حدیث نمبر: 9864
وَعَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ : لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَدِينَةَ جَمَعَ نِسَاءَ الْأَنْصَارِ فِي بَيْتٍ ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَيْهِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، فَقَامَ عَلَى الْبَابِ فَسَلَّمَ عَلَيْهِنَّ ، فَرَدَدْنَ السَّلَامَ ، فَقَالَ : أَنَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَيْكُنَّ ، فَقُلْنَ : مَرْحَبًا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبِرَسُولِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : تُبَايِعْنَ عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا ، وَلَا تَسْرِقْنَ ، وَلَا تَزْنِينَ ، وَلَا تَقْتُلْنَ أَوْلَادَكُنَّ ، وَلَا تَأْتِينَ بِبُهْتَانٍ تَفْتَرِينَهُ بَيْنَ أَيْدِيكُنَّ وَأَرْجُلِكُنَّ ، وَلَا تَعْصِينَ فِي مَعْرُوفٍ ، قُلْنَ : نَعَمْ . فَمَدَّ عُمَرُ يَدَهُ مِنْ خَارِجِ الْبَابِ وَمَدَدْنَ هُنَّ أَيْدِيَهُنَّ مِنْ دَاخِلٍ ، ثُمَّ قَالَ : اللَّهُمَّ اشْهَدْ ، وَأَمَرَ أَنْ يَخْرُجَ فِي الْعِيدَيْنِ الْحُيَّضُ وَالْعُتَّقُ ، وَنُهِينَا عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ ، وَلَا جُمْعَةَ عَلَيْنَا ، فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْبُهْتَانِ ، وَعَنْ قَوْلِهِ : ( وَلَا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ ) قَالَ : هِيَ النِّيَاحَةُ . قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے ، تو آپ نے انصار کی خواتین کو ایک گھر میں جمع اور اکٹھا کروایا ، پھر آپ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو ان خواتین کی طرف بھیجا ، وہ دروازے پر کھڑے ہوئے انہوں نے ان خواتین کو سلام کیا ، خواتین نے انہیں جواب دیا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں اللہ کے رسول کا تمہاری طرف نمائندہ ہوں ، ان خواتین نے کہا: اللہ کے رسول کو ، اور اللہ کے رسول کے نمائندے کو خوش آمدید ! سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم اس بات کی گواہی دو کہ تم کسی کو اللہ تعالیٰ کا شریک نہیں ٹھہراؤ گی ، تم چوری نہیں کرو گی ، تم زنا نہیں کرو گی ، تم اپنی اولاد کو قتل نہیں کرو گی ، تم اپنی طرف سے ایجاد کر کے بہتان نہیں لگاؤ گی اور تم بھلائی کے بارے میں نافرمانی نہیں کرو گی ، ان خواتین نے کہا: ٹھیک ہے ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دروازے کے باہر کی طرف سے اپنا ہاتھ بڑھایا اور ان خواتین نے اندرونی حصے سے اپنا ہاتھ بڑھایا ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے اللہ ! تو گواہ ہو جا ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا تھا کہ عیدین کے موقع پر ، حیض والی خواتین اور آزاد عورتیں ( یا لڑکیاں ) بھی نکلیں گی ، تاہم ہمیں ( یعنی خواتین کو ) جنازے کے ساتھ جانے سے منع کر دیا گیا ، اور ہم پر جمعہ بھی لازم قرار نہیں دیا گیا ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے ان سے بہتان کے بارے میں دریافت کیا ، اور اس فرمان کے بارے میں دریافت کیا ، کہ وہ بھلائی کے کام میں تمہاری نافرمانی نہیں کریں گی ، تو انہوں نے جواب دیا : اس سے مراد نوحہ کرنا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے یہ روایت انتہائی اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ ، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9864
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (71) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (45/25) اخرجه احمد فى المسند (85/5)»