مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ ابْتِدَاءِ أَمْرِ الْأَنْصَارِ ، وَالْبَيْعَةِ عَلَى الْحَرْبِ باب: انصار کے معاملے کے آغاز کا بیان اور ان کا جنگ پر بیعت کرنا
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : مَكَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَشْرَ سِنِينَ يَتْبَعُ النَّاسَ فِي مَنَازِلِهِمْ بِعُكَاظٍ وَمَجَنَّةٍ ، وَفِي الْمَوْسِمِ بِمِنًى ، يَقُولُ : " مَنْ يُؤْوِينِي مَنْ يَنْصُرُنِي حَتَّى أُبَلِّغَ رِسَالَةَ رَبِّي وَلَهُ الْجَنَّةُ ؟ " . ¤ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَخْرُجُ مِنَ الْيَمَنِ ، أَوْ مِنْ مُضَرِ كَذَا ، قَالَ : قَالَ : فَيَأْتِيِهِ قَوْمُهُ ، فَيَقُولُونَ : احْذَرْ غُلَامَ قُرَيْشٍ لَا يَفْتِنُكَ ، وَهُوَ يَمْشِي بَيْنَ رِحَالِهِمْ ، وَهُمْ يُشِيرُونَ إِلَيْهِ بِالْأَصَابِعِ ، حَتَّى بَعَثَنَا اللَّهُ مِنْ يَثْرِبَ فَآوَيْنَاهُ ، وَصَدَّقْنَاهُ ، فَيَخْرُجُ الرَّجُلُ مِنَّا فَيُؤْمِنُ بِهِ وَيُقْرِئُهُ الْقُرْآنَ فَيَنْقَلِبُ إِلَى أَهْلِهِ فَيُسْلِمُونَ بِإِسْلَامِهِ ، حَتَّى لَمْ يَبْقَ دَارٌ مِنْ دُورِ الْأَنْصَارِ إِلَّا وَفِيهَا رَهْطٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يُظْهِرُونَ الْإِسْلَامَ . ¤ ثُمَّ ائْتَمَرُوا جَمِيعًا ، فَقُلْنَا : حَتَّى مَتَى نَتْرُكُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُطْرَدُ فِي جِبَالِ مَكَّةَ وَيَخَافُ ؟ فَرَحَلَ إِلَيْهِ سَبْعُونَ رَجُلًا مِنَّا حَتَّى قَدِمُوا عَلَيْهِ فِي الْمَوْسِمِ فَوَاعَدْنَا شِعْبَ الْعَقَبَةِ ، فَاجْتَمَعُوا عِنْدَهَا مِنْ رَجُلٍ وَرَجُلَيْنِ حَتَّى تَوَافَيْنَا ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَى مَا نُبَايِعُكَ ؟ قَالَ : " تُبَايِعُونِي عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي النَّشَاطِ وَالْكَسَلِ وَالنَّفَقَةِ فِي الْعُسْرِ والْيُسْرِ ، وَعَلَى الْأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْمُنْكَرِ ، وَأَنْ تَقُولُوا لِلَّهِ لَا تَخَافُوا فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ ، وَعَلَى أَنْ تَنْصُرُونِي فَتَمْنَعُونِي إِذَا قَدِمْتُ عَلَيْكُمْ مِمَّا تَمْنَعُونَ مِنْهُ أَنْفُسَكُمْ ، وَأَزْوَاجَكُمْ وَأَبْنَاءَكُمْ وَلَكُمُ الْجَنَّةُ " . ¤ قَالَ : فَقُمْنَا إِلَيْهِ فَبَايَعْنَاهُ ، وَأَخَذَ بِيَدِهِ أَسْعَدُ بْنُ زُرَارَةَ وَهُوَ أَصْغَرُهُمْ ، فَقَالَ : رُوَيْدًا يَا أَهْلَ يَثْرِبَ ، فَإِنَّا لَمْ نَضْرِبْ إِلَيْهِ أَكْبَادَ الْإِبِلِ إِلَّا وَنَحْنُ نَعْلَمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ ، وَإِنَّ إِخْرَاجَهُ الْيَوْمَ مُفَارَقَةُ الْعَرَبِ كَافَّةً ، وَقَتْلُ خِيَارِكُمْ وَأَنْ تَعَضَّكُمُ السُّيُوفُ ، أَمَّا أَنْتُمْ قَوْمٌ تَصْبِرُونَ عَلَى ذَلِكَ ، وَأَجْرُكُمْ عَلَى اللَّهِ ، وَأَمَّا أَنْتُمْ قَوْمٌ تَخَافُونَ مِنْ أَنْفُسِكُمْ خَبِيئَةً ، فَتُبَيِّنُوا ذَلِكَ فَهُوَ أَعْذَرُ لَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ ، قَالُوا : أَمِطْ عَنَّا يَا أَسْعَدُ فَوَاللَّهِ لَا نَدَعُ هَذِهِ الْبَيْعَةَ أَبَدًا ، وَلَا نَسْلُبُهَا أَبَدًا قَالَ : فَقُمْنَا إِلَيْهِ ، فَبَايَعْنَاهُ فَأَخَذَ عَلَيْنَا ، وَشَرَطَ ، وَيُعْطِينَا عَلَى ذَلِكَ الْجَنَّةَ . ¤ قُلْتُ : رَوَى أَصْحَابُ السُّنَنِ مِنْهُ طَرَفًا . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ : فَوَاللَّهِ لَا نَذَرُ هَذِهِ الْبَيْعَةَ وَلَا نَسْتَقِيلُهَا . وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دس سال تک عکا ظاور مجنہ ( کے میلوں ) میں ، اور حج کے موقع پر منی میں ، لوگوں کے پاس ان کے رہائشی جگہوں پر تشریف لے جاتے رہے ، اور یہ فرماتے رہے : کون مجھے پناہ دے گا ؟ کون میری مدد کرے گا ؟ تاکہ میں اپنے پروردگار کی رسالت کی تبلیغ کروں ، اُسے جنت نصیب ہو گی ، یہاں تک کہ ایک شخص ، جو یمن سے یا فلاں جگہ کے مضر قبیلے سے چلتا ، تو اس کی قوم کے افراد اس کے پاس جا کر یہ کہتے : تم قریش کے اس نوجوان سے بچ کے رہنا ، کہیں وہ تمہیں آزمائش کا شکار نہ کر دے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اُن لوگوں کی رہائشی جگہوں کے درمیان چلتے رہتے اور وہ لوگ انگلیوں کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اشارے کرتے رہتے ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یثرت سے بھیجا ، ہم نے آپ کو پناہ دی اور ہم نے آپ کی تصدیق کی ، ہم میں سے ایک شخص نکلا ، وہ آپ پر ایمان لایا ، آپ نے اسے قرآن کی تعلیم دی ، وہ اپنے گھر والوں کے پاس واپس گیا ، اور اس کے اہل خانہ بھی اس کے اسلام کی بدولت مسلمان ہو گئے ، یہاں تک کہ انصار کے ہر ایک محلے میں کچھ مسلمان ہو گئے ، جو اپنے اسلام کا اظہار کرتے تھے ، پھر ان سب لوگوں نے مل کر یہ طے کیا اور یہ کہا: ہم کب تک اللہ کے رسول کو اس حالت میں رہنے دیں گے کہ آپ مکہ کے پہاڑوں کے درمیان رہیں اور اندیشے کا شکار رہیں ، تو ہم میں سے ستر افراد سوار ہو کر حج کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، ہم نے یہ طے کیا کہ عقبہ کی گھاٹی میں ملیں گے ، وہاں ایک ، ایک دو ، دو کر کے افراد اکٹھے ہونا شروع ہوئے یہاں تک کہ ہم سب اکٹھے ہو گئے ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم کس بات پر آپ کی بیعت کریں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم چستی اور سستی ، ہر حال میں اطاعت و فرمانبرداری کرنے ، اور تنگی اور خوشحالی ہر حال میں خرچ کرنے ، نیکی کا حکم دینے ، برائی سے منع کرنے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق بات کرنے اور اللہ تعالیٰ کے حوالے سے کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے خوف زدہ نہ ہونے اور میری مدد کرنے ، اور جب میں تمہارے پاس آؤں ، تو جس طرح تم اپنی اور اپنے بال بچوں کی حفاظت کرتے ہو ، اس طرح میری حفاظت کرنے کی بیعت کرو ، تمہیں جنت نصیب ہو گی ، راوی کہتے ہیں : ہم اٹھ کر آپ کے پاس آئے اور آپ کی بیعت کر لی سیدنا اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ نے اٹھ کر آپ کا ہاتھ پکڑا ، وہ ان لوگوں میں سب سے کمسن تھے ، انہوں نے کہا: اے اہل یثرب ٹھہر جاؤ ! ہم سفر کر کے ان کے پاس آئے ہیں ، صرف اس وجہ سے کہ ہم یہ بات جانتے ہیں کہ یہ اللہ کے رسول ہیں ، اور آج انہیں لے کر جانا ، تمام عربوں سے جدا ہونے کے مترادف ہے ، تمہارے بہترین لوگ قتل ہو جائیں گے ، تلواریں تمہیں کاٹ دیں گی ، اگر تو تم ایسے لوگ ہو کہ ایسی صورت حال پر صبر کرو گے ، تو تمہارا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہو گا اور اگر تم ایسے لوگ ہو کہ تم اپنی ذات کے حوالے سے خوف رکھتے ہو ، تو تم اس چیز کو بیان کر دو ! اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عذر پیش کرنے کے حوالے سے ، یہ تمہارے لئے زیادہ موزوں ہو گا ، تو اُن لوگوں نے کہا: اے اسعد ! تم ایک طرف ہٹ جاؤ ! اللہ کی قسم ! ہم اس بیعت کو کبھی نہیں چھوڑیں گے اور اسے کبھی ترک نہیں کریں گے ، تو ہم اُٹھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھے اور ہم نے آپ کی بیعت کر لی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بیعت لی اور یہ شرط عائد کی کہ اس کے بدلے میں ہمیں جنت نصیب ہو گی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” سنن “ کے مولفین نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، انہوں نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” اللہ کی قسم ! ہم اس بیعت کو کبھی نہیں چھوڑیں گے اور ہم اسے کبھی واپس نہیں لیں گے “ ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔