کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: بے شک اللہ تعالی سوتا نہیں ہے
حدیث نمبر: 273
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَحْكِي عَنْ مُوسَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ - عَلَى الْمِنْبَرِ ، قَالَ : " وَقَعَ فِي نَفْسِهِ : هَلْ يَنَامُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - ؟ فَأَرْسَلَ اللَّهُ إِلَيْهِ مَلَكًا ، فَأَرَّقَهُ ثَلَاثًا ، ثُمَّ أَعْطَاهُ قَارُورَتَيْنِ ، فِي كُلِّ يَدٍ قَارُورَةٌ ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَحْتَفِظَ بِهِمَا ، قَالَ : فَجَعَلَ يَنَامُ وَتَكَادُ يَدَاهُ تَلْتَقِيَانِ ، ثُمَّ يَسْتَيْقِظُ فَيَحْبِسُ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى ، حَتَّى نَامَ نَوْمَةً ، فَاصْطَفَقَتْ يَدَاهُ فَانْكَسَرَتِ الْقَارُورَتَانِ . قَالَ : فَضَرَبَ اللَّهُ لَهُ مَثَلَهُ : أَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - لَوْ كَانَ يَنَامُ لَمْ تَسْتَمْسِكِ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ أُمَيَّةُ بْنُ شِبْلٍ ، ذَكَرَهُ الذَّهَبِيُّ فِي الْمِيزَانِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَنَّ أَحَدًا ضَعَّفَهُ ، وَإِنَّمَا ذَكَرَ لَهُ هَذَا الْحَدِيثَ وَضَعَّفَهُ بِهِ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . قُلْتُ : ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر ، سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں یہ بات بیان کر رہے تھے : ” ایک مرتبہ ان کے ذہن میں خیال آیا ، کیا اللہ تعالیٰ سوتا ہے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتے کو اُن کی طرف بھیجا ، اس نے تین دن انہیں بیدار رکھا ، پھر اس نے انہیں شیشے کے دو بوتلیں دیں ، ان کے ہر ایک ہاتھ میں ایک بوتل رکھ دی ، اور انہیں یہ ہدایت کی کہ وہ ان دونوں کی حفاظت کریں ، جب انہیں اونگھ آنے لگتی ، اور اُن کے ہاتھ سے بوتل گرنے لگتی ، تو وہ بیدار ہو جاتے اور انہیں ایک دوسرے کے ساتھ نہ ٹکرانے دیتے ، آخر کار انہیں نیند آ گئی ، اُن کے ہاتھ ملے اور دونوں بوتلیں ٹوٹ گئیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تو یوں اللہ تعالیٰ نے اُن کے سامنے مثال بیان کی کہ اگر اللہ تعالیٰ سو جائے تو آسمان اور زمین اپنی جگہ پر قائم نہیں رہیں گے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی امیہ بن شبل ہے ، امام ذہبی نے اس کا ذکر ” میزان الاعتدال “ میں کیا ہے ، لیکن انہوں نے یہ ذکر نہیں کیا کہ کسی نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، انہوں نے اس راوی کے حوالے سے یہ حدیث نقل کی ہے اور اس راوی کی وجہ سے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ابن حبان نے اس راوی کا ذکر کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 273
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام ابو يعلى فى مسنده 6639»