مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ الْبَيْعَةِ عَلَى الْإِسْلَامِ الَّتِي تُسَمَّى بَيْعَةَ النِّسَاءِ باب: اسلام پر بیعت جسے خواتین کی بیعت کا نام دیا گیا ہے
وَعَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ قُدَامَةَ ، قَالَتْ : أَنَا مَعَ أُمِّي رَائِطَةَ بِنْتِ سُفْيَانَ الْخُزَاعِيَّةِ ، وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُبَايِعُ النِّسْوَةَ ، وَيَقُولُ : " أُبَايِعُكُنَّ عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا ، وَلَا تَسْرِقْنَ ، وَلَا تَزْنِينَ ، وَلَا تَقْتُلْنَ أَوْلَادَكُنَّ ، وَلَا تَأْتِينَ بِبُهْتَانٍ تَفْتَرِينَهُ بَيْنَ أَيْدِيكُنَّ وَأَرْجُلِكُنَّ ، وَلَا تَعْصِينَ فِي مَعْرُوفٍ " . قُلْنَ : نَعَمْ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قُلْنَ : نَعَمْ . فِيمَا اسْتَطَعْتُنَّ " . فَكُنْتُ أَقُولُ كَمَا يَقُلْنَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " أُبَايِعُكُنَّ عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكْنَ " . وَقَالَ : " قُلْنَ : نَعَمْ ، فِيمَا اسْتَطَعْنَهُ " . قُلْنَ : نَعَمْ ، فِيمَا اسْتَطَعْنَا . وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدہ عائشہ بنت قدامہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں اپنی والدہ سیدہ رائطہ بنت سفیان خزاعیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خواتین سے بیعت لے رہے تھے ، اور یہ فرما رہے تھے : میں اس بات پر تم سے بیعت لیتا ہوں کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گی ، تم چوری نہیں کرو گی ، تم زنا نہیں کرو گی ، تم اپنی اولاد کو قتل نہیں کرو گی ، تم اپنی طرف سے ایجاد کر کے بہتان نہیں لگاؤ گی ، اور تم بھلائی کے بارے میں نافرمانی نہیں کرو گی ، اُن خواتین نے کہا: ٹھیک ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جہاں تک تم سے ہو سکے ، راوی خاتون کہتی ہیں : تو میں نے بھی اُسی طرح کے کلمات کہے ، جس طرح کے کلمات اُن خواتین نے کہے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : میں تم سے اس بات کی بیعت لیتا ہوں کہ تم شرک نہیں کرو گی ۔ اور راوی نے یہ کہا: ہے : اُن خواتین نے کہا: ٹھیک ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جہاں تک تمہاری استطاعت ہو ، تو ان خواتین نے کہا: ٹھیک ہے ، جہاں تک ہماری استطاعت ہوئی ( ہم اس پر عمل کریں گی ) ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عثمان بن ابراہیم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔