کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اللہ تعالیٰ کے لیے کسی سے محبت رکھنا اور اللہ تعالیٰ کے لیے کسی سے بغض رکھنا ایمان کا حصہ ہے
حدیث نمبر: 303
عَنْ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا يَحِقُّ الْعَبْدُ صَرِيحَ الْإِيمَانِ حَتَّى يُحِبَّ لِلَّهِ وَيُبْغِضَ لِلَّهِ ، فَإِذَا أَحَبَّ لِلَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - وَأَبْغَضَ لِلَّهِ فَقَدِ اسْتَحَقَّ الْوِلَايَةَ مِنَ اللَّهِ ، إِنَّ أَوْلِيَائِي مِنْ عِبَادِي وَأَحِبَّائِي مِنْ خَلْقِي الَّذِينَ يُذْكَرُونَ بِذِكْرِي ، وَأُذْكَرُ بِذِكْرِهِمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، وَهُوَ مُنْقَطِعٌ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اُنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بنده صریح ایمان کا حقدار اُس وقت تک نہیں ہوتا ، جب تک وہ اللہ تعالیٰ کے لیے کسی سے محبت نہیں رکھتا ، اور اللہ تعالیٰ کے لیے کسی سے بغض نہیں رکھتا ، جب وہ اللہ تعالیٰ کے لیے کسی سے محبت رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے لیے کسی سے بغض رکھتا ہے ، تو وہ اللہ تعالی کی ولایت کا مستحق ہو جاتا ہے ( اور حدیث قدسی میں ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ) ” میرے بندوں میں سے ، میرے اولیاء اور میری مخلوق میں سے ، میرے محبوب بندے ، وہ ہیں کہ میرے ذکر کے ہمراہ اُن کا ذکر کیا جاتا ہے ، اور اُن کے ذکر کے ہمراہ ، میرا ذکر کیا جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی کی رشدین بن سعد ہے ، اور وہ منقطع اور ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 303
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 430/3 اورده المؤلف فى زوائد المسند 115»
حدیث نمبر: 304
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا يَجِدُ الْعَبْدُ صَرِيحَ الْإِيمَانِ حَتَّى يُحِبَّ لِلَّهِ وَيُبْغِضَ لِلَّهِ ، فَإِذَا أَحَبَّ لِلَّهِ وَأَبْغَضَ لِلَّهِ فَقَدِ اسْتَحَقَّ الْوِلَايَةَ ، وَإِنَّ أَوْلِيَائِي مِنْ عِبَادِي وَأَحِبَّائِي مِنْ خَلْقِي الَّذِينَ يُذْكَرُونَ بِذِكْرِي ، وَأُذْكَرُ بِذِكْرِهِمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ رِشْدِينُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن حمق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” آدمی ، صریح ایمان کو اُس وقت تک نہیں پا سکتا ، جب تک وہ اللہ تعالیٰ کے لیے کسی کے ساتھ محبت نہیں رکھتا ، اور اللہ تعالی کے لیے کسی کے ساتھ بغض نہیں رکھتا ، جب وہ اللہ تعالیٰ کے لیے محبت رکھتا ہے ، اور اللہ تعالیٰ کے لیے بغض رکھتا ہے ، تو وہ ولایت کا مستحق ہو جاتا ہے ( حدیث قدسی میں ، اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ) ” میرے بندوں میں سے ، میرے اولیاء اور میری مخلوق میں سے ، میرے محبوب بندے ، وہ ہیں کہ میرے ذکر کے ساتھ اُن کا ذکر کیا جاتا ہے ، اور اُن کے ذکر کے ساتھ میرا ذکر کیا جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی رشدین ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 304
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 305
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ أَفْضَلِ الْإِيمَانِ ، قَالَ : " أَنْ تُحِبَّ لِلَّهِ ، وَتُبْغِضَ لِلَّهِ ، وَتُعْمِلَ لِسَانَكَ فِي ذِكْرِ اللَّهِ " . قَالَ : وَمَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " وَأَنْ تُحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ ، وَتَكْرَهَ لَهُمْ مَا تَكْرَهُ لِنَفْسِكَ " ، وَزَادَ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى : " وَأَنْ تَقُولَ خَيْرًا أَوْ تَصْمُتَ " . ¤ وَفِي الْأُولَى رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، وَفِي الثَّانِيةِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ . رَوَاهُمَا أَحْمَدُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : اُنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل ایمان کے بارے میں سوال کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ کہ تم اللہ تعالیٰ کے لئے محبت رکھو ، اللہ تعالیٰ کے لیے بغض رکھو ، اور اپنی زبان کو اللہ کے ذکر کے لیے استعمال کرو ! سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! وہ کیسے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یوں کہ تم لوگوں کے لیے وہی چیز پسند کرو ، جو تم اپنے لیے پسند کرتے ہو ، اور تم لوگوں کے لیے وہی چیز ناپسند کرو ، جو تم اپنے لیے ناپسند کرتے ہو “ ۔
ایک اور روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں : ” اور یہ کہ تم بھلائی کی بات کہو یا پھر خاموش رہو “ ۔
پہلی روایت میں رشدین بن سعد ہے ، اور دوسری روایت میں ابن لہیعہ ہے ، اور یہ دونوں راوی ضعیف ہیں ، یہ دونوں روایات امام أحمد نے نقل کی ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 305
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 247/5 اورده المؤلف فى زوائد المسند 116»
حدیث نمبر: 306
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَيُّ عُرَى الْإِسْلَامِ أَوْثَقُ ؟ " . فَقَالُوا : الصَّلَاةُ . قَالَ : " حَسَنَةٌ ، وَمَا هِيَ بِهَا ؟ " قَالُوا : صِيَامُ رَمَضَانَ . قَالَ : " حَسَنٌ ، وَمَا هُوَ بِهِ ؟ " قَالُوا : الْجِهَادُ . قَالَ : " حَسَنٌ ، وَمَا هُوَ بِهِ ؟ " قَالَ : " إِنَّ أَوْثَقَ عُرَى الْإِيمَانِ أَنْ تُحِبَّ لِلَّهِ وَتُبْغِضَ فِي اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَضَعَّفَهُ الْأَكْثَرُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، آپ نے دریافت کیا : اسلام کی کون سی رسی زیادہ مضبوط ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : نماز ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ اچھی ہے ، لیکن یہ مراد نہیں ہے ، لوگوں نے عرض کی : رمضان کے روزے ، آپ نے فرمایا : یہ بھی اچھے ہیں لیکن یہ مراد نہیں ہے ، لوگوں نے عرض کی : جہاد کرنا ، آپ نے فرمایا : یہ بھی اچھا ہے ، لیکن یہ مراد نہیں ہے ، پھر آپ نے فرمایا : اسلام کی سب سے مضبوط رسی یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے لئے محبت رکھو اور اللہ کے لیے بغض رکھو ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، جسے اکثر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 306
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 286/4 أورده المؤلف فى زوائد المسند 118»
حدیث نمبر: 307
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَتَدْرُونَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ ؟ " قَالَ قَائِلٌ : الصَّلَاةُ وَالزَّكَاةُ ، وَقَالَ قَائِلٌ : الْجِهَادُ . قَالَ : " إِنَّ أَحَبَّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - الْحُبُّ لِلَّهِ ، وَالْبُغْضُ لِلَّهِ " . ¤ قُلْتُ : عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ طَرَفٌ مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : کیا تم لوگ جانتے ہو ؟ کون سا عمل ، اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ ہے ؟ کسی نے کہا: نماز اور زکوۃ ، کسی نے کہا: جہاد ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی خاطر کسی سے محبت رکھی جائے اور اللہ تعالیٰ کی خاطر کسی سے بغض رکھا جائے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ،
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک ایسا شخص ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 307
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 146/5 اورده المؤلف فى زوائد المستد 119»
حدیث نمبر: 308
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ أَحَبَّ لِلَّهِ - وَقَالَ هَاشِمٌ - : مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَجِدَ طَعْمَ الْإِيمَانِ فَلْيُحِبَّ الْمَرْءَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص اللہ تعالیٰ کی خاطر محبت رکھے ۔ یہاں ہاشم نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ۔ جس شخص کو یہ بات پسند ہو کہ وہ ایمان کا ذائقہ چکھ لے ، اُسے کسی ایسے شخص کے ساتھ محبت رکھنی چاہیے ، جس کے ساتھ ، وہ صرف اللہ تعالیٰ کی خاطر محبت رکھے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 308
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 289/2 اورده المؤلف فى زوائد المستد 120 اورده المؤلف فى كشف الاستار 63»
حدیث نمبر: 309
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَابْنَ مَسْعُودٍ ، أَيُّ عُرَى الْإِيمَانِ أَوْثَقُ ؟ " قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : " أَوْثَقُ عُرَى الْإِسْلَامِ : الْوِلَايَةُ فِي اللَّهِ ، وَالْحُبُّ فِي اللَّهِ ، وَالْبُغْضُ فِي اللَّهِ " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَهُوَ بِتَمَامِهِ فِي الْعِلْمِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ عَقِيلُ بْنُ الْجَعْدِ ، قَالَ الْبُخَارِيُّ : مُنْكَرُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابن مسعود ! ایمان کی کون سی رسی سب سے زیادہ مضبوط ہے ؟ میں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اسلام کی سب سے مضبوط رسی اللہ تعالیٰ کے لیے دوستی رکھنا ہے ، اللہ تعالیٰ کے لیے محبت رکھنا ہے ، اور اللہ تعالیٰ کے لیے بغض رکھنا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، یہ مکمل روایت علم سے متعلق باب میں آئے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عقیل بن جعد ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : یہ منکر الحدیث ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 309
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الصغير 10357 ، 10531 اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الصغير 223/1»
حدیث نمبر: 310
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ أَحَبَّ لِلَّهِ وَأَبْغَضَ لِلَّهِ ، وَأَعْطَى لِلَّهِ وَمَنَعَ لِلَّهِ ; فَقَدِ اسْتَكْمَلَ الْإِيمَانَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ صَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّمِينُ ، ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَأَحْمَدُ وَغَيْرُهُمَا ، وَقَالَ أَبُو حَاتِمٍ : مَحَلُّهُ الصِّدْقُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص اللہ تعالیٰ کے لیے کسی سے محبت رکھتا ہے ، اللہ تعالیٰ کے لیے بغض رکھتا ہے ، اللہ تعالیٰ کے لیے ( کسی کو کچھ ) دیتا ہے ، اللہ تعالیٰ کے لیے روک لیتا ( یعنی نہیں دیتا ) ہے ، وہ ایمان کو مکمل کر لیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صدقہ بن عبداللہ سمین ہے ، جسے امام بخاری رحمہ اللہ ، امام أحمد اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ، امام ابوحاتم فرماتے ہیں : اس کا محل صدق ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 310
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 7613 اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 9083»
حدیث نمبر: 311
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : إِنَّ مِنَ الْإِيمَانِ أَنْ يُحِبَّ الرَّجُلُ أَخَاهُ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ إِسْحَاقُ الدَّبَرِيُّ ، وَهُوَ مُنْقَطِعٌ بَيْنَ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَأَبِي إِسْحَاقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں : ایمان میں یہ بات بھی شامل ہے کہ آدمی اپنے بھائی کے ساتھ یوں محبت رکھے کہ وہ اُس کے ساتھ صرف ، اللہ تعالیٰ کی خاطر محبت رکھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسحاق طبری ہے ، اور
یہ روایت ” منقطع “ ہے اور یہ ” انقطاع “ عبدالرزاق نامی راوی اور ابواسحاق نامی راوی کے درمیان ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 311
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف،
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 8860»
حدیث نمبر: 312
وَعَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ لِي : أَحِبَّ فِي اللَّهِ ، وَأَبْغِضْ فِي اللَّهِ ، وَوَالِ فِي اللَّهِ ، وَعَادِ فِي اللَّهِ ; فَإِنَّهُ لَا تُنَالُ وِلَايَةُ اللَّهِ إِلَّا بِذَلِكَ ، وَلَا يَجِدُ رَجُلٌ طَعْمَ الْإِيمَانِ - وَإِنْ كَثُرَتْ صَلَاتُهُ وَصِيَامُهُ - حَتَّى يَكُونَ كَذَلِكَ ، وَصَارَتْ مُؤَاخَاةُ النَّاسِ فِي أَمْرِ الدُّنْيَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَالْأَكْثَرُ عَلَى ضَعْفِهِ . وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ فِيمَنْ يَغْضَبُ لِلَّهِ وَيَرْضَى لِلَّهِ . ¤
محمد محی الدین
مجاہد نے ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے : اُنہوں نے مجھ سے فرمایا : اللہ تعالیٰ کی خاطر محبت رکھو ! اللہ تعالیٰ کی خاطر بغض رکھو ، اللہ تعالیٰ کی خاطر دوستی رکھو ، اللہ تعالیٰ کی خاطر دشمنی رکھو ، اللہ تعالیٰ کی ولایت تک صرف اس ( عمل ) کے ذریعے ہی پہنچا جا سکتا ہے ، اور آدمی نے خواہ کتنی ہی نمازیں پڑھی ہوں اور روزے رکھے ہوں ، وہ ایمان کا ذائقہ اُس وقت تک نہیں پا سکتا ، جب تک وہ ایسا نہیں ہو جاتا ، لوگوں کا بھائی چارہ ، تو دنیاوی معاملے کے حوالے سے ہوتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، اکثر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اس سے پہلے سیدنا عمرو بن حمق رضی اللہ عنہ کے حوالے سے حدیث گزر چکی ہے ، جو اُس شخص کے بارے میں ہے ، جو اللہ تعالیٰ کی خاطر غضبناک ہوتا ہے ، اور اللہ تعالیٰ کی خاطر راضی ہوتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 312
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 13537»