حدیث نمبر: 189
عَنِ الْحَارِثِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ مَرَّ بِالنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ : " كَيْفَ أَصْبَحْتَ يَا حَارِثَةُ ؟ " قَالَ : أَصْبَحْتُ مُؤْمِنًا حَقًّا . قَالَ : " انْظُرْ مَا تَقُولُ ; فَإِنَّ لِكُلِّ قَوْلٍ حَقِيقَةً ، فَمَا حَقِيقَةُ إِيمَانِكَ ؟ " قَالَ : عَزَفَتْ نَفْسِي عَنِ الدُّنْيَا ، فَأَسْهَرْتُ لَيْلِي ، وَأَظْمَأْتُ نَهَارِي ، وَكَأَنِّي أَنْظُرُ عَرْشَ رَبِّي بَارِزًا ، وَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى أَهْلِ الْجَنَّةِ يَتَزَاوَرُونَ فِيهَا ، وَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى أَهْلِ النَّارِ يَتَضَاغَوْنَ فِيهَا . قَالَ : " يَا حَارِثَةُ ، عَرَفْتَ فَالْزَمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَفِيهِ مَنْ يَحْتَاجُ إِلَى الْكَشْفِ عَنْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حارث بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ اُن کا گزر ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ہوا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے حارثہ ! تم نے کس حال میں صبح کی ہے ( یا تمہاری کیفیت کیا ہوتی ہے ؟ ) تو سیدنا حارثہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : میں نے ایسی حالت میں صبح کی ( یا میری کیفیت یہ ہے : ) کہ میں حقیقی مؤمن ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس بات کا جائزہ لو ! کہ تم کیا کہہ رہے ہو ؟ ہر قول کی کوئی حقیقت ہوتی ہے تو تمہارے ایمان کی حقیقت کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : میں نے اپنے آپ کو دنیا سے لاتعلق کر لیا ہے ، اور میں رات بھر جاگتا ہوں ( یعنی عبادت کرتا رہتا ہوں ) اور دن کو پیاسا رہتا ہوں ( یعنی نفلی روزہ رکھتا ہوں ) اور مجھے یوں لگتا ہے جیسے میں اپنے پروردگار کے عرش کو دیکھ رہا ہوں ، اور مجھے یوں لگتا ہے جیسے میں اہل جنت کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ ایک دوسرے سے ملاقات کر رہے ہیں ، اور مجھے یوں لگتا ہے جیسے میں اہل جہنم کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ اُس ( جہنم ) میں چیخ و پکار کر رہے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم نے معرفت حاصل کر لی ہے ، تو اس کا دھیان رکھنا ! ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس میں ایسے راوی بھی ہیں ، جن کی تحقیق کی ضرورت ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس میں ایسے راوی بھی ہیں ، جن کی تحقیق کی ضرورت ہے ۔
حدیث نمبر: 190
وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَقِيَ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ : حَارِثَةُ ، فِي بَعْضِ سِكَكِ الْمَدِينَةِ ، فَقَالَ : " كَيْفَ أَصْبَحْتَ يَا حَارِثَةُ ؟ " قَالَ : أَصْبَحْتُ مُؤْمِنًا حَقًّا . قَالَ : " إِنَّ لِكُلِّ إِيمَانٍ حَقِيقَةً ، فَمَا حَقِيقَةُ إِيمَانِكَ ؟ " قَالَ : عَزَفَتْ نَفْسِي عَنِ الدُّنْيَا ، فَأَظْمَأْتُ نَهَارِي ، وَأَسْهَرْتُ لَيْلِي ، وَكَأَنِّي بِعَرْشِ رَبِّي بَارِزًا ، وَكَأَنِّي بِأَهْلِ الْجَنَّةِ فِي الْجَنَّةِ يَتَنَعَّمُونَ فِيهَا ، وَكَأَنِّي بِأَهْلِ النَّارِ فِي النَّارِ يُعَذَّبُونَ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَصَبْتَ فَالْزَمْ ، مُؤْمِنٌ نَوَّرَ اللَّهُ قَلْبَهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ عَطِيَّةَ لَا يُحْتَجُّ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات مدینہ منورہ کی کسی گلی میں ، ایک صاحب سے ہوئی ، جن کا نام حارثہ تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا ہے : اے حارثہ ! تم نے کس حال میں صبح کی ہے ؟ انہوں نے عرض کی : میں نے حقیقی مومن ہونے کے عالم میں صبح کی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہر ایمان کی کوئی حقیقت ہوتی ہے ، تو تمہارے ایمان کی حقیقت کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : میرا من دنیا سے اچاٹ ہو گیا ہے ، تو میں دن میں پیاسا رہتا ہوں اور رات میں جاگتا رہتا ہوں ، مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ میرے پروردگار کا عرش میرے سامنے ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ میں اہل جنت کو ، جنت میں نعمتوں سے لطف اندوز ہوتے ہوئے دیکھ رہا ہوں ، اور اہل جہنم کو ، جہنم میں عذاب کا شکار ہوتے دیکھ رہا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم ٹھیک ہو ! اس کا دھیان رکھنا ، ( تم ایک ایسے ) مؤمن ہو ، جس کے دل کو اللہ تعالیٰ نے نور عطا کیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن عطیہ ہے ، جس سے استدلال نہیں کیا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن عطیہ ہے ، جس سے استدلال نہیں کیا جاتا ہے ۔