حدیث نمبر: 9719
عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ : جَاءَتْ خَيْلُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - - أَوْ قَالَ : رُسُلُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا بِعَقْرَبٍ فَأَخَذُوا عَمَّتِي وَنَاسًا قَالَ : فَلَمَّا أَتَوْا بِهِمْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : فَصَفُّوا لَهُ قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ نَأَى الْوَافِدُ وَانْقَطَعَ الْوَالِدُ وَأَنَا عَجُوزٌ كَبِيرَةٌ مَا بِي مِنْ خِدْمَةٍ فَمُنَّ عَلَيَّ مَنَّ اللَّهِ عَلَيْكَ، قَالَ : " وَمَنْ وَافِدُكِ ؟ " قَالَتْ : عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ . قَالَ : " الَّذِي فَرَّ مِنَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَرَسُولِهِ ؟ " . ¤ قَالَتْ : فَمَنَّ عَلَيَّ . قَالَتْ : فَلَمَّا رَجَعَ وَرَجُلٌ إِلَى جَنْبِهِ تَرَى أَنَّهُ عَلِيٌّ قَالَ : سَلِيهِ حِمْلَانًا قَالَ : فَسَأَلَتْهُ قَالَ : فَأَمَرَ لَهَا - فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَيَأْتِي فِي السِّيَرِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبَّادِ بْنِ حُبَيْشٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے شہسوار آئے راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : انہوں نے فرمایا : اللہ کے رسول کے قاصد آئے میں اس وقت عقرب میں موجود تھا ۔ انہوں نے میری پھوپھی اور کچھ افراد کو پکڑ لیا جب وہ ان لوگوں کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو ان لوگوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے صف میں کھڑا کر دیا گیا میری پھوپھی نے ۔ عرض کی : یا رسول اللہ ! رافد دور ہے والد منقطع ہو چکا ہے اور میں ایک بوڑھی عمر رسیدہ عورت ہوں میں کسی کام نہیں آ سکتی آپ مجھ پر احسان کیجئے اللہ تعالیٰ آپ پر احسان کرے گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارا وافد کون ہے ؟ اس خاتون نے جواب دیا : عدی بن حاتم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ جو اللہ اور اس کے رسول سے فرار ہوا ہے ؟ وہ خاتون بیان کرتی ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر احسان کیا وہ خاتون بیان کرتی ہیں : جب آپ واپس تشریف لے گئے تو آپ کے پہلو میں ایک صاحب موجود تھے جن کے بارے میں اس خاتون کا یہ خیال ہے کہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس سے سواری کا جانور مانگ لینا ، اس خاتون نے ان سے مانگ لیا ، تو انہوں نے اس خاتون کے لئے ان چیزوں کا حکم دیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جو کتاب السیر میں آگے آئے گی اگر اللہ نے چاہا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عباد بن حبیش کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9719
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (98/17) اخرجه احمد فى المسند (278/4)»