کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس مضمون سے متعلق دیگر روایات
حدیث نمبر: 116
عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا بَرَزْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ إِذَا رَاكِبٌ يُوضِعُ نَحْوَنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كَأَنَّ هَذَا الرَّاكِبَ أَتَاكُمْ " ، يُرِيدُنَا . قَالَ : فَانْتَهَى الرَّجُلُ إِلَيْنَا فَسَلَّمَ ، فَرَدَدْنَا عَلَيْهِ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتَ ؟ " قَالَ : مِنْ أَهْلِي وَوَلَدِي وَعَشِيرَتِي . قَالَ : " فَأَيْنَ تُرِيدُ ؟ " قَالَ : أُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " فَقَدْ أَصَبْتَهُ " . قَالَ :يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عَلِّمْنِي مَا الْإِيمَانُ ؟ فَقَالَ : " تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ ، وَتَحُجُّ الْبَيْتَ " . قَالَ : أَقْرَرْتُ . قَالَ : ثُمَّ إِنَّ بَعِيرَهُ دَخَلَتْ يَدُهُ فِي شَبَكَةِ جُرْذَانٍ ، فَهَوَى بَعِيرُهُ وَهَوَى الرَّجُلُ ، فَوَقَعَ عَلَى هَامَتِهِ فَمَاتَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " عَلَيَّ بِالرَّجُلِ " . قَالَ : فَوَثَبَ إِلَيْهِ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ وَحُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ ، فَأَقْعَدَاهُ فَقَالَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قُبِضَ الرَّجُلُ . فَأَعْرَضَ عَنْهُمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ قَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَمَا رَأَيْتُمَا إِعْرَاضِي عَنِ الرَّجُلِ ، فَإِنِّي رَأَيْتُ مَلَكَيْنِ يَدُسَّانِ فِيهِ مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ ، فَعَلِمْتُ أَنَّهُ مَاتَ جَائِعًا ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَذَا وَاللَّهِ مِنَ الَّذِينَ قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : ( الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولَئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ ). قَالَ : ثُمَّ قَالَ : " دُونَكُمْ أَخَاكُمْ " . قَالَ : فَاحْتَمَلْنَاهُ إِلَى الْمَاءِ ، فَغَسَّلْنَاهُ وَحَنَّطْنَاهُ وَكَفَّنَّاهُ وَحَمَلْنَاهُ إِلَى الْقَبْرِ ، فَقَالَ : " أَلْحِدُوا ، وَلَا تَشُقُّوا " . ¤ وَفِي رِوَايَةٍ : " هَذَا مِمَّنْ عَمِلَ قَلِيلًا وَأُجِرَ كَثِيرًا " . ¤ وَفِي رِوَايَةٍ : " فَدَخَلَ خُفُّ بَعِيرِهِ فِي جُحْرِ يَرْبُوعٍ " . ¤ رَوَاهَا كُلَّهَا أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ أَبُو جَنَابٍ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَقَدْ عَنْعَنَهُ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر پر جانے کے لئے ) نکلے ، جب ہم مدینہ منورہ سے باہر آ گئے ، تو سامنے سے ایک سوار ہماری طرف آ رہا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لگتا ہے ، یہ سوار تم لوگوں کی طرف آ رہا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ وہ ہماری طرف آ رہا ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : جب وہ ہمارے پاس پہنچا ، تو اس نے سلام کیا ، ہم نے اسے سلام کا جواب دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس سے دریافت کیا : تم کہاں سے آ رہے ہو ؟ اُس نے جواب دیا : اپنے بیوی بچوں اور خاندان والوں کی طرف سے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم کہاں جا رہے ہو ؟ اُس نے عرض کی : میں اللہ کے رسول کی طرف جا رہا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اُن تک پہنچ گئے ، اُس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے تعلیم دیجیے کہ ایمان سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ، تم نماز قائم کرو ، زکوۃ ادا کرو ، رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو ، اس نے کہا: میں اقرار کرتا ہوں ، راوی بیان کرتے ہیں : پھر اس کے اونٹ کا پاؤں جرذان ( ایک مخصوص قسم کے چوہے ) کی بل میں داخل ہوا ، تو وہ اونٹ گر گیا اور وہ آدمی بھی گر گیا ، وہ شخص سر کے بل گر کے انتقال کر گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس شخص کو میرے پاس لے کر آؤ ! تو سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ اور سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ تیزی سے اس کی طرف گئے ، اُن دونوں حضرات نے اُسے بٹھایا اور عرض کی : یا رسول اللہ ! اس کا انتقال ہو گیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کی طرف سے منہ پھیر لیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں حضرات سے فرمایا : تم نے مجھے اس شخص کی طرف سے ، جو منہ پھیرتے ہوئے دیکھا ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے دو فرشتوں کو دیکھا کہ وہ اس پر جنت کے پھل نچھاور کر رہے تھے ، تو مجھے اندازہ ہو گیا کہ مرتے وقت یہ بھوکا تھا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ کی قسم ! یہ ان لوگوں میں سے ایک ہے ، جن کے بارے میں ، اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کے ساتھ ظلم کو نہیں ملایا ، انہی لوگوں کے لیے امن ہو گا اور وہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں“ ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اپنے بھائی کی دیکھ بھال کرو ! تو ہم اس کی میت اٹھا کر پانی کے پاس لے کر گئے ، ہم نے اسے غسل دیا اسے خوشبو لگائی ، اسے کفن پہنایا ، پھر اس کی میت اُٹھا کر قبر کے پاس لے کر گئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لحد بنانا ! شق نہ بنانا ۔
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” یہ ان افراد میں سے ایک ہے ، جنہوں نے تھوڑا عمل کیا اور انہیں زیادہ اجر دیا گیا“ ۔
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : اُس کے اونٹ کا پاؤں یربوع ( مخصوص قسم کا چوہا ) کی بل میں داخل ہوا ۔
یہ تمام روایات امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہیں ، اس کی سند میں ایک راوی ابوجناب ہے ، جو تدلیس کرتا ہے ، اور اس نے یہ روایت بھی ” عن “ کے صیغہ کے ساتھ نقل کی ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 116
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 359/4 اورده المؤلف فى زوائد المسند 39»
حدیث نمبر: 117
وَعَنْ جَرِيرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : لَمَّا بُعِثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَيْتُهُ لِأُبَايِعَهُ ، قَالَ : " لِأَيِّ شَيْءٍ جِئْتَنَا يَا جَرِيرُ ؟ " قُلْتُ : جِئْتُ لِأُسْلِمَ عَلَى يَدَيْكَ ، فَدَعَانِي إِلَى شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ ، وَتُؤَدِّي الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ ، وَتُؤْمِنُ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ . قَالَ : فَأَلْقَى إِلَيَّ كِسَاءَهُ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ : " إِذَا جَاءَكُمْ كَرِيمُ قَوْمٍ فَأَكْرِمُوهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ حُصَيْنُ بْنُ عُمَرَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ وَكَذِبِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا گیا ، تو میں آپ کی بیعت کرنے کے لئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے جریر ! تم ہمارے پاس کیوں آئے ہو ؟ میں نے عرض کی : میں اس لئے آیا ہوں تاکہ آپ کے دست اقدس پر اسلام قبول کر لوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس بات کی گواہی دینے کی دعوت دی ، کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ ، اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور میں ( یعنی نبی اکرم ) اللہ کا رسول ہوں ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا : ) تم فرض نماز ادا کرنا ، فرض زکوۃ دینا ، اچھی اور بری ( ہر قسم کی ) تقدیر پر ایمان رکھنا ، راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر میری طرف بڑھائی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا : ” جب کسی قوم کا کوئی معزز فرد ، تمہارے پاس آئے ، تو اس کا احترام کرو “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی حصین بن عمر ہے ، جس کے ضعیف اور جھوٹے ہونے پر اتفاق ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 117
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 2266 ، 2358 اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الصغير 793»
حدیث نمبر: 118
وَعَنِ ابْنِ الْخَصَاصِيَةِ السَّدُوسِيِّ قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُبَايِعُهُ ، فَاشْتَرَطَ عَلَيَّ : " اشْهَدْ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، وَتُصَلِّي الْخَمْسَ ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ ، وَتُؤَدِّي الزَّكَاةَ ، وَتَحُجُّ الْبَيْتَ ، وَتُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَمَّا اثْنَتَانِ فَلَا أُطِيقُهُمَا : الزَّكَاةُ ، فَوَاللَّهِ مَا لِي إِلَّا عَشْرُ ذَوْدٍ هُنَّ رُسُلُ أَهْلِي وَحَمُولَتُهُمْ ، وَأَمَّا الْجِهَادُ فَيَزْعُمُونَ أَنَّهُ مَنْ وَلَّى الدُّبُرَ فَقَدْ بَاءَ بِغَضَبٍ مِنَ اللَّهِ ، فَأَخَافُ إِذَا حَضَرَنِي قِتَالٌ خَشَعَتْ نَفْسِي فَكَرِهْتُ الْمَوْتَ ، فَقَبَضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَهُ وَحَرَّكَهَا ، وَقَالَ : " لَا صَدَقَةَ وَلَا جِهَادَ فَبِمَ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ ؟ " فَبَايَعْتُهُ عَلَيْهِنَّ كُلِّهِنَّ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَاللَّفْظُ لِلطَّبَرَانِيِّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابن خصاصیہ سدوسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ، آپ کی بیعت کرنے کے لئے حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر یہ شرط عائد کی : کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ ، اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں ، اور تم پانچ نمازیں ادا کرو ، رمضان کے روزے رکھو ، زکوٰۃ ادا کرو ، بیت اللہ کا حج کرو ، اور تم اللہ کی راہ میں جہاد کرو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! دو چیزوں کی تو میں طاقت نہیں رکھتا ، زکوۃ ادا کرنے کی ، کیونکہ میرے پاس صرف دس اونٹ ہیں ، اور وہ میرے گھر والوں کے کام کاج اور سفر کے کام آتے ہیں ، اور دوسری چیز جہاد ہے ، کیونکہ لوگ یہ کہتے ہیں : کہ جو شخص پیٹھ پھیر کر واپس آ جاتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کا غضب ساتھ لاتا ہے ، تو مجھے یہ اندیشہ ہے کہ جب میں جنگ کے موقع پر موجود ہوا ، اور پھر میرے دل میں خوف آ گیا اور مجھے موت ناپسند ہوئی ( تو میں جہاد چھوڑ کر ، اللہ تعالیٰ کے غضب کا مستحق نہ بن جاؤں ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مٹھی بند کی ، اُسے حرکت دی ، اور فرمایا : نہ صدقہ ہے ، نہ جہاد ہے ، تو پھر تم کس بنیاد پر جنت میں داخل ہو گے ؟
( راوی بیان کرتے ہیں : ) تو میں نے اُن سب باتوں پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کر لی ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور مجحم اوسط میں نقل کی ہے ، روایت کے یہ الفاظ امام طبرانی کے ہیں ، اور امام أحمد کے رجال کو ثقہ قرار دیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 118
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 224/5 اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 44/245 اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الأوسط 1126 اورده المؤلف فى زوائد المسند 33»
حدیث نمبر: 119
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ مُخْلِصًا بِهِمَا ، وَصَلَّى وَصَامَ ، وَأَدَّى الزَّكَاةَ ، وَحَجَّ الْبَيْتَ - حَرَّمَهُ اللَّهُ - تَعَالَى - عَلَى النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ مَسْعَدَةَ الْبَاهِلِيُّ ، وَثَّقَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالٰی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں ، اللہ کا رسول ہوں ، اور وہ شخص ان دونوں چیزوں کے بارے میں ، اخلاص کے ساتھ ( گواہی دے ) اور نماز ادا کرے ، روزہ رکھے ، زکوۃ دے ، بیت اللہ کا حج کرے ، تو اللہ تعالیٰ اس شخص کو جہنم پر حرام کر دے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن مسعدہ باہلی ہے ، یحییٰ بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ امام نسائی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 119
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الأوسط 1469»
حدیث نمبر: 120
وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : أَئِتَّلِجُ ؟ فَقَالَ : - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِخَادِمِهِ : " اخْرُجِي إِلَيْهِ ، فَإِنَّهُ لَا يُحْسِنُ الِاسْتِئْذَانَ ، فَقُولِي لَهُ : فَلْيَقُلْ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ ، أَأَدْخُلُ ؟ " قَالَ : فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ ذَلِكَ ، فَقُلْتُ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ ، أَأَدْخُلُ ؟ قَالَ : فَأَذِنَ ، - أَوْ قَالَ : فَدَخَلْتُ - فَقُلْتُ : بِمَا أَتَيْتَنَا ؟ قَالَ : " لَمْ آتِكُمْ إِلَّا بِخَيْرٍ ، أَتَيْتُكُمْ أَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ - قَالَ شُعْبَةُ : وَأَحْسَبُهُ قَالَ : وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ - وَأَنْ تَدَعُوا اللَّاتَ وَالْعُزَّى ، وَأَنْ تُصَلُّوا بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ ، وَأَنْ تَصُومُوا مِنَ السَّنَةِ شَهْرًا ، وَأَنْ تَحُجُّوا الْبَيْتَ ، وَأَنْ تَأْخُذُوا مِنْ أَمْوَالِ أَغْنِيَائِكُمْ فَتَرُدُّوهَا عَلَى فُقَرَائِكُمْ " . قَالَ : فَقَالَ : هَلْ بَقِيَ مِنَ الْغَيْبِ شَيْءٌ لَا تَعْلَمُهُ ؟ قَالَ : " قَدْ عَلِمَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - خَيْرًا كَثِيرًا ، وَإِنَّ مِنَ الْغَيْبِ مَا لَا يَعْلَمُهُ إِلَّا اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - الْخَمْسَ : إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ ، وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ ، وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ ، وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا ، وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ ، إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ " . ¤ قُلْتُ : عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ طَرَفٌ مِنْهُ . ¤ وَقَدْ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ أَئِمَّةٌ . ¤
محمد محی الدین
بنو عامر سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگتے ہوئے ، عرض کی : کیا میں اندر آ جاؤں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کنیز سے فرمایا : تم باہر اس کے پاس جاؤ ، اسے صحیح طریقے سے اجازت لینا نہیں آتا ، تم اس سے کہو : کہ وہ یہ کہے : السلام علیکم کیا میں اندر آ جاؤں ؟ راوی کہتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سن لیا ، تو میں نے کہا: السلام علیکم کیا میں اندر آ جاؤں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی ، تو میں اندر آ گیا ، میں نے عرض کی : آپ ہمارے پاس کیا پیغام لے کر آئے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں تم لوگوں کے پاس صرف بھلائی لے کر آیا ہوں ، میں تمہارے پاس ( یہ احکام ) لے کر آیا ہوں کہ تم لوگ صرف ، اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو ، جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، ( یہاں شعبہ نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : میرا خیال ہے ، روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : ) وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور تم لوگ لات اور عزیٰ کو چھوڑ دو ، اور تم لوگ رات اور دن میں پانچ نمازیں ادا کرو ، اور تم سال میں ایک ماہ روزے رکھو ، اور تم لوگ بیت اللہ کا حج کرو ، اور اپنے خوشحال لوگوں سے مال ( یعنی زکوٰۃ ) لے کر اپنے غریب لوگوں کی طرف لوٹا دو ، راوی بیان کرتے ہیں : انہوں نے دریافت کیا : کیا غیب میں سے کوئی ایسی چیز باقی رہ گئی ہے ، جس کا آپ کو علم نہ ہو ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالی بہت سی بھلائی کا علم رکھتا ہے ، اور غیب میں سے کچھ امور ایسے ہیں ، جن کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے ، اُن میں پانچ چیزیں یہ ہیں : ( جن کا ذکر قرآن میں ہے : ) ” بے شک قیامت کا علم اللہ تعالی ہی کے پاس ہے ، اور وہ بارش نازل کرتا ہے اور وہ رحموں میں جو کچھ ہے ، اس کے بارے میں علم رکھتا ہے ، کوئی یہ نہیں جانتا کہ کل وہ کیا کمائے گا ، اور کوئی یہ نہیں جانتا کہ وہ کون سی سرزمین پر مرے گا ، بے شک اللہ تعالیٰ علم رکھنے والا ، خبر رکھنے والا ہے “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس روایت کا کچھ حصہ امام ابوداؤد نے نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے تمام رجال ثقہ اور ائمہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 120
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 368/5369 اورده المؤلف فى زوائد المسند 34»
حدیث نمبر: 121
وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ قَيْسٍ يُقَالُ لَهُ : ابْنُ الْمُنْتَفِقِ قَالَ : وُصِفَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَطَلَبْتُهُ بِمَكَّةَ ، فَقِيلَ لِي : هُوَ بِمِنًى ، فَطَلَبْتُهُ بِمِنًى ، فَقِيلَ لِي : هُوَ بِعَرَفَاتٍ ، فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ ، فَزَاحَمْتُ عَلَيْهِ حَتَّى خَلَصْتُ إِلَيْهِ . قَالَ : فَأَخَذْتُ بِخِطَامِ رَاحِلَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْ قَالَ : بِزِمَامِهَا . قَالَ : هَكَذَا حَدَّثَ مُحَمَّدٌ - حَتَّى اخْتَلَفَتْ أَعْنَاقُ رَاحِلَتَيْنَا . قَالَ : فَمَا قَرَّعَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْ قَالَ : مَا غَيَّرَ عَلَيَّ ، هَكَذَا حَدَّثَ مُحَمَّدٌ - قَالَ : قُلْتُ : ثِنَتَانِ أَسْأَلُكَ عَنْهُمَا : مَا يُنْجِينِي مِنَ النَّارِ ؟ وَمَا يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ ؟ قَالَ : فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى السَّمَاءِ ، ثُمَّ نَكَسَ رَأْسَهُ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ بِوَجْهِهِ . قَالَ : " إِنْ كُنْتَ أَوْجَزْتَ فِي الْمَسْأَلَةِ ، لَقَدْ أَعْظَمْتَ وَأَطْوَلْتَ ، فَاعْقِلْ عَنِّي إِذًا : اعْبُدِ اللَّهَ ، لَا تُشْرِكْ بِهِ شَيْئًا ، وَأَقِمِ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ ، وَأَدِّ الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ ، وَصُمْ رَمَضَانَ ، وَمَا تُحِبُّ أَنْ يَفْعَلَهُ النَّاسُ بِكَ فَافْعَلْهُ بِهِمْ ، وَمَا تَكْرَهُ أَنْ تَأْتِيَ إِلَيْكَ النَّاسُ فَذَرِ النَّاسَ مِنْهُ " ، ثُمَّ قَالَ : " خَلِّ سَبِيلَ الرَّاحِلَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي عَقِيلٍ الْيَشْكُرِيُّ ، وَلَمْ أَرَ أَحَدًا رَوَى عَنْهُ غَيْرُ ابْنِهِ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ . ¤
محمد محی الدین
قیس قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک صحابی ، جن کا نام ابن مخفق ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : میرے سامنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ بیان کیا گیا ، میں نے مکہ میں آپ کو تلاش کیا ، تو مجھے بتایا گیا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں ہیں ، میں نے منیٰ میں آپ کو تلاش کیا ، تو مجھے بتایا گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات میں ہیں ، جب میں آپ کے پاس پہنچا ، تو ہجوم میں سے گزرتا ہوا ، آپ کے پاس آیا ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کی لگام پکڑ لی ، یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ، یہاں تک کہ ہماری سواریوں کی گردنیں ، ایک دوسرے سے مل گئیں ، لیکن نہ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ڈانٹا ، اور نہ ہی پرے کیا ، میں نے عرض کی : میں آپ سے دو چیزوں کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں ، کیا چیز مجھے جہنم سے نجات دلوا سکتی ہے ؟ اور کیا چیز مجھے جنت میں داخل کروا سکتی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان کی طرف دیکھا ، پھر اپنا سر جھکایا ، پھر میری طرف رُخ کیا اور ارشاد فرمایا : تم نے مختصر سوال کیا ہے ، لیکن یہ بڑا ( اہم ) اور طویل ( سوال ) ہے ، تم میری یہ بات یاد رکھنا ! تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو ! کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ ، فرض نماز ادا کرو ، فرض زکوۃ ادا کرو ، رمضان کے روزے رکھو ، جس چیز کے بارے میں تم یہ پسند کرتے ہو کہ لوگ تمہارے ساتھ اُس طرح کا سلوک کریں ، تو تم بھی اُن کے ساتھ اسی طرح کا سلوک کرو ، اور جس چیز کے بارے میں تمہیں یہ ناپسند ہو ، کہ لوگ تمہارے ساتھ ایسا کریں ، تو تم بھی لوگوں کے ساتھ ویسا نہ کرنا ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : سواری کا راستہ چھوڑ دو ! ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن ابوعقیل ۔ یشکری ہے ، میں نے اُس کے بیٹے مغیرہ بن عبداللہ کے علاوہ ، اور کسی کو اس سے روایت نقل کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 121
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 383/6 اورده المؤلف فى زوائد المسند 35»
حدیث نمبر: 122
وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ - أَوْ عَنْ عَمِّهِ - قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِعَرَفَةَ ، وَأَخَذْتُ بِزِمَامِ نَاقَتِهِ أَوْ خِطَامِهَا ، فَدَفَعْتُ عَنْهُ . فَقَالَ : " دَعُوهُ ، فَأَرَبٌ مَا جَاءَ بِهِ " . قُلْتُ : نَبِّئْنِي بِعَمَلٍ يُقَرِّبُنِي مِنَ الْجَنَّةِ وَيُبَاعِدُنِي مِنَ النَّارِ . قَالَ : فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ ، ثُمَّ قَالَ : " لَئِنْ كُنْتَ أَوْجَزْتَ لَقَدْ أَعْظَمْتَ وَأَطْوَلْتَ : تَعْبُدُ اللَّهَ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا ، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ ، وَتَحُجُّ الْبَيْتَ ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ ، وَتَأْتِي إِلَى النَّاسِ مَا تُحِبُّ أَنْ يَأْتُوهُ إِلَيْكَ ، وَمَا كَرِهْتَ لِنَفْسِكَ فَدَعِ النَّاسَ مِنْهُ . خَلِّ زِمَامَ النَّاقَةِ " . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ مِنْ زِيَادَاتِهِ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِأَسَانِيدَ وَرِجَالٍ ، بَعْضُهَا ثِقَاتٌ ، عَلَى ضَعْفٍ فِي يَحْيَى بْنِ عِيسَى كَثِيرٍ . ¤
محمد محی الدین
مغیرہ بن سعد ، اپنے والد ، یا شاید اپنے چچا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرفہ میں حاضر ہوا ، میں نے آپ کی اوٹنی کی لگام پکڑ لی ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) مجھے آپ سے پیچھے کیا جانے لگا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے چھوڑ دو ! یہ کسی اہم کام کے سلسلے میں آیا ہو گا ۔ میں نے عرض کی : آپ مجھے ایسے عمل کے بارے میں بتائیے ، جو مجھے جنت کے قریب کر دے اور جو مجھے جہنم سے دور کر دے ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا ، اور پھر یہ ارشاد فرمایا : تم نے مختصر ، لیکن اہم اور طویل سوال کیا ہے ، تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو ! کسی کو اُس کا شریک نہ ٹھہراؤ ، تم نماز ادا کرو ، زکوۃ دو ، بیت اللہ کا حج کرو ، رمضان کے روزے رکھو ، اور لوگوں کے ساتھ وہی سلوک کرو ، جس کے بارے میں تم یہ پسند کرتے ہو ، کہ لوگ تمہارے ساتھ ایسا سلوک کریں ، اور اپنی ذات کے حوالے سے ، جس چیز کو تم ناپسند کرتے ہو ، تو تم لوگوں کے ساتھ بھی ویسا نہ کرو ، اور اب اونٹنی کی لگام چھوڑ دو ! ۔
یہ روایت ( امام أحمد کے صاحبزادے ) عبداللہ نے اپنی ” زیادات“ میں نقل کی ہے ، اسے امام طبرانی نے معجم کبیر میں مختلف اسناد اور مختلف رادیوں کے حوالے سے نقل کیا ہے ، جن میں سے بعض ثقہ ہیں ، تاہم اس میں یحییٰ بن عیسیٰ کثیر نامی راوی ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 122
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «أورده المؤلف فى زوائد المسند 37»
حدیث نمبر: 123
وَعَنْ حُجَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ - وَكَانَ يُكْنَى أَبَا الْمُنْتَفِقِ - قَالَ : أَتَيْتُ مَكَّةَ فَسَأَلْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا : بِعَرَفَةَ ، فَأَتَيْتُهُ فَذَهَبْتُ أَدْنُو مِنْهُ حَتَّى اخْتَلَفَتْ عُنُقُ رَاحِلَتِي وَعُنُقُ رَاحِلَتِهِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَبِّئْنِي بِمَا يُنْجِينِي مِنْ عَذَابِ اللَّهِ وَيُدْخِلُنِي جَنَّتَهُ . قَالَ : " اعْبُدِ اللَّهَ لَا تُشْرِكْ بِهِ شَيْئًا ، وَأَقِمِ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ ، وَأَدِّ الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ ، وَحُجَّ وَاعْتَمِرْ ، وَصُمْ رَمَضَانَ ، وَانْظُرْ مَا تُحِبُّ النَّاسُ أَنْ يَأْتُوهُ إِلَيْكَ فَافْعَلْهُ بِهِمْ ، وَمَا كَرِهْتَ أَنْ يَأْتُوهُ إِلَيْكَ فَذَرْهُمْ مِنْهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ حُجَيْرٌ ، وَهُوَ ابْنُ الصَّحَابِيِّ ، وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُ . ¤
محمد محی الدین
حجیر نے ، اپنے والد کا یہ بیان نقل کیا ہے ، جن کی کنیت ابومشفق ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : میں مکہ آیا ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں دریافت کیا ، تو لوگوں نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرفہ میں ہیں ، میں آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچ گیا ، یہاں تک کہ میری اونٹنی کی گردن ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی گردن سے ملنے لگی ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے اس چیز کے بارے میں بتائیے ، جو مجھے اللہ کے عذاب سے بچا دے ، اور جنت میں داخل کروا دے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اللہ کی عبادت کرو ! کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ ، فرض نماز ادا کرو ، فرض زکوٰۃ ادا کرو ، حج اور عمرہ کرو ، رمضان کے روزے رکھو اور اس بات کا جائزہ لو کہ تم جس چیز کو پسند کرتے ہو ، کہ لوگ تمہارے ساتھ ایسا کریں ، تو تم بھی لوگوں کے ساتھ ویسا ہی کرو ، اور جس چیز کو تم ناپسند کرتے ہو ، کہ لوگ تمہارے ساتھ ایسا کریں ، تو تم بھی لوگوں کے ساتھ ویسا نہ کرنا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ” حجیر“ ہیں ، جو صحابی کے صاحبزادے ہیں ، لیکن میں نے کسی کو اُن کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 123
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 124
وَعَنْ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " بَعَثَ اللَّهُ يَحْيَى بْنَ زَكَرِيَّا إِلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ ، فَلَمَّا بَعَثَ اللَّهُ عِيسَى قَالَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - : يَا عِيسَى ، قُلْ لِيَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا إِمَّا أَنْ تُبَلِّغَ مَا أُرْسِلْتَ بِهِ إِلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ ، وَإِمَّا أَنْ أُبَلِّغَهُمْ ، فَخَرَجَ يَحْيَى حَتَّى صَارَ إِلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ فَقَالَ : إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَعْبُدُوهُ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ، وَمَثَلُ ذَلِكَ كَمَثَلِ رَجُلٍ أَعْتَقَ رَجُلًا وَأَحْسَنَ إِلَيْهِ وَأَعْطَاهُ ، فَانْطَلَقَ وَكَفَرَ نِعْمَتَهُ ، وَوَالَى غَيْرَهُ . وَإِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُقِيمُوا الصَّلَاةَ ، وَمَثَلُ ذَلِكَ كَمَثَلِ رَجُلٍ أَسَرَهُ الْعَدُوُّ ، فَأَرَادُوا قَتْلَهُ فَقَالَ : لَا تَقْتُلُونِي ، فَإِنَّ لِي كَنْزًا وَأَنَا أَفْدِي نَفْسِي ، فَأَعْطَاهُمْ كَنْزَهُ وَنَجَا بِنَفْسِهِ . وَإِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَتَصَدَّقُوا ، وَمَثَلُ ذَلِكَ كَمَثَلِ رَجُلٍ مَشَى إِلَى عَدُوِّهِ وَقَدْ أَخَذَ لِلْقِتَالِ جُنَّةً ، فَلَا يُبَالِي مِنْ حَيْثُ أُتِيَ . وَإِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَقْرَءُوا الْكِتَابَ ، وَمَثَلُ ذَلِكَ كَمَثَلِ قَوْمٍ فِي حِصْنِهِمْ صَارَ إِلَيْهِمْ عَدُوُّهُمْ وَقَدْ أَعَدُّوا فِي كُلِّ نَاحِيَةٍ مِنْ نَوَاحِيَ الْحِصْنِ قَوْمًا ، فَلَيْسَ يَأْتِيهِمْ عَدُوُّهُمْ مِنْ نَاحِيَةٍ مِنْ نَوَاحِي الْحِصْنِ إِلَّا وَبَيْنَ أَيْدِيهِمْ مَنْ يَدْرَؤُهُمْ عَنْهُمْ عَنِ الْحِصْنِ ، فَذَلِكَ مَثَلُ مَنْ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ لَا يَزَالُ فِي أَحْصَنِ حِصْنٍ " . وَلَمْ أَرَ فِي كِتَابِي الْخَامِسَةَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ ، إِلَّا شَيْخَ الْبَزَّارِ الْحَسَنَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ ، فَإِنِّي لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نقل کرتے ہیں : ” اللہ تعالیٰ نے سیدنا یحیی بن زکریا علیہما السلام کو ، پانچ کلمات کے ہمراہ بنی اسرائیل کی طرف بھیجا ، جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو مبعوث کیا ، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے عیسیٰ ! تم یحیی بن زکریا سے یہ کہو ! کہ میں نے تمہیں جس چیز کے ہمراہ بنی اسرائیل کی طرف بھیجا ہے ، یا تو تم اس کی تبلیغ کر دو ، یا میں انہیں تبلیغ کر دیتا ہوں ، تو سیدنا یحییٰ علیہ السلام نکلے اور بنی اسرائیل کے پاس تشریف لائے اور انہوں نے فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ تمہیں یہ حکم دیتا ہے کہ تم اس کی عبادت کرو اور کسی کو اُس کا شریک نہ ٹھہراؤ ، اس کی مثال اس شخص کی مانند ہے ، جو کسی غلام کو آزاد کرتا ہے ، اس کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہے اسے مال وغیرہ دیتا ہے ، وہ غلام چلا جاتا ہے اور اس شخص کی نعمت کا انکار کر دیتا ہے اور اس شخص کی بجائے کسی اور سے تعلق قائم کر لیتا ہے ، اللہ تعالی تمہیں یہ بھی حکم دیتا ہے کہ تم لوگ نماز قائم کرو ! اس کی مثال اس شخص کی مانند ہے جسے دشمن قید کر لیتا ہے اور اسے قتل کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ شخص یہ کہتا ہے : تم لوگ مجھے قتل نہ کرو ، میرے پاس خزانہ موجود ہے ، اور میں اپنی ذات کا فدیہ دے دوں گا ، تو وہ شخص ان لوگوں کو اپنا خزانہ دیتا ہے اور اپنی ذات کو نجات دلوا دیتا ہے ، اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہ حکم بھی دیا ہے کہ تم لوگ صدقہ کرو اس کی مثال اس شخص کی مانند ہے ، جو دشمن کی طرف جاتا ہے اور جنگ کے لئے ڈھال رکھتا ہے ، وہ اس بات کی پروا نہیں کرتا کہ اس پر کس طرف سے حملہ ہو گا ؟ اللہ تعالی تمہیں یہ حکم دیتا ہے کہ تم لوگ کتاب کی تلاوت کرو ! اس کی مثال ان لوگوں کی مانند ہے ، جو اپنے قلعے میں ہوتے ہیں ، اُن کا دشمن ان کی طرف جاتا ہے ، تو ان لوگوں نے قلعے کے ہر طرف لوگ تیار رکھے ہوتے ہیں ، تو دشمن قلعہ کے جس بھی طرف سے آتا ہے ، اس کے سامنے ایسے افراد موجود ہوتے ہیں ، جو اسے قلعے کی طرف جانے سے روکتے ہیں ، تو یہ مثال اُس شخص کی ہے جو ، قرآن پڑھتا ہے ، تو وہ سب سے زیادہ مضبوط قلعے میں ہوتا ہے “ ۔
راوی بیان کرتے ہیں : میں نے اپنی تحریر میں ، پانچویں چیز کا ذکر نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، البتہ امام بزار کے استاد حسن بن محمد بن عباد کا معاملہ مختلف ہے ، ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں ان سے واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 124
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «أورده المؤلف فى كشف الاستار 337»
حدیث نمبر: 125
وَعَنْ سُوَيْدِ بْنِ حُجَيْرٍ قَالَ : حَدَّثَنِي خَالِي ، قَالَ : لَقِيتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ عَرَفَةَ وَالْمُزْدَلِفَةِ ، فَأَخَذْتُ بِخِطَامِ نَاقَتِهِ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا يُقَرِّبُنِي مِنَ الْجَنَّةِ وَيُبَاعِدُنِي مِنَ النَّارِ ؟ فَقَالَ : " أَمَا وَاللَّهِ لَئِنْ كُنْتَ أَوْجَزْتَ الْمَسْأَلَةَ لَقَدْ أَعْظَمْتَ وَأَطْوَلْتَ : أَقِمِ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ ، وَأَدِّ الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ ، وَحُجَّ الْبَيْتَ ، وَمَا أَحْبَبْتَ أَنْ يَفْعَلَهُ النَّاسُ بِكَ فَافْعَلْهُ بِهِمْ ، وَمَا كَرِهْتَ أَنْ يَفْعَلَهُ النَّاسُ بِكَ فَدَعِ النَّاسَ مِنْهُ . خَلِّ زِمَامَ النَّاقَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ قَزَعَةُ بْنُ سُوَيْدٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سوید بن حجیر بیان کرتے ہیں : میرے ماموں نے مجھے یہ بات بتائی ہے : وہ کہتے ہیں : عرفہ اور مزدلفہ کے درمیان میری ملاقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی لگام پکڑ لی اور عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا چیز مجھے جنت کے قریب اور جہنم سے دور کر سکتی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے سوال مختصر کیا ہے اور بات اہم اور طویل دریافت کی ہے ، تم فرض نماز ادا کرو ، فرض زکوۃ ادا کرو ، بیت اللہ کا حج کرو ، تم جو پسند کرتے ہو کہ لوگ تمہارے ساتھ ویسا کریں ، تو تم بھی اُن کے ساتھ وہی کرو ، اور جس چیز کے بارے میں تم یہ ناپسند کرتے ہو ، کہ لوگ تمہارے ساتھ ایسا کریں ، تو تم بھی لوگوں کے ساتھ ویسا نہ کرو ، اور اونٹنی کی لگام چھوڑ دو !
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی قزعہ بن سوید ہے ، یحییٰ بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ امام بخاری رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 125
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 7284»
حدیث نمبر: 126
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا عِصْمَةُ هَذَا الْأَمْرِ وَعُرَاهُ وَوَثَاقُهُ ؟ قَالَ : " أَخْلِصُوا عِبَادَةَ اللَّهِ - تَعَالَى - وَأَقِيمُوا خَمْسَكُمْ ، وَأَدُّوا زَكَاةَ أَمْوَالِكُمْ طَيِّبَةً بِهَا أَنْفُسُكُمْ ، وَصُومُوا شَهْرَكُمْ ; تَدْخُلُوا جَنَّةَ رَبِّكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ مَرْثَدٍ ، وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے دریافت کیا : اس معاملے کی رسی اور اس کی بندش کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : خالص طور پر ، اللہ کی عبادت کرو ! پانچ نمازیں ادا کرو ، اپنی دلی خوشی کے ساتھ اپنے اموال کی زکوٰۃ ادا کرو ، اپنے مخصوص مہینے ( یعنی رمضان ) کے روزے رکھو ، اور اپنے پروردگار کی جنت میں داخل ہو جاؤ !
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن مرثد ہے ، لیکن اس نے سیدنا ابودرداء رضٰ اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 126
درجۂ حدیث محدثین: منقطع
حدیث نمبر: 127
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ لَقِيَ اللَّهَ - تَعَالَى - يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِالصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ ، وَصِيَامِ رَمَضَانَ ، وَالِاغْتِسَالِ مِنَ الْجَنَابَةِ - كَانَ عَبْدَ اللَّهِ حَقًّا ، وَمَنِ اخْتَانَ مِنْهُنَّ شَيْئًا كَانَ عَدُوَّ اللَّهِ حَقًّا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ الْحَجَّاجُ بْنُ رِشْدِينَ بْنِ سَعْدٍ ، ضَعَّفَهُ ابْنُ عَدِيٍّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص قیامت کے دن ، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پانچ نمازوں ، رمضان کے روزوں ، اور غسل جنابت کرنے کے ہمراہ حاضر ہو گا ، وہ اللہ تعالی کا حقیقی بندہ شمار ہو گا ، اور جو ان میں سے ، کسی چیز میں خیانت کا مرتکب ہو گا ، وہ اللہ تعالی کا حقیقی دشمن شمار ہو گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن رشدین بن سعد ہے ، جس کو ابن عدی نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 127
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 128
وَعَنْ جَرِيرٍ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلَهُ عَنِ الْإِسْلَامِ ، فَقَالَ : " تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ ، وَتُحِبُّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ ، وَتَكْرَهُ لَهُمْ مَا تَكْرَهُ لِنَفْسِكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَأَةَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے آپ سے اسلام کے بارے میں دریافت کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اس بات کی گواہی دو ! کہ اللہ تعالٰی کے علاوہ ، اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور تم نماز ادا کرو ، زکوۃ دو ، رمضان کے روزے رکھو ، اور لوگوں کے لیے وہی چیز پسند کرو ، جو تم اپنے لیے پسند کرتے ہو ، اور اُن کے لئے وہی چیز ناپسند کرو ، جو تم اپنے لیے ناپسند کرتے ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 128
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 129
وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ لَمْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ شَيْئًا بَعْدَ إِذْ آمَنَ بِهِ ، وَأَقَامَ الصَّلَاةَ ، وَأَدَّى الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ ، وَصَامَ رَمَضَانَ ، وَسَمِعَ وَأَطَاعَ ، فَمَاتَ عَلَى ذَلِكَ - وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص ، اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کے بعد ، کسی کو اس کا شریک قرار نہ دے ، اور نماز قائم کرے ، فرض زکوٰۃ ادا کرے رمضان کے روزے رکھے ( حاکم وقت کی ) اطاعت و فرمانبرداری کرے ، اور پھر اسی حالت میں مر جائے ، اُس کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسماعیل بن عیاش ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 129
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 3443»
حدیث نمبر: 130
وَعَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِمَا أَرْسَلَكَ رَبُّنَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ وَلَا تُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا ، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ ، وَكُلُّ مُسْلِمٍ مِنْ مُسْلِمٍ حَرَامٌ ، يَا حَكِيمُ بْنَ مُعَاوِيَةَ ، هَذَا دِينُكَ أَيْنَمَا تَكُنْ يَكُفَّكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ السَّفْرُ بْنُ نُسَيْرٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَرِوَايَتُهُ عَنْ حَكِيمٍ أَظُنُّهَا مُرْسَلَةٌ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حکیم بن معاویہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے پروردگار نے آپ کو کس چیز کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ( اس بات کے ہمراہ کہ ) کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو ! اور کسی کو اُس کا شریک نہ ٹھہراؤ ، اور تم نماز قائم کرو ، اور زکوٰۃ ادا کرو ، ہر مسلمان ( یعنی اس کی جان اور مال ) دوسرے مسلمان کے لئے حرام ہے ، اے حکیم بن معاویہ ! یہ تمہارا دین ہے ، تم جہاں کہیں بھی ہو گے ، یہ تمہارا بچاؤ کرے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حبیب بن حبیب ہے ، جو مزہ بن حبیب زیات کا بھائی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 130
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 131
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أَقَامَ الصَّلَاةَ ، وَآتَى الزَّكَاةَ ، وَحَجَّ الْبَيْتَ ، وَصَامَ رَمَضَانَ ، وَقَرَى الضَّيْفَ - دَخَلَ الْجَنَّةَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ حَبِيبُ بْنُ حَبِيبٍ أَخُو حَمْزَةَ بْنِ حَبِيبٍ الزَّيَّاتِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : جو شخص نماز قائم کرے ، زکوٰۃ ادا کرے ، بیت اللہ کا حج کرے ، رمضان کے روزے رکھے اور مہمان نوازی کرے وہ جنت میں داخل ہو جائے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں روایت کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حبیب بن حبیب ہے ، جو حمزہ بن حبیب زیات کا بھائی ہے ۔ اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 131
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 132
وَعَنْ سَمُرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَقِيمُوا الصَّلَاةَ ، وَآتُوا الزَّكَاةَ ، وَحُجُّوا وَاعْتَمِرُوا ، وَاسْتَقِيمُوا يَسْتَقِمْ بِكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ عِمْرَانُ الْقَطَّانُ ، وَقَدِ اسْتَشْهَدَ بِهِ الْبُخَارِيُّ وَوَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ آخَرُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” نماز قائم کرو ، زکوٰۃ ادا کرو ، حج اور عمرہ کرو ، اور سیدھے رہو ، تمہارے ساتھ سیدھا رہا جائے گا ( یعنی تمہارا انجام ٹھیک ہو گا ) “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر ، معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمران القطان ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ نے اس سے استشہاد کیا ہے ، جبکہ امام أحمد اور ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، لیکن دیگر حضرات نے اسے ضعیف بھی کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 132
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 216/7 اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الأوسط 2034 ، اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الصغير 52/1»
حدیث نمبر: 133
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " سِتٌّ مَنْ جَاءَ بِوَاحِدَةٍ جَاءَ وَلَهُ عَهْدٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، تَقُولُ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ قَدْ كَانَ يَعْمَلُ بِي : الزَّكَاةُ ، وَالصَّلَاةُ ، وَالْحَجُّ ، وَالصِّيَامُ ، وَأَدَاءُ الْأَمَانَةِ ، وَصِلَةُ الرَّحِمِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ يُونُسُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ ، وَلَمْ أَرَ أَحَدًا ذَكَرَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” چھ چیزیں ایسی ہیں کہ جو شخص ان میں سے ایک بھی لے کر آئے گا ، تو وہ ایسی حالت میں آئے گا کہ قیامت کے دن اُس کے لیے عہد ہو گا ، ان میں سے ہر ایک چیز یہ کہے گی : یہ شخص مجھ پر عمل کیا کرتا تھا ، ( وہ چیزیں یہ ہیں : ) زکوٰۃ ، نماز ، حج ، روزہ ، امانت کی ادائیگی ، اور رشتہ داری کے حقوق کا خیال رکھنا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ، ایک راوی یونس بن ابوحثمہ ہے ، اور میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 133
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 7993»
حدیث نمبر: 134
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَ أَصْحَابَهُ عِنْدَ صَلَاةِ الْعَتَمَةِ : أَنِ احْشُدُوا لِلصَّلَاةِ غَدًا ، فَإِنَّ لِي إِلَيْكُمْ حَاجَةً ، فَقَالَ رُفْقَةٌ مِنْهُمْ : يَا فُلَانُ ، دُونَكَ أَوَّلَ كَلِمَةٍ يَتَكَلَّمُ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنْتَ الَّتِي تَلِيهَا ، لِئَلَّا يَفُوتَهُمْ شَيْءٌ مِنْ كَلَامِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا فَرَغُوا مِنْ صَلَاتِهِمْ قَالَ : " هَلْ حَشَدْتُمْ كَمَا أَمَرْتُكُمْ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " اعْبُدُوا رَبَّكُمْ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ، هَلْ عَقَلْتُمْ هَذِهِ ؟ هَلْ عَقَلْتُمْ هَذِهِ ؟ هَلْ عَقَلْتُمْ هَذِهِ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ . قَالَ : " أَقِيمُوا الصَّلَاةَ ، وَآتُوا الزَّكَاةَ . أَقِيمُوا الصَّلَاةَ ، وَآتُوا الزَّكَاةَ . أَقِيمُوا الصَّلَاةَ ، وَآتُوا الزَّكَاةَ . هَلْ عَقَلْتُمْ هَذِهِ ؟ هَلْ عَقَلْتُمْ هَذِهِ ؟ هَلْ عَقَلْتُمْ هَذِهِ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ . قَالَ : " اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا ، اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا ، اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا . هَلْ عَقَلْتُمْ هَذِهِ ؟ هَلْ عَقَلْتُمْ هَذِهِ ؟ هَلْ عَقَلْتُمْ هَذِهِ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ ، فَكُنَّا نَرَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَيَتَكَلَّمُ كَلَامًا كَثِيرًا ، ثُمَّ نَظَرَ فِي كَلَامِهِ ، فَإِذَا هُوَ قَدْ جَمَعَ لَنَا الْأَمْرَ كُلَّهُ . ¤ قُلْتُ : عِنْدَ التِّرْمِذِيِّ بَعْضُهُ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ زِبْرِيقٍ الْحِمْصِيُّ ، وَثَّقَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَأَبُو حَاتِمٍ ، وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ( ایک مرتبہ ) عشاء کی نماز کے وقت ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو حکم دیا کہ کل صبح تم نے نماز کے وقت تیار رہنا ہے ، مجھے تم لوگوں سے ایک کام ہے ، تو ان لوگوں میں سے کچھ نے یہ کہا: اے فلاں ! تم نے اس چیز کا خیال رکھنا ہے ، جو کلمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے ارشاد فرمائیں گے ، دوسرے کلمے کا خیال تم نے رکھنا ہے ، اُن لوگوں کا مقصد یہ تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو میں سے کوئی چیز رہ نہ جائے ، ( اگلے دن صبح ) جب وہ لوگ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم لوگ اسی طرح تیار ہو ؟ جس طرح میں نے تمہیں ہدایت کی تھی ، اُن لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ اپنے پروردگار کی عبادت کرو اور کسی کو اُس کا شریک نہ ٹھہراؤ ! کیا تمہیں یہ بات سمجھ آ گئی ہے ؟ کیا تمہیں یہ بات سمجھ آ گئی ہے ؟ کیا تمہیں یہ بات سمجھ آ گئی ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ نماز قائم کرو ، زکوٰۃ ادا کرو ، تم لوگ نماز قائم کرو ، زکوۃ ادا کرو ، تم لوگ نماز قائم کرو زکوٰۃ ادا کرو ، کیا تمہیں یہ بات سمجھ آ گئی ہے ؟ کیا تمہیں یہ بات سمجھ آ گئی ہے ؟ کیا تمہیں یہ بات سمجھ آ گئی ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ اطاعت و فرمانبرداری کرو ، تم لوگ اطاعت و فرمانبرداری کرو ، تم لوگ اطاعت و فرمانبرداری کرو ، کیا تمہیں یہ بات سمجھ آ گئی ہے ؟ کیا تمہیں یہ بات سمجھ آ گئی ہے ؟ کیا تمہیں یہ بات سمجھ آ گئی ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں !
راوی بیان کرتے ہیں : ہم تو یہ سمجھ رہے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم طویل گفتگو کریں گے ، لیکن جب ہم نے آپ کے کلام کا جائزہ لیا ، تو یہ بات سامنے آئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پورے معاملے کو ( یعنی دین کی بنیادی تعلیمات کو ) ہمارے لئے جمع کر دیا ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ، لیکن وہ اس سیاق کے بغیر ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابراہیم بن زبریق حمصی ہے ، یحییٰ بن معین اور ابوحاتم نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ امام نسائی رحمہ اللہ اور امام ابوداؤد نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 134
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 7678»
حدیث نمبر: 135
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ الْجُهَنِيِّ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ مِنْ قُضَاعَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : إِنِّي شَهِدْتُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ ، وَصَلَّيْتُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ ، وَصُمْتُ رَمَضَانَ وَقْتَهُ ، وَآتَيْتُ الزَّكَاةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ مَاتَ عَلَى هَذَا كَانَ مِنَ الصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا شَيْخِي الْبَزَّارُ ، وَأَرْجُو إِسْنَادَهُ أَنَّهُ إِسْنَادٌ حَسَنٌ أَوْ صَحِيحٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن مرہ جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : قضاعہ قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ، میں پانچوں نمازیں ادا کرتا ہوں ، رمضان کے روزے ان کے وقت پر رکھتا ہوں ، اور میں زکوٰۃ ادا کرتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص ایسی حالت پر انتقال کرے گا ، وہ صدیقین اور شہداء میں سے ہو گا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور امام بزار کے دونوں استادوں کے علاوہ ، اس کے تمام رجال صحیح کے رجال ہیں ، اور مجھے یہ امید ہے کہ اس کی سند حسن ، یا صحیح ہو گی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 135
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى كشف الاستار 25»
حدیث نمبر: 136
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ، وَصَلَّى الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ ، وَحَجَّ الْبَيْتَ - لَا أَدْرِي ذَكَرَ الزَّكَاةَ أَمْ لَا - كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَغْفِرَ لَهُ " . قُلْتُ : أُخْبِرُ بِهِ النَّاسَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ذَرِ النَّاسَ يَعْمَلُونَ ، فَإِنَّ الْجَنَّةَ مِائَةُ دَرَجَةٍ ، مَا بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ، وَالْفِرْدَوْسُ أَعْلَاهَا دَرَجَةً وَأَوْسَطُهَا ، وَفَوْقَهَا عَرْشُ الرَّحْمَنِ ، وَفِيهَا تَفَجَّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ ، فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللَّهَ فَسَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَهُوَ مِنْ رِوَايَةِ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ مُعَاذٍ ، وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي فِي الْبَابِ بَعْدَ هَذَا أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا الْبَابِ أَيْضًا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص رمضان کے روزے رکھے ، پانچ نمازیں ادا کرے ، بیت اللہ کا حج کرے ( راوی کہتے ہیں : مجھے نہیں معلوم کہ انہوں نے زکوٰۃ کا ذکر کیا تھا ، یا نہیں کیا تھا ؟ ) تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ وہ اُس شخص کی مغفرت کر دے ( سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رحمہ اللہ ) میں نے عرض کی : میں لوگوں کو یہ بات بتا دوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگوں کو رہنے دو کہ وہ عمل کرتے رہیں ! کیونکہ جنت میں ایک سو درجات ہیں ، اور اُن میں سے ، ہر دو ، درجات کے درمیان ، اتنا فاصلہ ہے ، جتنا آسمان اور زمین کے درمیان ہے اور جنت الفردوس سب سے بلند اور عمدہ درجے کی ہے ، اُس کے اوپر ، رحمان کا عرش ہے ، اور اُسی میں سے جنت کی نہریں پھوٹتی ہیں ، ، جب تم اللہ تعالیٰ سے مانگو ، تو اُس سے جنت الفردوس ( کی دعا ) مانگو ! “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اسے عطاء بن یسار نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے ، حالانکہ انہوں نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد والے باب میں ، ایسی احادیث آئیں گی ، جو اس باب سے تعلق رکھتی ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 136
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «أورده المؤلف فى كشف الاستار 26»