حدیث نمبر: 112
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَجْلِسًا فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ ، فَجَلَسَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاضِعًا كَفَّيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، حَدِّثْنِي عَنِ الْإِسْلَامِ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْإِسْلَامُ أَنْ تُسْلِمَ وَجْهَكَ لِلَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَأَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " ، قَالَ : فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَقَدْ أَسْلَمْتُ ؟ قَالَ : " فَإِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ فَقَدْ أَسْلَمْتَ " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ حَدِّثْنِي عَنِ الْإِيمَانِ قَالَ : " الْإِيمَانُ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ وَالْمَوْتِ وَالْحَيَاةِ بَعْدَ الْمَوْتِ ، وَتُؤْمِنَ بِالْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَالْحِسَابِ وَالْمِيزَانِ ، وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ كُلِّهِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ " . قَالَ : فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَقَدْ آمَنْتُ ؟ قَالَ : " فَإِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ فَقَدْ آمَنْتَ " قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ حَدِّثْنِي : مَا الْإِحْسَانُ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْإِحْسَانُ أَنْ تَعْمَلَ لِلَّهِ كَأَنَّكَ تَرَاهُ ، فَإِنْ لَا تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ حَدِّثْنِي : مَتَى السَّاعَةُ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " سُبْحَانَ اللَّهِ ! خَمْسٌ مِنَ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا اللَّهُ : إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ ، وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ ، وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ ، وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا ، وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ ، إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ . وَلَكِنْ إِنْ شِئْتَ حَدَّثْتُكَ بِمَعَالِمَ لَهَا دُونَ ذَلِكَ " . قَالَ : أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَحَدِّثْنِي ، قَالَ : قَالَ : " إِذَا رَأَيْتَ الْأَمَةَ وَلَدَتْ رَبَّتَهَا - أَوْ رَبَّهَا - وَرَأَيْتَ أَصْحَابَ الْبُنْيَانِ يَتَطَاوَلُونَ بِالْبُنْيَانِ ، وَرَأَيْتَ الْحُفَاةَ الْجِيَاعَ الْعَالَةَ كَانُوا رُءُوسَ النَّاسِ - فَذَلِكَ مِنْ مَعَالِمِ السَّاعَةِ وَمِنْ أَشْرَاطِهَا " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَنْ أَصْحَابُ الْبُنْيَانِ الْحُفَاةُ الْجِيَاعُ الْعَالَةُ ؟ قَالَ : " الْعَرِيبُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّ فِي الْبَزَّارِ : أَنَّ جِبْرِيلَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي هَيْئَةِ رَجُلٍ شَاحِبٍ مُسَافِرٍ . وَفِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک محفل میں تشریف فرما تھے ، سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گئے ، انہوں نے اپنی دونوں ہتھیلیاں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں پر رکھ دیں ، اور بولے : یا رسول اللہ ! آپ مجھے اسلام کے بارے میں بتائیے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسلام یہ ہے کہ تم اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کر دو ، اور تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی ایک معبود ہے ، اُس کا کوئی شریک نہیں ہے ، اور بے شک سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں ، انہوں نے دریافت کیا : جب میں ایسا کر لوں گا ، تو میں مسلمان ہو جاؤں گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم ایسا کرو گے ، تو تم مسلمان ہو گے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے ایمان کے بارے میں بتائیے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایمان یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ آخرت کے دن ، فرشتوں ، کتاب ، انبیاء ، موت ، موت کے بعد کی زندگی پر ایمان رکھو ، اور تم جنت ، جہنم ، حساب اور میزان پر ایمان رکھو ، اور تم ہر قسم کی اچھی یا بری تقدیر پر ایمان رکھو ، انہوں نے عرض کی : جب میں ایسا کروں گا ، تو کیا میں مؤمن ہوؤں گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم ایسا کرو گے تو تم مؤمن ہو گے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے بتائیے ، احسان سے کیا مراد ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : احسان سے مراد یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے لئے یوں عمل کرو ! گویا تم اسے دیکھ رہے ہو ، اور اگر تم اُسے نہیں دیکھ رہے ہو ، تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے بتائیے قیامت کب آئے گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سبحان اللہ ! غیب سے تعلق رکھنے والی پانچ چیزیں ایسی ہیں ، جن کا علم ، صرف اللہ تعالیٰ کو ہے ( اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” بے شک قیامت کا علم ، اللہ تعالی ہی کے پاس ہے ، وہ بارش نازل کرتا ہے ، اور وہ جانتا ہے کہ جو رحم میں ہے ، اور کوئی یہ نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائے گا اور کوئی یہ نہیں جانتا کہ وہ کون سی جگہ پر مرے گا ، بے شک اللہ تعالیٰ علم رکھنے والا ، خبر رکھنے والا ہے “ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ) لیکن اگر تم چاہو ، تو میں اُس سے پہلے رونما ہونے والی کچھ نشانیاں تمہیں بتا دیتا ہوں ، انہوں نے کہا: ٹھیک ہے ، یا رسول اللہ ! آپ مجھے بتا دیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم کنیز کو دیکھو کہ اُس نے اپنی مالکن کو ( راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ تھے : ) اپنے آقا کو جنم دیا ہے ، یا تم عمارتیں تعمیر کرنے والوں کو دیکھو ، کہ وہ ایک دوسرے کے مقابلے میں ، طویل عمارتیں بنا رہے ہیں اور تم دیکھو کہ جن لوگوں کے پاس جوتے بھی نہیں تھے ، وہ بھوکے تھے ، تنگدست تھے ، وہ لوگوں کے حکمران بن گئے ہیں ، تو یہ امور قیامت ( قریب آنے ) کی علامات اور نشانیوں میں سے ہوں گے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول الله ! عمارتوں والے وہ لوگ ، جن کے پاؤں میں جوتے بھی نہ ہوں ، اور جو بھوکے ہوں ، اور تنگ دست ہوں ، ان سے مراد کون ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عریب ( تنگدست )
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم امام بزار کی روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ، ایک نوجوان ضرورت مند مسافر شخص کی شکل میں حاضر ہوئے “ ۔ امام أحمد کی سند میں ، ایک راوی شہر بن حوشب ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم امام بزار کی روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ، ایک نوجوان ضرورت مند مسافر شخص کی شکل میں حاضر ہوئے “ ۔ امام أحمد کی سند میں ، ایک راوی شہر بن حوشب ہے ۔
حدیث نمبر: 113
وَعَنِ ابْنِ عَامِرٍ - أَوْ أَبِي عَامِرٍ أَوْ أَبِي مَالِكٍ - : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ فِي مَجْلِسٍ فِيهِ أَصْحَابُهُ جَاءَهُ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فِي غَيْرِ صُورَتِهِ يَحْسَبُهُ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، فَسَلَّمَ ، فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ ، ثُمَّ وَضَعَ جِبْرِيلُ يَدَهُ عَلَى رُكْبَتَيِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا الْإِسْلَامُ ؟ قَالَ : " أَنْ تُسْلِمَ وَجْهَكَ لِلَّهِ ، وَتَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ " . قَالَ : فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَقَدْ أَسْلَمْتُ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : ثُمَّ قَالَ : مَا الْإِيمَانُ ؟ قَالَ : " أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ وَالْمَوْتِ وَالْحَيَاةِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَالْحِسَابِ وَالْمِيزَانِ وَالْقَدَرِ كُلِّهِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ " . قَالَ : فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ قَدْ آمَنْتُ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " ، ثُمَّ قَالَ مَا الْإِحْسَانُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ ، فَإِنْ كُنْتَ لَا تَرَاهُ فَهُوَ يَرَاكَ " . قَالَ : فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَقَدْ أَحْسَنْتُ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . وَنَسْمَعُ رَجْعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَا نَرَى الَّذِي يُكَلِّمُهُ وَلَا نَسْمَعُ كَلَامَهُ . قَالَ : فَمَتَى السَّاعَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " سُبْحَانَ اللَّهِ ! خَمْسٌ مِنَ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا اللَّهُ : إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ ، وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا ، وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ ، إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ . وَلَكِنْ إِنْ شِئْتَ حَدَّثْتُكَ بِعَلَامَتَيْنِ تَكُونَانِ قَبْلَهَا " قَالَ : حَدِّثْنِي قَالَ : " إِذَا رَأَيْتَ الْأَمَةَ تَلِدُ رَبَّهَا ، وَيَطُولُ أَهْلُ الْبُنْيَانِ بِالْبُنْيَانِ ، وَعَادَ الْعَالَةُ الْحُفَاةُ رُءُوسَ النَّاسِ " ، قَالَ : وَمَنْ أُولَئِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الْعَرِيبُ " . قَالَ : ثُمَّ وَلَّى ، قَالَ : فَلَمَّا لَمْ نَرَ طَرِيقَهُ قَالَ : " سُبْحَانَ اللَّهِ ! هَذَا جِبْرِيلُ جَاءَ لِيُعَلِّمَ النَّاسَ دِينَهُمْ ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا جَاءَنِي قَطُّ إِلَّا وَأَنَا أَعْرِفُهُ إِلَّا أَنْ تَكُونَ هَذِهِ الْمَرَّةُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِي إِسْنَادِهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابن عامر ، یا شاید سیدنا ابوعامر ، یا شاید سیدنا ابومالک کے حوالے سے یہ روایت منقول ہے : ” ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک محفل میں تشریف فرما تھے ، جس میں آپ کے اصحاب بھی موجود تھے ، اس دوران سیدنا جبرائیل علیہ السلام انسانی شکل میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، ( دیکھنے والا ) انہیں ایک مسلمان محسوس کرتا ، انہوں نے سلام کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کا جواب دیا ، پھر سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے اپنا ہاتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں پر رکھا اور عرض کی : یا رسول اللہ ! اسلام سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ کہ تم اپنا آپ ، اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دو ، اور تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اُس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، اور تم نماز قائم کرو ، اور تم زکوۃ ادا کرو ، انہوں نے عرض کی : جب میں ایسا کر لوں گا تو میں مسلمان ہو جاؤں گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! انہوں نے دریافت کیا : ایمان سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ کہ تم اللہ تعالیٰ ، آخرت کے دن ، فرشتوں ، کتاب ، انبیاء ، موت ، موت کے بعد کی زندگی ، جنت ، جہنم ، کتاب ، میزان ، اور اچھی یا بری ، ہر قسم کی تقدیر پر ایمان رکھو ! انہوں نے دریافت کیا : جب میں ایسا کر لوں گا ، تو کیا میں مؤمن شمار ہوؤں گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! پھر انہوں نے سوال کیا : یا رسول اللہ ! احسان سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ کہ تم اللہ تعالیٰ کی یوں عبادت کرو ، گویا تم اُسے دیکھ رہے ہو ، اور اگر تم اسے نہیں دیکھ سکتے ، تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے ، انہوں نے دریافت کیا : جب میں ایسا کر لوں گا ، تو کیا میں احسان کرنے والا شمار ہوؤں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! راوی بیان کرتے ہیں : ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب سن رہے تھے ، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ، جو شخص بات کر رہا تھا ، ہم اسے نہیں دیکھ رہے تھے ، اور نہ ہی اُس کا کلام سن رہے تھے ، اُس نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! قیامت کب قائم ہو گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سبحان اللہ ! غیب سے تعلق رکھنے والی پانچ چیزیں ایسی ہیں ، جن کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے ( جن کا ذکر قرآن مجید میں ، ان الفاظ میں ہے : ) ” بے شک قیامت کا علم ، اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے ، اور وہ بارش نازل کرتا ہے ، اور رحم میں جو ہے ، وہ اُس کو جانتا ہے ، کوئی یہ نہیں جانتا ، کہ وہ کل کیا کمائے گا ؟ اور کوئی یہ نہیں جانتا کہ وہ کون سی سرزمین پر مرے گا ؟ بیشک اللہ تعالیٰ علم رکھنے والا ، خبر رکھنے والا ہے “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لیکن اگر تم چاہو ، تو میں تمہیں اس کی علامات کے بارے میں بتا دیتا ہوں ، جو قیامت سے پہلے رونما ہوں گی ، سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے کہا: آپ مجھے بتا دیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم دیکھو کہ کنیز نے اپنے آقا کو جنم دیا ہے ، اور عمارتیں بنانے والے ، بلند عمارتیں تعمیر کر رہے ہیں اور ایسے تنگ دست لوگ ، جن کے پاؤں میں جوتے بھی نہیں ہوتے تھے ، وہ لوگوں کے حکمران بن گئے ہیں ، ( تو یہ قیامت قریب آ جانے کی بڑی نشانیاں ہوں گی ) انہوں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! وہ کون لوگ ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عریب ( تنگدست )
راوی بیان کرتے ہیں : پھر وہ شخص چلا گیا ، ہم نے اُس کا راستہ ( یعنی اس کو جاتے ہوئے ) نہیں دیکھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”سبحان اللہ ! یہ جبرائیل تھے جو لوگوں کو اُن کے دین کی تعلیم دینے کے لئے آئے تھے ، اُس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے ، یہ جب بھی میرے پاس آئے ، تو میں نے انہیں پہچان لیا ، البتہ اس مرتبہ کا معاملہ مختلف ہے “۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ۔
راوی بیان کرتے ہیں : پھر وہ شخص چلا گیا ، ہم نے اُس کا راستہ ( یعنی اس کو جاتے ہوئے ) نہیں دیکھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”سبحان اللہ ! یہ جبرائیل تھے جو لوگوں کو اُن کے دین کی تعلیم دینے کے لئے آئے تھے ، اُس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے ، یہ جب بھی میرے پاس آئے ، تو میں نے انہیں پہچان لیا ، البتہ اس مرتبہ کا معاملہ مختلف ہے “۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ۔
حدیث نمبر: 114
وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسًا مَعَ أَصْحَابِهِ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ عَلَيْهِ ثِيَابُ السَّفَرِ يَتَخَلَّلُ النَّاسَ ، حَتَّى جَلَسَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى رُكْبَةِ رَسُولِ اللَّهِ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، مَا الْإِسْلَامُ ؟ قَالَ : " شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، وَإِقَامُ الصَّلَاةِ ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ ، وَصَوْمُ شَهْرِ رَمَضَانَ ، وَحَجُّ الْبَيْتِ إِنِ اسْتَطَعْتَ إِلَيْهِ سَبِيلًا " . قَالَ : فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَأَنَا مُسْلِمٌ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : صَدَقْتَ . فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : انْظُرُوا هُوَ يَسْأَلُهُ وَهُوَ يُصَدِّقُهُ ، كَأَنَّهُ أَعْلَمُ مِنْهُ ، وَلَا يَعْرِفُونَ الرَّجُلَ ، ثُمَّ قَالَ يَا مُحَمَّدُ : مَا الْإِيمَانُ ؟ قَالَ : " الْإِيمَانُ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ ، وَبِالْمَوْتِ ، وَبِالْبَعْثِ ، وَبِالْحِسَابِ ، وَبِالْجَنَّةِ ، وَبِالنَّارِ ، وَبِالْقَدَرِ كُلِّهِ " . قَالَ : فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَأَنَا مُؤْمِنٌ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : صَدَقْتَ . قَالَ : يَا مُحَمَّدُ : مَا الْإِحْسَانُ ؟ قَالَ : " أَنْ تَخْشَى اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ ، فَإِنْ لَمْ تَرَهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ " . قَالَ : فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَأَنَا مُحْسِنٌ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : صَدَقْتَ . قَالَ : يَا مُحَمَّدُ : مَتَى السَّاعَةُ ؟ قَالَ : " مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ " . وَأَدْبَرَ الرَّجُلُ فَذَهَبَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : عَلَيَّ بِالرَّجُلِ فَاتَّبَعُوهُ يَطْلُبُونَهُ فَلَمْ يَرَوْا شَيْئًا ، فَعَادُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اتَّبَعْنَا الرَّجُلَ فَطَلَبْنَاهُ فَمَا رَأَيْنَا شَيْئًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ذَاكَ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَاءَكُمْ لِيُعَلِّمَكُمْ دِينَكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الضَّحَّاكُ بْنُ نِبْرَاسٍ ، قَالَ الْبَزَّارُ : لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ہمراہ تشریف فرما تھے ، اس دوران ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ، جس پر سفر کا لباس تھا ، وہ لوگوں کے درمیان میں سے گزرتا ہوا آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا ، اس نے اپنا ہاتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنے پر رکھا اور بولا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! اسلام سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی معبود ہے ، اُس کا کوئی شریک نہیں ہے اور سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، اور نماز قائم کرنا ، زکوۃ ادا کرنا ، رمضان کے مہینے کے روزے رکھنا اور بیت اللہ کا حج کرنا ، اگر تم وہاں تک جانے کی استطاعت رکھتے ہو ، اُس میں دریافت کیا : جب میں ایسا کر لوں گا ، تو کیا میں مسلمان شمار ہوؤں گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! اس نے کہا: آپ نے ٹھیک کہا: ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے ( ایک دوسرے سے ) کہا: تم لوگ اس شخص کو دیکھو کہ یہ خود ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کر رہا ہے ، اور آپ کی تصدیق یوں کر رہا ہے ، جیسے یہ آپ سے زیادہ علم رکھتا ہے ، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس شخص کو پہچانتے نہیں تھے ، اس نے کہا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! ایمان سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایمان یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ ، آخرت کے دن ، فرشتوں ، کتاب ، انبیاء ، موت دوبارہ زندہ ہونے ، حساب ، جنت ، جہنم اور ہر قسم کی تقدیر پر ایمان رکھو ، اُس نے دریافت کیا : جب میں ایسا کروں گا ، تو کیا میں مؤمن شمار ہوؤں گا ؟ نبی اکرم سلام نے فرمایا : جی ہاں ! اس نے کہا: آپ نے ٹھیک کہا: ہے پھر وہ بولا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! احسان سے کیا مراد ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ کہ تم اللہ تعالیٰ سے یوں ڈرو ! گویا تم اُسے دیکھ رہے ہو ، اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے ہو ، تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے ، اُس نے کہا: جب میں ایسا کر لوں گا ، تو کیا میں احسان والا شمار ہوؤں گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! اُس نے کہا: آپ نے ٹھیک کہا: ہے ، پھر اُس نے کہا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) قیامت کب آئے گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس بارے میں ، جس سے سوال کیا گیا ہے ، وہ سوال کرنے والے سے زیادہ علم نہیں رکھتا ۔
( راوی بیان کرتے ہیں : ) پھر وہ شخص مڑا اور چلا گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس شخص کو میرے پاس لاؤ لوگ اس کے پیچھے گئے انہوں نے اسے تلاش کیا ، لیکن انہیں کچھ نظر نہیں آیا ، وہ لوگ واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، اور بولے : یا رسول اللہ ! ہم اس شخص کے پیچھے گئے ہم نے اُسے تلاش کیا ، لیکن ہمیں کچھ نظر نہیں آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ جبرائیل تھے ، جو تمہارے پاس اس لئے آئے تھے ، تاکہ تمہیں تمہارے دین کی تعلیم دیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ضحاک بن نبراس ہے ، امام بزار کہتے ہیں : اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، جبکہ جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
( راوی بیان کرتے ہیں : ) پھر وہ شخص مڑا اور چلا گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس شخص کو میرے پاس لاؤ لوگ اس کے پیچھے گئے انہوں نے اسے تلاش کیا ، لیکن انہیں کچھ نظر نہیں آیا ، وہ لوگ واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، اور بولے : یا رسول اللہ ! ہم اس شخص کے پیچھے گئے ہم نے اُسے تلاش کیا ، لیکن ہمیں کچھ نظر نہیں آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ جبرائیل تھے ، جو تمہارے پاس اس لئے آئے تھے ، تاکہ تمہیں تمہارے دین کی تعلیم دیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ضحاک بن نبراس ہے ، امام بزار کہتے ہیں : اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، جبکہ جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 115
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : أَتَى ابْنَ عُمَرَ رَجُلٌ فَقَالَ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، إِنَّا نُسَافِرُ فَنَلْقَى أَقْوَامًا يَقُولُونَ : لَا قَدَرَ ، قَالَ : فَإِذَا لَقِيتَ أُولَئِكَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ مِنْهُمْ بَرِيءٌ ، كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ أَتَاهُ رَجُلٌ حَسَنُ الْوَجْهِ ، طَيِّبُ الرِّيحِ ، نَقِيُّ الثَّوْبِ ، فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَدْنُو مِنْكَ ؟ قَالَ : " ادْنُهْ " ، فَدَنَا دَنْوَةً . قَالَ ذَلِكَ مِرَارًا حَتَّى اصْطَكَّتَا رُكْبَتَاهُ بِرُكْبَتَيِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا الْإِسْلَامُ ؟ قَالَ : " شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، وَإِقَامُ الصَّلَاةِ ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ ، وَحَجُّ الْبَيْتِ ، وَصِيَامُ رَمَضَانَ ، وَالْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَةِ " . قَالَ : فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَأَنَا مُسْلِمٌ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : صَدَقْتَ ، فَمَا الْإِيمَانُ ؟ قَالَ : " الْإِيمَانُ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ حُلْوِهِ وَمُرِّهِ مِنَ اللَّهِ " . قَالَ : " فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَأَنَا مُؤْمِنٌ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : صَدَقْتَ ، فَمَا الْإِحْسَانُ ؟ قَالَ : تَعْبُدُ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنْ تَكُنْ لَا تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ " . قَالَ : فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَأَنَا مُحْسِنٌ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : صَدَقْتَ ، قُلْنَا : مَا رَأَيْنَا رَجُلًا [ أَحْسَنَ وَجْهًا وَلَا ] أَطْيَبَ رِيحًا وَلَا أَشَدَّ تَوْقِيرًا لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَوْلُهُ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : صَدَقْتَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " عَلَيَّ بِالرَّجُلِ " ، فَقُمْنَا ، وَقُمْتُ أَنَا إِلَى طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِينَةِ فَلَمْ نَرَ شَيْئًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَلْ تَدْرُونَ مَنْ هَذَا ؟ " قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : " هَذَا جِبْرِيلُ يُعَلِّمُكُمْ مَنَاسِكَ دِينِكُمْ ، مَا جَاءَنِي فِي صُورَةٍ قَطُّ إِلَّا عَرَفْتُهُ ، إِلَّا فِي هَذِهِ الصُّورَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ” ایک شخص اُن کے پاس آیا اور بولا: اے ابوعبدالرحمن ! ہم سفر کرتے ہیں ، تو ہماری ملاقات کچھ ایسے لوگوں سے ہوتی ہے ، جو یہ کہتے ہیں : تقدیر کی کوئی حقیقت نہیں ہے ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : جب تمہاری اُن سے ملاقات ہو ، تو تم انہیں بتا دینا کہ عبداللہ بن عمر کا اُن سے کوئی تعلق نہیں ہے ، ( پھر سیدنا عبداللہ بن عمر نے یہ حدیث بیان کی : ) ایک مرتبہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ، ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اُس کا چہرہ خوبصورت تھا ، خوشبو پاکیزہ تھی ، لباس صاف ستھرا تھا ، اُس نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ کو سلام ہو ، کیا میں آپ کے قریب آ جاؤں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قریب آ جاؤ ! تو وہ کچھ قریب ہو گیا ، اس نے چند مرتبہ یہی بات کی ، یہاں تک کہ اُس کے گھٹنے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں سے مل گئے ، اس نے کہا: یا رسول اللہ ! اسلام سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالٰی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ، اور نماز قائم کرنا ، زکوۃ دینا ، بیت اللہ کا حج کرنا ، رمضان کے روزے رکھنا اور جنابت کے بعد غسل کرنا اس نے دریافت کیا : جب میں یہ کر لوں گا ، تو کیا میں مسلمان شمار ہوؤں گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! تو اس نے کہا: آپ نے ٹھیک کہا: ہے ، ایمان سے کیا مراد ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایمان سے مراد یہ ہے کہ تم اللہ تعالٰی ، اُس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں ، جنت ، جہنم ، اچھی یا بری ، میٹھی یا کڑوی ( یعنی ہر قسم کی ) تقدیر ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے پر ایمان رکھو ، اس نے دریافت کیا : جب میں ایسا کر لوں گا ، تو کیا میں مؤمن شمار ہوؤں گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! اس نے کہا: آپ نے ٹھیک کہا: ہے احسان سے کیا مراد ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ کہ تم اللہ تعالی کی یوں عبادت کرو ، گویا تم اُسے دیکھ رہے ہو ، اور اگر تم اُسے نہیں دیکھ رہے ہو ، تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے ، اُس نے دریافت کیا : جب میں ایسا کروں گا ، تو کیا میں احسان والا شمار ہوؤں گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! اُس نے کہا: آپ نے ٹھیک کہا: ہے ۔ راوی کہتے ہیں : ہم نے سوچا ، ہم نے ایسا کوئی شخص نہیں دیکھا ، جو اس شخص سے زیادہ خوبصورت ، زیادہ پاکیزہ خوشبو والا ہو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا زیادہ احترام کرتا ہو ، اور پھر بھی یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہہ رہا ہے : کہ آپ نے ٹھیک کہا: ہے ( جب وہ شخص چلا گیا ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس شخص کو میرے پاس لاؤ ! ہم اُٹھے ، میں بھی اُٹھ کر مدینہ منورہ کے ایک راستے کی طرف گیا ، لیکن ہمیں کچھ نظر نہیں آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم لوگ جانتے ہو یہ کون تھا ؟ لوگوں نے عرض کی : اللہ اور اُس کا رسول زیادہ جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ جبرائیل تھے ، جو تمہیں تمہارے دین کے مناسک کی تعلیم دے رہے تھے ، یہ جس بھی شکل میں میرے پاس آئے ، میں نے انہیں پہچان لیا ، البتہ اس صورت کا معاملہ مختلف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔