حدیث نمبر: 271
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الْعَطَّارِ ، إِنْ جَالَسْتَهُ نَفْعَكَ ، وَإِنْ مَاشَيْتَهُ نَفْعَكَ ، وَإِنْ شَارَكْتَهُ نَفْعَكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” مؤمن کی مثال عطار کی مانند ہے ، اگر تم اُس کے ساتھ بیٹھو گے ، تو وہ تمہیں نفع پہنچائے گا ، اگر تم اس کے ساتھ چلو گے ، تو وہ تمہیں نفع پہنچائے گا ، اگر تم اُس کے ساتھ شراکت کرو گے ، تو وہ تمہیں نفع پہنچائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 271
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 272
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ النَّخْلَةِ ، مَا أَتَاكَ مِنْهَا نَفَعَكَ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلِهِ : " مَا أَتَاكَ مِنْهَا نَفَعَكَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ ، وَسُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ضَعِيفٌ فِيمَا رَوَاهُ عَنِ الزُّهْرِيِّ ، وَلَمْ يَرْوِ هَذَا عَنِ الزُّهْرِيِّ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ فِي " مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ الْخَامَةِ " وَغَيْرِ ذَلِكَ ، بَعْضُهَا فِي الْمَرَضِ وَثَوَابِهِ وَفِي الْجَنَائِزِ ، وَبَعْضُهَا فِي الْأَدَبِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” مؤمن کی مثال کھجور کے درخت کی مانند ہے ، اُس میں سے جو بھی چیز تمہارے پاس آئے گی ، وہ تمہیں نفع پہنچائے گی “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ حدیث ” صحیح “ میں منقول ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” اس میں سے جو چیز تمہارے پاس آئے گی ، وہ تمہیں نفع پہنچائے گی “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، سفیان بن حسین نامی راوی ، زہری سے جو روایات نقل کرتا ہے ، اُن میں اُسے ضعیف قرار دیا گیا ہے ، اور یہ روایت اُس نے زہری سے نقل نہیں کی ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : مؤمن کی مثال کھجور کے درخت کی مانند ہونے کے حوالے سے روایات آگے آئیں گی ، ان میں سے کچھ بیماری اور اُس کے ثواب سے متعلق باب میں ہوں گی ، کچھ جنائز سے متعلق باب میں ہوں گی اور بعض ادب سے متعلق باب میں ہوں گی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 272
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحیح
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى كشف الاستار 43»