حدیث نمبر: 184
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : ثَلَاثُ خِلَالٍ مَنْ جَمَعَهُنَّ فَقَدْ جَمَعَ خِلَالَ الْإِيمَانِ ، فَقَالَ لَهُ بَعْضُ أَصْحَابِهِ : يَا أَبَا الْيَقْظَانِ ، مَا هَذِهِ الْخِلَالُ الَّتِي زَعَمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : مَنْ جَمَعَهُنَّ فَقَدْ جَمَعَ الْإِيمَانَ ؟ فَقَالَ عَمَّارُ عِنْدَ ذَلِكَ : سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " الْإِنْفَاقُ مِنَ الْإِقْتَارِ ، وَالْإِنْصَافُ مِنْ نَفْسِكَ ، وَبَذْلُ السَّلَامِ لِلْعَالَمِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْقَاسِمُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : تین خصائل جو شخص جمع کر لے گا ، وہ ایمان کے خصائل جمع کر لے گا ، اُن کے ساتھیوں میں سے کسی نے اُن سے دریافت کیا : اے ابوالیقظان ! وہ خصائل کیا ہیں ؟ جن کے بارے میں آپ کا یہ کہنا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے کہ جو انہیں جمع کر لے گا ، وہ ایمان کو جمع کر لے گا ، تو اُس وقت سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ( یعنی وہ خصائل درج ذیل ہیں : ) ” تنگدستی کے وقت خرچ کرنا ، اپنی ذات کی طرف سے انصاف کرنا ، اور سب کو سلام کرنا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی قاسم ابوعبدالرحمن ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی قاسم ابوعبدالرحمن ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 185
وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ اسْتَوْجَبَ الثَّوَابَ وَاسْتَكْمَلَ الْإِيمَانَ : خُلُقٌ يَعِيشُ بِهِ فِي النَّاسِ ، وَوَرَعٌ يَحْجِزُهُ عَنْ مَحَارِمِ اللَّهِ ، وَحِلْمٌ يَرُدُّهُ عَنْ جَهْلِ الْجَاهِلِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ الْبَزَّارُ : حَدَّثَ بِأَحَادِيثَ لَا يُتَابِعُ عَلَيْهَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تین چیزیں جس شخص میں ہوں گی ، وہ ثواب کو واجب کر دے گا اور ایمان کو مکمل کر لے گا ، ( ایسے اچھے ) اخلاق ، جن کے ہمراہ وہ لوگوں کے ساتھ برتاؤ کرے ، پرہیزگاری ، جو اُسے اللہ تعالیٰ کی حرام قرار دی ہوئی چیزوں سے بچا کے رکھے ، اور بردباری ، جو اُسے ( کسی ) جاہل کے خلاف جہالت ( کا مظاہرہ ) نہ کرنے دے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سلیمان ہے ، امام بزار فرماتے ہیں ۔ اس نے ایسی احادیث روایت کی ہیں ، جن کی متابعت نہیں کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سلیمان ہے ، امام بزار فرماتے ہیں ۔ اس نے ایسی احادیث روایت کی ہیں ، جن کی متابعت نہیں کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 186
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا يَسْتَقِيمُ إِيمَانُ عَبْدٍ حَتَّى يَسْتَقِيمَ قَلْبُهُ وَلَا يَسْتَقِيمُ قَلْبُهُ حَتَّى يَسْتَقِيمَ لِسَانُهُ وَلَا يُدْخُلُ الْجَنَّةَ حَتَّى يَأْمَنَ جَارُهُ بَوَائِقَهُ " رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ : عَلِيُّ بَنُ مَسْعَدَةَ ، وَثَّقَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ .
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بندے کا ایمان ، اُس وقت تک ٹھیک نہیں ہوتا ، جب تک اُس کا دل ٹھیک نہیں ہوتا اور اُس کا دل اس وقت تک ٹھیک نہیں ہوتا جب تک اُس کی زبان ٹھیک نہیں ہوتی ، اور وہ اُس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہو گا ، جب تک اُس کا پڑوسی اُس کی زیادتیوں سے محفوظ نہ ہو “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی علی بن مسعدہ ہے ، جسے یحییٰ بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ امام نسائی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی علی بن مسعدہ ہے ، جسے یحییٰ بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ امام نسائی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 187
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي : ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ ، وَلَا دِينَ لِمَنْ لَا عَهْدَ لَهُ ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَا يَسْتَقِيمُ دِينُ عَبْدٍ حَتَّى يَسْتَقِيمَ لِسَانُهُ ، ولا يَسْتَقِيمُ لِسَانُهُ حَتَّى يَسْتَقِيمَ قَلْبُهُ ، وَلَا يُدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ " قِيلَ : مَا الْبَوَائِقُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " غِشُّهُ وَظُلْمُهُ ، وَأَيَّمَا رَجُلٌ أَصَابَ مَالًا مِنْ حَرَامٍ ، وَأَنْفَقَ مِنْهُ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ ، وَإِنْ تَصَدَّقَ لَمْ يُقْبَلْ ، وَمَا بَقِيَ فَزَادُهُ إِلَى النَّارِ ، وَإِنَّ الْخَبِيثَ لَا يُكَفِّرُ الْخَبِيثَ ، وَلَكِنَّ الطَّيِّبَ يُكَفِّرُ " رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ : حُصَيْنُ بْنُ مَذْعُورٍ ، عَنْ فَرَسٍ التِّيمِيِّ ، وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُمَا .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : اُس شخص کا ایمان نہیں ، جس کی امانت نہ ہو ، اور اُس شخص کا دین نہیں ، جس کا عہد نہ ہو ، اُس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے ، آدمی کا دین اس وقت تک ٹھیک نہیں ہوتا ، جب تک اُس کی زبان ٹھیک نہ ہو ، اور اُس کی زبان اُس وقت تک ٹھیک نہیں ہوتی ، جب تک اُس کا دل ٹھیک نہ ہو اور آدمی اُس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہو گا ، جب تک اُس کا پڑوسی اس کی زیادتیوں سے محفوظ نہ ہو ، عرض کی گئی : اُس کی زیادتیوں سے کیا مراد ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کا دھوکہ دینا اور ظلم کرنا ، ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا : ) جو شخص حرام طور پر مال حاصل کرے اور پھر اُس میں سے خرچ کرے ، تو اُس کے لیے اُس مال میں برکت نہیں رکھی جائے گی ، اور اگر وہ ( اس مال کو ) صدقہ کرے گا ، تو وہ قبول نہیں ہو گا ، اور جو مال بچ جائے گا ، وہ جہنم کی طرف جانے کے لیے اُس کا زاد سفر ہو گا ، بیشک خبیث کسی خبیث کو ختم نہیں کرتا ، بلکہ پاکیزہ چیز ( خبیث چیز ) کو ختم کرتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں یہ مذکور ہے کہ اسے حصین بن مذعور نے فرس تیمی سے نقل کیا ہے اور میں نے کسی کو ان دونوں کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں یہ مذکور ہے کہ اسے حصین بن مذعور نے فرس تیمی سے نقل کیا ہے اور میں نے کسی کو ان دونوں کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
حدیث نمبر: 188
وَعَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ : قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ : الصَّبْرُ نِصْفُ الْإِيمَانِ ، وَالْيَقِينُ الْإِيمَانُ كُلُّهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
علقمہ بیان کرتے ہیں : عبیداللہ فرماتے ہیں : ” صبر ، نصف ایمان ہے اور یقین ، مکمل ایمان ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔