حدیث نمبر: 992
وَعَنْهُ قَالَ : هَلْ تَدْرُونَ مَا ذَهَابُ الْعِلْمِ ؟ هُوَ ذَهَابُ الْعُلَمَاءِ مِنَ الْأَرْضِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ يَأْتِي فِي سُورَةِ سَأَلَ ، وَفِيهِ قَابُوسٌ ، وَاخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ . ¤ وَيَأْتِي حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي الْفَرَائِضِ . ¤
محمد محی الدین

اُن کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ فرماتے ہیں : کیا تم لوگ جانتے ہو ؟ علم کے رخصت ہونے سے مراد کیا ہے ؟ وہ زمین سے علماء کا رخصت ہو جانا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے ایک حدیث میں نقل کی ہے ، جو آگے چل کر ” سورہ سال “ سے متعلق باب میں آئے گی ، اس کی سند میں ایک راوی قابوس ہے ، جس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث ” فرائض “ ( یعنی وراثت ) سے متعلق باب میں آگے آئے گی ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 992
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى زوائد المسند 278»