حدیث نمبر: 97
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ الرَّحْمَنِ لَلَوْحًا فِيهِ ثَلَاثُمِائَةٍ وَخَمْسَ عَشْرَةَ شَرِيعَةً ، يَقُولُ الرَّحْمَنُ - عَزَّ وَجَلَّ - : وَعِزَّتِي وَجَلَالِي ، لَا يَأْتِي عَبْدٌ مِنْ عِبَادِي لَا يُشْرِكُ بِي شَيْئًا فِيهِ وَاحِدَةٌ مِنْهَا إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِي إِسْنَادِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَاشِدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” رحمان کے سامنے ایک لوح موجود ہے ، جس میں تین سو پندرہ شریعتیں ہیں ، رحمان فرماتا ہے : مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم ہے ! میرے بندوں میں سے ، جو بھی بندہ کسی کو میرا شریک نہیں ٹھہراتا ہو گا ، تو وہ ان میں سے ، جس کسی پر بھی عمل پیرا ہو گا ، وہ جنت میں داخل ہو جائے گا“ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن راشد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن راشد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 98
وَعَنْ عُبَيْدٍ - وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْإِيمَانُ ثَلَاثُمِائَةٍ وَثَلَاثُونَ شَرِيعَةً ، مَنْ وَافَى بِشَرِيعَةٍ مِنْهُنَّ دَخَلَ الْجَنَّةَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ عِيسَى بْنُ سِنَانٍ الْقَسْمَلِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَابْنُ خِرَاشٍ وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدٍ لَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبید رضی اللہ عنہ ، جنہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے ، اُن کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان منقول ہے : ” ایمان کی تین سو تیس شریعتیں ہیں ، جو شخص اُن میں سے ، جس شریعت کو پورا کرے گا ، وہ جنت میں داخل ہو گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن سنان قسملی ہے ، جسے ابن حبان اور ابن خراش نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، جبکہ عبدالرحمن بن عبید نامی راوی کے بارے میں ، میں نے کسی کو ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن سنان قسملی ہے ، جسے ابن حبان اور ابن خراش نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، جبکہ عبدالرحمن بن عبید نامی راوی کے بارے میں ، میں نے کسی کو ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
حدیث نمبر: 99
وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ لِلَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - مِائَةَ خُلُقٍ وَسِتَّةَ عَشَرَ خُلُقًا ، مَنْ أَتَاهُ بِخُلُقٍ مِنْهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الْمُسْنَدِ الْكَبِيرِ . ¤ وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى : " مِائَةَ خُلُقٍ وَسَبْعَةَ عَشَرَ خُلُقًا " . وَفِي إِسْنَادِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَاشِدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ طَرِيقِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَاشِدٍ ، وَقَالَ : " مِائَةً وَسَبْعَ عَشْرَةَ شَرِيعَةً " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اللہ تعالی کے ( مقرر کردہ ، یا پسندیدہ ) ایک سو سولہ اخلاق ہیں ، جو شخص اُن میں سے کسی ایک پر عمل پیرا ہو گا ، وہ جنت میں داخل ہو گا “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے ” مسند کبیر “ میں نقل کی ہے ، ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” ایک سو سترہ ، اخلاق ہیں“ ۔ اس کی سند میں موجود ایک راوی عبداللہ بن راشد ہے اور وہ ضعیف ہے ، امام بزار نے یہ روایت عبداللہ بن راشد کے حوالے سے نقل کی ہیں اور یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” ایک سو سترہ شریعتیں“ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے ” مسند کبیر “ میں نقل کی ہے ، ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” ایک سو سترہ ، اخلاق ہیں“ ۔ اس کی سند میں موجود ایک راوی عبداللہ بن راشد ہے اور وہ ضعیف ہے ، امام بزار نے یہ روایت عبداللہ بن راشد کے حوالے سے نقل کی ہیں اور یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” ایک سو سترہ شریعتیں“ ۔
حدیث نمبر: 100
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ لِلَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - لَوْحًا مِنْ زَبَرْجَدَةٍ خَضْرَاءَ تَحْتَ الْعَرْشِ ، كَتَبَ فِيهِ : أَنَا اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ ، خَلَقْتُ بِضْعَةَ عَشَرَ وَثَلَاثَمِائَةِ خُلُقٍ ، مَنْ جَاءَ بِخُلُقٍ مِنْهَا مَعَ شَهَادَةِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ أَبُو ظِلَالٍ الْقَسْمَلِيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَالْأَكْثَرُ عَلَى تَضْعِيفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” عرش کے نیچے موجود ، سبز زبرجد سے بنی ہوئی ، اللہ تعالیٰ کی ایک لوح ہے ، جس میں اُس نے یہ تحریر کیا ہے : میں اللہ ہوں ، میرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، میں سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہوں میں نے تین سو دس سے کچھ زیادہ اخلاق پیدا کیے ہیں ، جو شخص لا الہ الا اللہ کی گواہی کے ہمراہ ، ان میں سے کوئی ایک اخلاق لے کر آئے گا ، میں اُسے جنت میں داخل کر دوں گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوظلال قسملی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ زیادہ تر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوظلال قسملی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ زیادہ تر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 101
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْإِسْلَامُ ثَلَاثُمِائَةِ شَرِيعَةٍ وَثَلَاثَ عَشْرَةَ شَرِيعَةً ، لَيْسَ مِنْهَا شَرِيعَةٌ يَلْقَى اللَّهَ بِهَا صَاحِبُهَا إِلَّا وَهُوَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِإِسْنَادٍ فِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اسلام کی تین سو تیرہ شریعتیں ہیں ، ان میں سے ہر ایک شریعت کا یہ عالم ہے کہ جو بھی شخص اس شریعت کے ہمراہ ، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ، وہ شخص جنت میں داخل ہو گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، جو ایسی سند کے ساتھ منقول ہے ، جس میں عبیداللہ بن زحر نامی راوی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، جو ایسی سند کے ساتھ منقول ہے ، جس میں عبیداللہ بن زحر نامی راوی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 102
وَعَنْ عُبَيْدٍ - وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْإِيمَانُ ثَلَاثُمِائَةٍ وَثَلَاثُونَ شَرِيعَةً ، مَنْ وَافَى بِوَاحِدَةٍ مِنْهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ مَجَاهِيلُ ، وَالْمِنْهَالُ بْنُ بَحْرٍ وَأَبُو سِنَانٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبید رضی اللہ عنہ ، انہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے ، اُن کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان منقول ہے : ” ایمان کی تین سو تیس شریعتیں ہیں ، جو شخص اُن میں سے کسی ایک پر عمل کرے گا ، وہ جنت میں داخل ہو گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں مجہول راوی پائے جاتے ہیں ، جیسے منہال بن بحر اور ابو سنان
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں مجہول راوی پائے جاتے ہیں ، جیسے منہال بن بحر اور ابو سنان
حدیث نمبر: 103
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ شُعْبَةً ، أَرْفَعُهَا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ إِسْنَادِهِ مَسْتُورُونَ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ایمان کے ستر سے کچھ زیادہ شعبے ہیں ، جن میں سب سے بلند تر لا الہ الا اللہ پڑھنا ہے ، اور سب سے معمولی ( شعبہ ) راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، جس کی سند کے افراد مستور ہیں ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، جس کی سند کے افراد مستور ہیں ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔