مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابُ الْمَنِّ عَلَى الْأَسِيرِ . باب: قیدی پر احسان کرنا
وَعَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ حُذَيْفَةَ قَالَ : كُنْتُ أَسْأَلُ النَّاسَ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ وَهُوَ إِلَى جَنْبِي بِالْكُوفَةِ فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ : مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكَ ؟ قَالَ : بُعِثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ بُعِثَ فَكُنْتُ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ لَهُ كَرَاهِيَةً حَتَّى انْطَلَقْتُ هَارِبًا حَتَّى لَحِقْتُ بِأَرْضِ الشَّامِ فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ بَلَغَنَا أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ قَدْ تَوَجَّهَ إِلَيْنَا فَانْطَلَقْتُ هَارِبًا حَتَّى لَحِقْتُ الرُّومَ فَبَيْنَا أَنَا كَذَلِكَ فِي ظِلِّ حَائِطٍ قَاعِدًا إِذَا أَنَا بِظَعِينَةٍ قَدْ أَقْبَلَتْ فَقُمْتُ إِلَيْهَا فَقَالَتْ : يَا عَدِيُّ بْنَ حَاتِمٍ هَرَبْتَ وَتَرَكْتَنِي ؟ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ خَرَجْتَ مِنْ عِنْدِنَا فَصَبَّحَنَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَسَبَى الذُّرِّيَّةَ وَقَتَلَ الْمُقَاتِلَةَ فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَا الْمَدِينَةَ فَبَيْنَا أَنَا ذَاتَ يَوْمٍ قَاعِدَةٌ إِذْ مَرَّ بِيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يُرِيدُ الصَّلَاةَ فَقُلْتُ : يَا مُحَمَّدُ هَلَكَ الْوَالِدُ وَهَرَبَ الْوَافِدُ أَعْتِقْ أَعْتَقَكَ اللَّهُ قَالَ : " وَمَنْ وَافِدُكِ ؟ " . قُلْتُ : عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ قَالَ : " الْفَارُّ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ؟ " . وَمَضَى . فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الثَّانِي مَرَّ بِي وَهُوَ يُرِيدُ الصَّلَاةَ فَقُلْتُ : يَا مُحَمَّدُ هَلَكَ الْوَالِدُ وَهَرَبَ الْوَافِدُ أَعْتِقْنِي أَعْتَقَكَ اللَّهُ . قَالَ : " وَمَنْ وَافِدُكِ ؟ " . قُلْتُ : عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ . قَالَ : " الْفَارُّ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ؟ " . وَمَضَى فَلَمْ يَرُدَّ عَلِيَّ شَيْئًا . فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الثَّالِثُ مَرَّ فَاحْتَشَمْتُ أَنْ أَقُولَ لَهُ شَيْئًا فَغَمَزَنِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَقُلْتُ : يَا مُحَمَّدُ هَلَكَ الْوَالِدُ وَهَرَبَ الْوَافِدُ أَعْتِقْنِي أَعْتَقَكَ اللَّهُ قَالَ : " وَمَنْ وَافِدُكِ ؟ " قُلْتُ : عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ . قَالَ : " الْهَارِبُ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ؟ " . قُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ : " فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعْتَقَكِ فَأَقِيمِي وَلَا تَبْرَحِي حَتَّى يَجِيئَنَا شَيْءٌ فَنُجَهِّزَكِ" . فَأَقَمْتُ ثَلَاثًا فَقَدِمَتْ رُفْقَةٌ مِنْ تَنُوخَ تَحْمِلُ الطَّعَامَ فَحَمَلَنِي عَلَى هَذَا الْقَعُودِ ، يَا عَدِيُّ بْنَ حَاتِمٍ ائْتِهِ قَبْلَ أَنْ يَسْبِقَكَ إِلَيْهِ مَنْ لَيْسَ مِثْلَكُ مِنْ قَوْمِكَ . ¤ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤ابوعبیدہ بن حذیفہ بیان کرتے ہیں : میں لوگوں سے سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کے بارے میں دریافت کرتا تھا وہ کوفہ میں میرے پاس ہی رہتے تھے میں ان کے پاس آیا میں نے دریافت کیا : وہ حدیث کیا ہے ، جو آپ کے حوالے سے مجھ تک پہنچی ہے ؟ انہوں نے بتایا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا گیا تو میں آپ کو سب سے زیادہ ناپسند کرتا تھا یہاں تک کہ میں فرار ہو کر شام کی سرزمین پر پہنچ گیا ہم وہاں تھے اسی دوران ہمیں یہ اطلاع ملی کہ خالد بن ولید ہماری طرف آ رہے ہیں ، تو میں وہاں سے بھاگا ، اور رومیوں سے مل گیا ابھی ہم وہاں ایک دیوار کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران ایک عورت آ رہی تھی میں اٹھ کر اس کے پاس گیا تو اس نے کہا: اے عدی بن حاتم تم بھاگ گئے ، اور تم نے مجھے چھوڑ دیا جب تم ہمارے پاس سے نکلے تھے ، تو خالد بن ولید نے ہم پر حملہ کر کے بچوں کو قیدی بنا لیا جنگ جوؤں کو قتل کر دیا ہم لوگ روانہ ہوئے ، یہاں تک کہ ہم مدینہ آئے ایک دن میں بیٹھی ہوئی تھی اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے آپ نماز کے لئے جا رہے تھے میں نے کہا: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم والد فوت ہو گیا ہے وافد بھاگ گیا ہے آپ آزاد کر دیں اللہ تعالیٰ آپ کو آزاد رکھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : آپ کا وافد کون ہے ؟ میں نے عرض کی : عدی بن حاتم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو اللہ اور اس کے رسول سے فرار ہوا ہے ؟ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے دوسرے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے آپ نماز کے لئے جا رہے تھے میں نے عرض کی : اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم والد انتقال کر گئے ہیں وافد بھاگ گئے ہیں آپ مجھے آزاد کر دیں اللہ تعالیٰ آپ کو آزاد رکھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہارا وافد کون ہے ؟ میں نے عرض کی : عدی بن حاتم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو اللہ اور اس کے رسول سے فرار اختیار کر چکا ہے پھر آپ تشریف لے گئے آپ نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا جب تیسرا دن ہوا ، تو مجھے آپ کو کچھ کہنے سے حیا محسوس ہوئی ، سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے مجھے اشارہ کیا ، تو میں نے کہا: اے سیدنا محمد والد انتقال کر گئے ہیں وافد بھاگ گیا ہے آپ مجھے آزاد کر دیں اللہ تعالیٰ آپ کو آزاد رکھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہارا وافد کون ہے ۔ میں نے عرض کی : عدی بن حاتم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو اللہ اور اس کے رسول سے بھاگا ہوا ہے میں نے کہا: جی ہاں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے تمہیں آزاد قرار دیا ہے تم ٹھہری رہو اور اس وقت تک نہ جانا جب تک ہمارے پاس کوئی چیز نہیں آ جاتی ہم تمہیں ساز و سامان فراہم کریں گے میں وہاں تین دن ٹھہری رہی پھر تنوخ سے کچھ مسافر آئے جو اناج لاد کر لائے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس پر سوار کیا اے عدی بن حاتم ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلے جاؤ اس سے پہلے کہ تم سے پہلے ان کے پاس کوئی اور چلا جائے ایسا فرد جو اس طرح کا نہیں ہو گا جو حیثیت تمہیں اپنی قوم میں حاصل ہے ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن ہشام دستوائی ہے اور وہ متروک ہے ۔