مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابُ تَدْوِينِ الْعَطَاءِ . باب: سرکاری ادائیگیوں کی تدوین
وَعَنْ نَافِعٍ قَالَ : فَكَانَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ لَا يَفْرِضُ لِأَحَدٍ لَا يَبْلُغُ الْحُلُمَ إِلَّا مِائَةَ دِرْهَمٍ ، وَكَانَ لَا يَفْرِضُ لِمَوْلُودٍ حَتَّى يُفْطَمَ ، فَبَيْنَا هُوَ يَطُوفُ ذَاتَ لَيْلَةٍ بِالْمُصَلَّى فَسَمِعَ بُكَاءَ صَبِيٍّ ، فَقَالَ لِأُمِّهِ : أَرْضِعِيهِ . فَقَالَتْ : إِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لَا يَفْرِضُ لِمَوْلُودٍ حَتَّى يُفْطَمَ ، وَإِنِّي فَطَمْتُهُ . ¤ فَقَالَ عُمَرُ : كِدْتُ أَنْ أَقْتُلَهُ ، أَرْضِعِيهِ فَإِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ سَوْفَ يَفْرِضُ لَهُ ، ثُمَّ فَرَضَ لَهُ بَعْدَ ذَلِكَ ، وَلِلْمَوْلُودِ حِينَ يُولَدُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤نافع بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر بن عبدالعزیز بالغ نہ ہونے والے ہر فرد کے لئے ایک سو درہم کا حصہ مقرر کرتے تھے اور وہ کسی نومولود بچے کے لئے حصہ مقرر نہیں کرتے تھے جب تک اس کا دودھ نہیں چھڑا لیا جاتا تھا ایک رات وہ گھوم رہے تھے ۔ انہوں نے ایک بچے کے رونے کی آواز سنی تو انہوں نے اس کی والدہ سے کہا: تم اسے دودھ پلاؤ اس نے کہا: امیر المؤمنین نومولود بچے کے لئے اس وقت تک حصہ مقرر نہیں کرتے جب تک اس کا دودھ نہ چھڑا لیا جائے تو میں نے اس کا دودھ چھڑا لیا ہے سیدنا عمر بن عبدالعزیز نے فرمایا : اس طرح تو میں اسے قتل کرنے کا مرتکب ہو جاؤں گا تم اسے دودھ پلاؤ ! عنقریب امیر المؤمنین اس کا حصہ مقرر کر دیں گے اس کے بعد انہوں نے ایسے بچوں کے لئے بھی حصہ مقرر کر دیا کہ جب بچہ پیدا ہو گا ، تو اسے حصہ ملے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔