حدیث نمبر: 191
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا يَبْلُغُ عَبْدٌ حَقِيقَةَ الْإِيمَانِ حَتَّى يَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَهُ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَهُ ، وَمَا أَخْطَأَهُ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَقَالَ : إِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بندہ ایمان کی حقیقت تک اُس وقت تک نہیں پہنچ سکتا ، جب تک وہ یہ نہیں جان لیتا کہ جو چیز اسے ملنی ہے وہ ملے بغیر نہیں رہے گی ، اور جو چیز اسے نہیں ملنی ہے ، وہ اسے کبھی نہیں ملے گی “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، وہ فرماتے ہیں : اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، وہ فرماتے ہیں : اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 192
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَحِقُّ الْعَبْدُ حَقِيقَةَ الْإِيمَانِ حَتَّى يَغْضَبَ لِلَّهِ ، وَيَرْضَى لِلَّهِ ، فَإِذَا فَعَلَ ذَلِكَ اسْتَحَقَّ حَقِيقَةَ الْإِيمَانِ ، وَإِنَّ أَحْبَابِي وَأَوْلِيَائِي الَّذِينَ يُذْكَرُونَ بِذِكْرِي ، وَأُذْكَرُ بِذِكْرِهِمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، وَالْأَكْثَرُ عَلَى تَضْعِيفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن حمق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بندہ ، ایمان کی حقیقت کا حقدار ، اُس وقت تک نہیں ہوتا ، جب تک وہ اللہ تعالٰی کے لئے غضب ناک نہیں ہوتا ، اور اللہ تعالٰی کے لئے راضی نہیں ہوتا ، جب وہ ایسا کر لیتا ہے ، تو وہ ایمان کی حقیقت کا مستحق بن جاتا ہے ( اللہ تعالٰی حدیث قدسی میں فرماتا ہے : ) ” میرے محبوب بندے اور میرے ولی وہ ہیں ، جن کا ذکر ، میرے ذکر کے ساتھ کیا جاتا ہے ، اور میرا ذکر ، اُن کے ذکر کے ساتھ کیا جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے ، زیادہ تر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے ، زیادہ تر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔