ فرائض سے متعلق باب میں آئیں گی ۔
وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ ادَّعَى نَسَبًا لَا يُعْرَفُ كَفَرَ بِاللَّهِ ، وَانْتِفَاءٌ مِنْ نَسَبٍ - وَإِنْ دَقَّ - كُفْرٌ بِاللَّهِ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ السَّرِيُّ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ السَّرِيُّ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ .
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص کسی ایسے نسب کا دعویٰ کرے ، جو معروف نہ ہو ، تو ایسا شخص اللہ تعالیٰ کے کفر کا مرتکب ہوتا ہے ، اور نسب سے نفی کرنا خواہ وہ کتنا ہی ہلکا کیوں نہ ہو ، یہ اللہ تعالیٰ کا کفر ہے “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ ضعیف ہے ،
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سری بن اسماعیل ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ ضعیف ہے ،
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سری بن اسماعیل ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنْ أَيُّوبَ بْنِ عُدَيِّ بْنِ عُدَيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ - أَوْ عَمِّهِ - : أَنَّ مَمْلُوكًا كَانَ يُقَالُ لَهُ : " كَيْسَانُ " ، فَسَمَّى نَفْسَهُ قَيْسًا ، وَادَّعَى إِلَى مَوْلَاهُ وَلَحِقَ بِالْكُوفَةِ ، فَرَكِبَ أَبُوهُ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، ابْنِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِي (وَادَّعَى) ، ثُمَّ رَغِبَ عَنِّي وَادَّعَى إِلَى مَوْلَايَ وَمَوْلَاهُ ، فَقَالَ عُمَرُ لِزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ : أَمَا تَعْلَمُ أَنَّا كُنَّا نَقْرَأُ : ( لَا تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ فَإِنَّهُ كُفْرٌ بِكُمْ ؟ ) فَقَالَ زَيْدٌ : بَلَى . فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : انْطَلِقْ فَاقْرِنِ ابْنَكَ إِلَى بَعِيرِكَ ، ثُمَّ انْطَلِقْ فَاضْرِبْ بَعِيرَكَ سَوْطًا وَابْنَكَ سَوْطًا حَتَّى تَأْتِيَ بِهِ أَهْلَكَ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَأَيُّوبُ بْنُ عُدَيٍّ وَأَبُوهُ أَوْ عَمُّهُ لَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُمَا .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَأَيُّوبُ بْنُ عُدَيٍّ وَأَبُوهُ أَوْ عَمُّهُ لَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُمَا .
محمد محی الدین
ایوب بن عدی بن عدی ، اپنے والد ، یا شاید اپنے چچا کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : ایک غلام تھا ، جس کا نام کیسان تھا ، اُس نے اپنا نام قیس رکھ لیا اور اپنے آقا کی اولاد ہونے کا دعوی کر دیا اور کوفہ چلا گیا ، اُس کا باپ سوار ہو کر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اور بولا: اے امیرالمؤمنین ! میرا بیٹا ، جو میرے ہاں پیدا ہوا ؟ اب وہ کسی اور کے نسب کا دعوی کرتا ہے ، اس نے مجھ سے منہ موڑ لیا ہے اور اپنی نسبت میرے اور اس کے آقا کی طرف کر دی ہے ( یعنی وہ خود کو میرے آقا کا بیٹا ظاہر کرتا ہے ) تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے فرمایا : کیا تم یہ بات جانتے ہو ؟ کہ ہم یہ آیت پڑھا کرتے تھے : ” تم لوگ اپنے آباؤ اجداد سے منہ نہ موڑو ! کیونکہ یہ چیز تمہارا کفر شمار ہو گی “ تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ! پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اُس شخص سے کہا: تم جاؤ ! اور اپنے بیٹے کو اپنے اونٹ پر باندھو ! اور پھر روانہ ہو جاؤ ، ایک کوڑا ، اپنے اونٹ کو مارنا ، اور ایک کوڑا ، اپنے بیٹے کو مارنا ، یہاں تک کہ تم اُسے ساتھ لے کر اپنے گھر آ جاؤ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور ایوب بن عدی ، اُس کے والد ، یا اُس کے چچا کا ذکر کرتے ہوئے ، میں نے کسی کو نہیں دیکھا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور ایوب بن عدی ، اُس کے والد ، یا اُس کے چچا کا ذکر کرتے ہوئے ، میں نے کسی کو نہیں دیکھا ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ لَمْ يَرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ ، وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ قَدْرِ سَبْعِينَ عَامًا - أَوْ مِنْ مَسِيرَةِ سَبْعِينَ عَامًا - " .
قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " مِنْ مَسِيرَةِ خَمْسِمِائَةِ عَامٍ " .
رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " مِنْ مَسِيرَةِ خَمْسِمِائَةِ عَامٍ " .
رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” وہ شخص ، جو اپنے باپ کی بجائے ، کسی اور کی اولاد ہونے کا دعوی کرے ، وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا ، اگرچہ اس کی خوشبو 70 سال کے فاصلے سے محسوس ہو جاتی ہے ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) ستر سال کی مسافت کے فاصلے سے محسوس ہو جاتی ہے “
۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابن ماجہ نے بھی نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” پانچ سو سال کی مسافت کے فاصلے سے محسوس ہو جاتی ہے “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابن ماجہ نے بھی نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” پانچ سو سال کی مسافت کے فاصلے سے محسوس ہو جاتی ہے “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔