کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ان امور کا بیان، جن پر اسلام کی بنیاد ہے
حدیث نمبر: 137
عَنْ جَرِيرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ : شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ ، وَحَجِّ الْبَيْتِ ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالصَّغِيرِ ، وَإِسْنَادُ أَحْمَدَ صَحِيحٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے ، اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ ، اور کوئی معبود نہیں ہے ، نماز قائم کرنا ، زکوۃ ادا کرنا ، بیت اللہ کا حج کرنا ، اور رمضان کے روزے رکھنا“ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے ، جبکہ امام طبرانی نے مجم کبیر اور مجم صغیر میں نقل کی ہے ، امام أحمد کی سند صحیح ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 137
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 363/4364 اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الصغير 8/2، اخرجه الامام ابو يعلى فى مسنده 7464 ، 7469 اورده المؤلف فى زوائد المسند 43»
حدیث نمبر: 138
وَعَنْ عُمَارَةَ بْنِ حَزْمٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَرْبَعٌ فَرَضَهُنَّ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - فِي الْإِسْلَامِ ، فَمَنْ جَاءَ بِثَلَاثٍ لَمْ يُغْنِينَ عَنْهُ شَيْئًا حَتَّى يَأْتِيَ بِهِنَّ جَمِيعًا : الصَّلَاةُ ، وَالزَّكَاةُ ، وَصِيَامُ رَمَضَانَ ، وَحَجُّ الْبَيْتِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ ابْنُ لَهِيعَةَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمارہ بن حزم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” چار امور ہیں ، جنہیں اللہ تعالیٰ نے اسلام میں فرض قرار دیا ہے ، جو شخص ان میں سے تین لے آئے گا ، تو وہ اس کے کسی کام نہیں آئیں گے ، جب تک وہ اُن سب پر عمل پیرا نہیں ہوتا ، نماز ، زکوۃ ، رمضان کے روزے ، اور بیت اللہ کا حج “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ابن لہیعہ نامی راوی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 138
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى زوائد المسند 45»
حدیث نمبر: 139
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " خَمْسٌ مَنْ جَاءَ بِهِنَّ مَعَ إِيمَانٍ دَخَلَ الْجَنَّةَ : مَنْ حَافَظَ عَلَى الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ ، عَلَى وُضُوئِهِنَّ وَرُكُوعِهِنَّ وَسُجُودِهِنَّ وَمَوَاقِيتِهِنَّ ، وَصَامَ رَمَضَانَ ، وَحَجَّ الْبَيْتَ إِنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا ، وَأَعْطَى الزَّكَاةَ طَيِّبَةً بِهَا نَفْسُهُ ، وَأَدَّى الْأَمَانَةَ " قِيلَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، وَمَا أَدَاءُ الْأَمَانَةِ ؟ قَالَ : " الْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَةِ ، إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَأْمَنِ ابْنَ آدَمَ عَلَى شَيْءٍ مِنْ دِينِهِ غَيْرِهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” پانچ چیزیں ہیں ، جو شخص ایمان کے ہمراہ انہیں لائے گا ، وہ جنت میں داخل ہو جائے گا ، جو شخص پانچ نمازوں کی ، اُن کے وضو ، رکوع ، سجدوں اور اوقات سمیت ، حفاظت کرے ، رمضان کے روزے رکھے ، بیت اللہ کا حج کرے ، اگر وہ وہاں تک جانے کی استطاعت رکھتا ہو ، اور اپنی خوشی کے ساتھ زکوٰۃ ادا کرے اور امانت ادا کرے ، عرض کی گئی : اے اللہ کے نبی ! امانت کی ادائیگی سے کیا مراد ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جنابت کے بعد غسل کرنا ، کیونکہ اللہ تعالیٰ کو انسان کے دین کے حوالے سے ، اس کے علاوہ اور کسی چیز کے حوالے سے اندیشہ نہیں ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 139
درجۂ حدیث محدثین: إِسْنَادُهُ جَيِّدٌ
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الصغير 772»
حدیث نمبر: 140
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - قَالَ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ : وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَدْ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " عُرَى الْإِسْلَامِ وَقَوَاعِدُ الدِّينِ ثَلَاثَةٌ ، عَلَيْهِنَّ أُسِّسَ الْإِسْلَامُ ، مَنْ تَرَكَ وَاحِدَةً مِنْهُنَّ فَهُوَ بِهَا كَافِرٌ حَلَالُ الدَّمِ : شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَالصَّلَاةُ الْمَكْتُوبَةُ ، وَصَوْمُ رَمَضَانَ " . ثُمَّ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : تَجِدُهُ كَثِيرَ الْمَالِ لَا يُزَكِّي فَلَا يَزَالُ بِذَلِكَ كَافِرًا وَلَا يَحِلُّ دَمُهُ ، وَتَجِدُهُ كَثِيرَ الْمَالِ لَمْ يَحُجَّ فَلَا يَزَالُ بِذَلِكَ كَافِرًا وَلَا يَحِلُّ دَمُهُ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِتَمَامِهِ ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِلَفْظِ : " بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ : شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَالصَّلَاةِ ، وَصِيَامِ رَمَضَانَ ، فَمَنْ تَرَكَ وَاحِدَةً مِنْهُنَّ كَانَ كَافِرًا حَلَالَ الدَّمِ " . فَاقْتَصَرَ عَلَى ثَلَاثَةٍ مِنْهَا وَلَمْ يَذْكُرْ كَلَامَ ابْنِ عَبَّاسٍ الْمَوْقُوفَ . وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ روایت منقول ہے : ( یہاں حماد بن زید نامی راوی یہ کہتے ہیں : میرے علم کے مطابق انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کی ہو گی : ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے ” اسلام کی رسی اور دین کی بنیاد ، تین چیزیں ہیں ، جن پر اسلام کی بنیاد رکھی گئی ہے ، جو شخص ان میں سے کوئی ایک ترک کر دے گا ، تو وہ اس کی وجہ سے کافر ہو جائے گا اور اس کا خون بہانا حلال ہو گا ، اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، فرض نماز ادا کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا“ ۔
پھر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : تم کسی شخص کو پاؤ گے ، کہ اس کے پاس بہت سا مال ہو گا ، لیکن وہ زکوٰۃ ادا نہیں کرتا ہو گا ، اور اس حوالے سے وہ کافر ہو گا ، لیکن اس کا خون بہانا حلال نہیں ہو گا ، اسی طرح تم کسی شخص کو پاؤ گے کہ اس کے پاس بہت سا مال ہو گا ، لیکن وہ حج نہیں کرے گا ، تو وہ اس وجہ سے کافر ہو گا ، لیکن اس کا خون بہانا جائز نہیں ہو گا ۔
یہ روایت مکمل طور پر ، امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، جبکہ امام طبرانی نے معجم کبیر میں ان الفاظ میں نقل کی ہے : ” اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے ، اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، نماز ادا کرنا رمضان کے روزے رکھنا ، جو شخص ان میں سے کسی ایک کو ترک کر دے گا ، تو وہ کافر ہو گا ، جس کا خون بہانا جائز ہو گا “ ۔ تو امام طبرانی نے صرف یہی تین باتیں ذکر کی ہیں ، انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا ” موقف “ قول نقل نہیں کیا ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 140
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «اخرجه الامام ابو يعلى فى مسنده 2345 اورده المؤلف فى المقصد العلى 20»