حدیث نمبر: 300
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لِلَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - حُرُمَاتٌ ثَلَاثٌ ، مَنْ حَفِظَهُنَّ حَفِظَ اللَّهُ لَهُ أَمْرَ دِينِهِ وَدُنْيَاهُ ، وَمَنْ لَمْ يَحْفَظْهُنَّ لَمْ يَحْفَظِ اللَّهُ لَهُ شَيْئًا : حُرْمَةُ الْإِسْلَامِ ، وَحُرْمَتِي ، وَحُرْمَةُ رَحِمِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَلَمْ أَرَ مَنْ وَثَّقَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی حرمتیں تین ہیں ، جو شخص اُن کی حفاظت کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اُس شخص کے دین اور دنیا کی حفاظت کرتا ہے ، اور جو شخص اُن کی حفاظت نہیں کرتا ، اللہ تعالیٰ بھی اُس کی کسی چیز کی حفاظت نہیں کرتا ، اسلام کی حرمت ، میری حرمت اور میرے رشتہ داروں کی حرمت “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن حماد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں نے کسی کو اُس کی توثیق کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن حماد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں نے کسی کو اُس کی توثیق کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
حدیث نمبر: 301
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ : أَنْ يَكُونَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا ، وَأَنْ يُحِبَّ الْعَبْدَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ ، وَأَنْ يُلْقَى فِي النَّارِ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَرْجِعَ فِي الْكُفْرِ بَعْدَ إِذْ أَنْقَذَهُ اللَّهُ مِنْهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ فَضَّالُ بْنُ جُبَيْرٍ لَا يَحِلُّ الِاحْتِجَاجُ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تین چیزیں جس شخص میں ہوں گی ، وہ ایمان کی حلاوت کو پا لے گا ، یہ کہ اللہ اور اُس کا رسول ، اس شخص کے نزدیک اُن دونوں کے علاوہ ، ہر ایک سے زیادہ محبوب ہوں ، یہ کہ وہ کسی بندے کے ساتھ محبت رکھتا ہو اور وہ اُس ( بندے ) کے ساتھ صرف اللہ تعالیٰ کے لئے محبت رکھتا ہو ، اور یہ کہ آگ میں ڈالا جانا ، اُس کے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہو ، کہ وہ کفر کی طرف واپس چلا جائے ، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے اُسے کفر سے بچا لیا ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فضال بن جبیر ہے ، جس سے استدلال کرنا جائز نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فضال بن جبیر ہے ، جس سے استدلال کرنا جائز نہیں ہے ۔