کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس سے متعلق دیگر روایات
حدیث نمبر: 141
وَعَنْ مَعْنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَأَخَذَ بِخِطَامِ نَاقَةِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ يُقَرِّبُنِي مِنَ الْجَنَّةِ وَيُبَاعِدُنِي مِنَ النَّارِ ، فَقَالَ : " لَقَدْ أَوْجَزْتَ فِي الْمَسْأَلَةِ ، وَلَقَدْ أَعْرَضْتَ : تَعْبُدُ اللَّهَ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا ، وَتُصَلِّي الْخَمْسَ ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ ، وَمَا كَرِهْتَ أَنْ يَأْتِيَهُ النَّاسُ إِلَيْكَ فَاكْرَهْهُ لَهُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ وَائِلٌ أَبُو كُلَيْبِ بْنُ وَائِلٍ ، لَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معن بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی آیا اور اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی لگام پکڑ لی اور بولا: اے اللہ کے نبی ! آپ میری رہنمائی ایسے عمل کی طرف کیجئے ، جو مجھے جنت کے قریب کر دے اور وہ مجھے جہنم سے دور کر دے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم نے مختصر سوال کیا ہے ، لیکن بڑی بات پوچھ لی ہے ، تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور کسی کو اُس کا شریک نہ ٹھہراؤ ، تم پانچ نمازیں ادا کرو ، تم رمضان کے روزے رکھو اور جس چیز کے بارے میں تم یہ ناپسند کرتے ہو کہ لوگ تمہارے ساتھ ایسا کریں ، تو اس چیز کو تم بھی اُن لوگوں کے لیے ناپسند کرو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی وائل ابوکلیب بن وائل ہے ، میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 141
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 142
وَعَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي حِجَّةِ الْوَدَاعِ : " إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ الْمُصَلُّونَ ، وَمَنْ يُقِيمُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ الَّتِي كَتَبَهُنَّ اللَّهُ عَلَيْهِ ، وَيَصُومُ رَمَضَانَ وَيَحْتَسِبُ صَوْمَهُ ، وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ مُحْتَسِبًا طَيِّبَةً بِهَا نَفْسُهُ ، وَيَجْتَنِبُ الْكَبَائِرَ الَّتِي نَهَى اللَّهُ عَنْهَا " . فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَكَمِ الْكَبَائِرُ ؟ قَالَ : هِيَ تِسْعٌ ، أَعْظَمُهُنَّ : الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ ، وَقَتْلُ الْمُؤْمِنِ بِغَيْرِ حَقٍّ ، وَالْفِرَارُ مِنَ الزَّحْفِ ، وَقَذْفُ الْمُحْصَنَةِ ، وَالسِّحْرُ ، وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ ، وَأَكْلُ الرِّبَا ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ الْمُسْلِمَيْنِ ، وَاسْتِحْلَالُ الْبَيْتِ الْعَتِيقِ الْحَرَامِ قِبْلَتِكُمْ ، أَحْيَاءً أَمْوَاتًا ، لَا يَمُوتُ رَجُلٌ لَمْ يَعْمَلْ هَؤُلَاءِ الْكَبَائِرَ ، وَيُقِيمُ الصَّلَاةَ ، وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ إِلَّا رَافَقَ مُحَمَّدًا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بُحْبُوحَةِ جَنَّةٍ ، أَبْوَابُهَا مَصَارِيعُ الذَّهَبِ " . ¤ قُلْتُ : عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ بَعْضُهُ . ¤ وَقَدْ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
عبیداللہ بن عمیر لیثی ، اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : حجتہ الوداع کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ کے دوست نمازی ہیں ، جو شخص پانچ نمازیں ادا کرتا ہے ، جو اللہ تعالیٰ نے اُس پر لازم کی ہیں اور وہ رمضان کے روزے رکھتا ہے اور اپنے روزے رکھنے کے حوالے سے ثواب کی امید رکھتا ہے ، اور وہ ثواب کی امید رکھتے ہوئے اپنی خوشی کے ساتھ زکوٰۃ ادا کرتا ہے ، اور اُن کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرتا ہے ، جن سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے ( تو ایسے لوگ بھی اللہ کے دوست ہیں ) “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ، ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کبیرہ گناہ کتنے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : ” وہ نو ہیں ، جن میں سب سے بڑا ( گناہ ) کسی کو اللہ کا شریک قرار دینا ہے ( اور دوسرے کبیرہ گناہ یہ ہیں : ) مؤمن کو ناحق قتل کرنا ، میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنا ، پاکدامن عورت پر الزام لگانا ، جادو کرنا ، یتیم کا مال کھانا ، سود کھانا مسلمان والدین کی نافرمانی کرنا ، اور بیت عقیق کی بے حرمتی کرنا ، جو قابل احترام ہے ، اور زندگی اور موت ، ہر حال میں ۔ تمہارا قبلہ ہے ، جو شخص ایسی حالت میں انتقال کرے کہ اُس نے ان میں سے کسی کبیرہ گناہ کا ارتکاب نہ کیا ہو ، اور وہ شخص نماز قائم کرتا ہو ، اور زکوۃ ادا کرتا ہو ، تو ایسا شخص جنت کے درمیان میں ، سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہو گا ، جس جنت کے دروازوں کے کواڑ سونے کے بنے ہوئے ہیں ، ، ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں کہ روایت کا کچھ حصہ امام ابوداؤد نے نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 142
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
حدیث نمبر: 143
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَلْقَيْنِ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ بِوَادِي الْقُرَى ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِمَا أُمِرْتَ ؟ قَالَ : " أُمِرْتُ أَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ، وَأَنْ تُقِيمُوا الصَّلَاةَ ، وَتُؤْتُوا الزَّكَاةَ . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ هَؤُلَاءِ ؟ قَالَ : " الْمَغْضُوبُ عَلَيْهِمْ " يَعْنِي : الْيَهُودَ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَؤُلَاءِ ؟ قَالَ : " الضَّالِّينَ " ، يَعْنِي : النَّصَارَى . قُلْتُ : فَلِمَنِ الْمَغْنَمُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " لِلَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - سَهْمٌ ، وَلِهَؤُلَاءِ أَرْبَعَةُ أَسْهُمٍ " . قَالَ : فَقُلْتُ : هَلْ أَحَدٌ أَحَقُّ بِالْمَغْنَمِ مِنْ أَحَدٍ ؟ قَالَ : لَا ، حَتَّى السَّهْمُ يَأْخُذُهُ أَحَدُكُمْ مِنْ جَنْبِهِ لَيْسَ بِأَحَقَّ بِهِ مِنْ أَحَدٍ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَإِسْنَادُهُ صَحِيحٌ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن شقیق نے ” بلقین “ سے تعلق رکھنے والے ، ایک صحابی کا یہ بیان نقل کیا ہے : میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت وادی قریٰ میں تھے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کو کس بات کا حکم دیا گیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ تم لوگ اللہ کی عبادت کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ اور تم لوگ نماز ادا کرو ، اور زکوۃ دو ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ لوگ ( یعنی یہودی ) کون ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( یہ وہ لوگ ہیں ) جن پر غضب کیا گیا ، میں نے عرض کی : یہ لوگ ( یعنی عیسائی ) کون ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( یہ وہ لوگ ہیں ) جو گراہ ہیں ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مال غنیمت کس کے لیے ہو گا ؟ آپ نے فرمایا : اللہ تعالی کے لیے ایک حصہ ( یعنی خمس یعنی پانچواں حصہ ) ہو گا ، اور چار حصے لوگوں کے لیے ہوں گے ، میں نے دریافت کیا : کیا کوئی ایک کسی دوسرے سے زیادہ مال غنیمت کا حقدار ہو گا ؟ آپ نے فرمایا : جی نہیں ! یہاں تک کہ جس حصے کو کوئی شخص اپنے پہلو میں لیتا ہے ، وہ بھی اس کے بارے میں کسی دوسرے سے زیادہ حقدار نہیں ہو گا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند صحیح ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 143
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «اخرجه الامام ابو يعلى فى مسنده 7143 أورده المؤلف فى المقصد العلى 21»
حدیث نمبر: 144
وَعَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ مُخْلِصًا بِهِمَا ، وَصَلَّى الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ ; حَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهُ عَلَى النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الصَّوَّافُ ، وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص اخلاص کے ساتھ ، اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور بیشک میں اللہ کا رسول ہوں ، اور وہ پانچ نمازیں ادا کرے ، تو اللہ تعالیٰ اس کو جہنم پر حرام قرار دیدے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابراہیم صواف ہے ، اور وہ متروک الحدیث ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 144
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 1495»