کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اسلام کے فرائض اور اس کے حصوں کا بیان
حدیث نمبر: 104
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْإِسْلَامُ عَشَرَةُ أَسْهُمٍ - وَقَدْ خَابَ مَنْ لَا سَهْمَ لَهُ - : شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَهِيَ الْمِلَّةُ . وَالثَّانِيَةُ : الصَّلَاةُ ، وَهِيَ الْفِطْرَةُ . وَالثَّالِثَةُ : الزَّكَاةُ ، وَهِيَ الطُّهْرَةُ . وَالرَّابِعَةُ : الصَّوْمُ ، وَهِيَ الْجُنَّةُ . وَالْخَامِسَةُ : الْحَجُّ ، وَهِيَ الشَّرِيعَةُ . وَالسَّادِسَةُ : الْجِهَادُ ، وَهِيَ الْعُرَدَةُ . وَالسَّابِعَةُ : الْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ ، وَهُوَ الْوَفَاءُ . وَالثَّامِنَةُ : النَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ ، وَهِيَ الْحُجَّةُ . وَالتَّاسِعَةُ : الْجَمَاعَةُ ، وَهِيَ الْأُلْفَةُ . وَالْعَاشِرَةُ : الطَّاعَةُ ، وَهِيَ الْعِصْمَةُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ حَامِدُ بْنُ آدَمَ ، مَشْهُورٌ بِوَضْعِ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اسلام کے دس حصے ہیں اور وہ شخص رُسوا ہو گیا ، ، جس کا ان میں سے کوئی بھی حصہ نہ ہو ، اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے یہ چیز ملت ہے ، دوسری ( چیز ) نماز ہے اور یہ فطرت ہے ، تیسری چیز زکوۃ ہے اور یہ پاکیزگی ہے ، چوتھی چیز روزہ ہے ، اور یہ ڈھال ہے ، پانچویں چیز حج ہے اور یہ مخصوص طریقہ ہے ، چھٹی چیز جہاد ہے اور یہ مضبوط پشت ہے ساتویں چیز نیکی کا حکم دینا ہے اور یہ وفا ہے ، پانچویں چیز برائی سے منع کرنا ہے ، اور یہ حجت ہے نویں چیز جماعت ہے اور یہ الفت ہے ، دسویں چیز اطاعت ہے اور یہ بچاؤ ہے “ ۔

یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حامد بن آدم ہے ، جو حدیث ایجاد کرنے کے حوالے سے معروف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 104
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 11958 اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 7893»
حدیث نمبر: 105
وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " ثَلَاثٌ أَحْلِفُ عَلَيْهِنَّ : لَا يَجْعَلُ اللَّهُ مَنْ لَهُ سَهْمٌ فِي الْإِسْلَامِ كَمَنْ لَا سَهْمَ لَهُ - وَأَسْهُمُ الْإِسْلَامِ ثَلَاثَةٌ : الصَّلَاةُ وَالصَّوْمُ وَالزَّكَاةُ - وَلَا يَتَوَلَّى اللَّهَ عَبْدٌ فِي الدُّنْيَا فَيُوَلِّيهِ غَيْرَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَلَا يُحِبُّ الرَّجُلُ قَوْمًا إِلَّا جَعَلَهُ اللَّهُ مَعَهُمْ ، وَالرَّابِعَةُ : لَوْ حَلَفْتُ عَلَيْهَا لَرَجَوْتُ أَنْ لَا آثَمَ : لَا يَسْتُرُ اللَّهُ عَبْدًا فِي الدُّنْيَا إِلَّا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى أَيْضًا . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” تین چیزوں پر میں حلف اُٹھا سکتا ہوں ، جس شخص کا اسلام میں کوئی حصہ ہو ، اللہ تعالی نے اُسے اس شخص کی مانند نہیں کیا ہے جس کا ( اسلام میں ) کوئی حصہ نہ ہو ، اور اسلام کے تین حصے ہیں ، نماز ، روزہ اور زکوۃ ( دوسری بات یہ ہے : ) اللہ تعالیٰ دنیا میں جس بندے کو دوست رکھتا ہے ، تو قیامت کے دن اُسے کسی اور کے سپرد نہیں کرے گا ، اور ( تیسری بات یہ ہے : ) آدمی جب کسی قوم سے محبت رکھتا ہو گا ، تو اللہ تعالیٰ اُسے ان لوگوں کے ساتھ کر دے گا ، اور اگر ایک چوتھی بات پر میں حلف اٹھاؤں ، تو مجھے امید ہے کہ میں گناہ گار نہیں ہوؤں گا ، ( اور وہ یہ ہے : کہ ) اللہ تعالی دنیا میں جس بندے کی پردہ پوشی کرتا ہے ، تو قیامت کے دن بھی اُس کی پردہ پوشی کرے گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، یہ روایت امام ابویعلیٰ نے بھی نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 105
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «أورده المؤلف فى كشف الاستار 145/6 ، 160 اخرجه الامام ابو يعلى فى مسنده 4548، اورده المؤلف فى زوائد المسند 46»
حدیث نمبر: 106
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ بِمِثْلِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ، اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 106
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 107
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ ،: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ثَلَاثٌ لَوْ حَلَفْتُ عَلَيْهِنَّ لَبَرَرْتُ ، وَالرَّابِعَةُ لَوْ حَلَفْتُ عَلَيْهَا رَجَوْتُ أَنْ لَا آثَمَ : لَا يَجْعَلُ اللَّهُ مَنْ لَهُ سَهْمٌ فِي الْإِسْلَامِ كَمَنْ لَا سَهْمَ لَهُ ، وَلَا يَتَوَلَّى اللَّهُ عَبْدَهُ فِي الدُّنْيَا فَيُوَلِّيهِ غَيْرَهُ فِي الْآخِرَةِ ، وَلَا يُحِبُّ عَبْدٌ قَوْمًا إِلَّا بَعَثَهُ اللَّهُ مَعَهُمْ [ وَبَيْنَهُمْ ] ، وَالرَّابِعَةُ : لَا يَسْتُرُ اللَّهُ عَلَى عَبْدٍ فِي الدُّنْيَا إِلَّا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْمَعَادِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ فَضَالُ بْنُ جُبَيْرٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تین چیزوں کے بارے میں ، اگر میں قسم اٹھا لوں تو میں سچا ہوؤں گا ، اور اگر چوتھی بات کے بارے میں بھی قسم اٹھا لوں ، تو مجھے امید ہے کہ میں گناہ گار نہیں ہوؤں گا ( پہلی بات یہ ہے : ) جس شخص کا اسلام میں کوئی حصہ ہو ، اللہ تعالٰی نے اُسے اس شخص کی مانند نہیں کیا ہے ، جس کا اسلام میں کوئی حصہ نہ ہو ( دوسری بات یہ ہے : ) اللہ تعالیٰ جس بندے کو دنیا میں دوست بنا لے ، تو وہ آخرت میں اُس بندے کو کسی اور کے سپرد نہیں کرے گا ، ( تیسری بات یہ ہے : ) جب بندہ کسی قوم سے محبت رکھتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اسے اُن لوگوں کے ہمراہ ( اور اُن کے درمیان ) دوبارہ زندہ کرے گا ، ( چوتھی بات یہ ہے : ) کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں ، جس بندے کی پردہ پوشی کرتا ہے ، تو قیامت کے دن بھی اللہ تعالیٰ اُس کی پردہ پوشی کرے گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس میں ایک راوی فضال بن جبیر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 107
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 8023»
حدیث نمبر: 108
وَعَنْ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْإِسْلَامُ ثَمَانِيَةُ أَسْهُمٍ : الْإِسْلَامُ سَهْمٌ ، وَالصَّلَاةُ سَهْمٌ ، وَالزَّكَاةُ سَهْمٌ ، وَالْحَجُّ سَهْمٌ ، وَالْجِهَادُ سَهْمٌ ، وَصَوْمُ رَمَضَانَ سَهْمٌ ، وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ سَهْمٌ ، وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ سَهْمٌ ، وَقَدْ خَابَ مَنْ لَا سَهْمَ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِي إِسْنَادِهِ الْحَارِثُ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اسلام کے آٹھ حصے ہیں ، اسلام ( یعنی کلمہ شہادت ) ایک حصہ ہے ، نماز ایک حصہ ہے ، زکوۃ ایک حصہ ہے ، حج ایک حصہ ہے ، جہاد ایک حصہ ہے ، رمضان کے روزے ایک حصہ ہے ، نیکی کا حکم دینا ایک حصہ ہے ، برائی سے منع کرنا ایک حصہ ہے ، وہ شخص رسوا ہو گیا ، جس کا ( اِن میں سے ) کوئی حصہ نہ ہو “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حارث ہے اور وہ کذاب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 108
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «اخرجه الامام ابو يعلى فى مسنده 519 اورده المؤلف فى المقصد العلى 14»
حدیث نمبر: 109
وَعَنْ حُذَيْفَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْإِسْلَامُ ثَمَانِيَةُ أَسْهُمٍ : الْإِسْلَامُ سَهْمٌ ، وَالصَّلَاةُ سَهْمٌ ، وَالزَّكَاةُ سَهْمٌ ، وَحَجُّ الْبَيْتِ سَهْمٌ ، وَالصِّيَامُ سَهْمٌ ، وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ سَهْمٌ ، وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ سَهْمٌ ، وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ سَهْمٌ ، وَقَدْ خَابَ مَنْ لَا سَهْمَ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ عَطَاءٍ ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اسلام کے آٹھ حصے ہیں ، اسلام ( یعنی کلمہ شہادت ) ایک حصہ ہے ، نماز ایک حصہ ہے ، زکوۃ ایک حصہ ہے ، بیت اللہ کا حج ایک حصہ ہے ، روزے رکھنا ایک حصہ ہے ، نیکی کا حکم دینا ایک حصہ ہے ، برائی سے منع کرنا ایک حصہ ہے ، اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ایک حصہ ہے ، تحقیق وہ شخص خسارے کا شکار ہو گیا ، جس کا ( ان میں سے ) کوئی حصہ نہ ہو “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی یزید بن عطاء ہے ، جسے امام أحمد اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، لیکن ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اس روایت کے باقی راوی ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 109
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «أورده المؤلف فى كشف الاستار 336 ، 337 ، 875»
حدیث نمبر: 110
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : ثَلَاثٌ لَوْ حَلَفْتُ عَلَيْهِنَّ ، فَذَكَرَهُ مَوْقُوفًا ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : تین باتیں ہیں ، جن پر میں قسم اٹھا سکتا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد مصنف نے اسے موقوف روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، اور اس کی سند منقطع ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 110
درجۂ حدیث محدثین: موقوف، منقطع السند۔
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 3/257»
حدیث نمبر: 111
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ لِلْإِسْلَامِ ضَوْءًا وَعَلَامَاتٍ كَمَنَارِ الطَّرِيقِ . وَرَأْسُهُ وَجِمَاعُهُ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، وَإِقَامُ الصَّلَاةِ ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ ، وَتَمَامُ الْوُضُوءِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اسلام کی مخصوص روشنی اور علامات ہیں ، جس طرح راستے میں مینار ہوتا ہے ، اس کا سرا اور مجموعہ اس بات کی گواہی دینا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں اور نماز قائم کرنا ، زکوٰۃ دینا اور مکمل وضو کرنا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 111
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح