مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابُ ذَهَابِ الْعِلْمِ . باب: علم کا رخصت ہو جانا
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ : شَهِدْتُ جِنَازَةَ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، فَلَمَّا دُفِنَ فِي قَبْرِهِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : يَا هَؤُلَاءِ ، مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَعْلَمَ كَيْفَ ذَهَابُ الْعِلْمِ فَهَكَذَا ذَهَابُ الْعِلْمِ . أَيْمُ اللَّهِ ، لَقَدْ ذَهَبَ الْيَوْمَ عِلْمٌ كَثِيرٌ . قَالَ سَعِيدٌ : وَالْقَائِلُ : لَقَدْ ذَهَبَ الْيَوْمَ عِلْمٌ كَثِيرٌ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سعید بن مسیب فرماتے ہیں : میں سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے جنازے میں شریک ہوا ، جب انہیں قبر میں دفن کر دیا گیا ، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اے لوگو ! جو شخص یہ پسند کرتا ہو کہ اُسے یہ پتہ چل جائے کہ علم کیسے رخصت ہوتا ہے ؟ تو علم اس طرح رخصت ہو گا ، اللہ کی قسم ! آج بہت سا علم رخصت ہو گیا ۔ سعید بن مسیب فرماتے ہیں : کہنے والا یہ بھی کہے گا : آج بہت سا علم رخصت ہو گیا ، اُن کی مراد ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید بن جدعان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔