حدیث نمبر: 9689
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُهَاجِرًا اسْتَأْذَنَتْ أَبَا الْعَاصِ بْنَ الرَّبِيعِ زَوْجَهَا أَنْ تَذْهَبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَذِنَ لَهَا فَقَدِمَتْ عَلَيْهِ ثُمَّ إِنْ أَبَا الْعَاصِ لَحِقَ بِالْمَدِينَةِ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا أَنْ خُذِي لِي أَمَانًا مِنْ أَبِيكِ فَخَرَجَتْ فَاطَّلَعَتْ بِرَأْسِهَا مِنْ بَابِ حُجْرَتِهِ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الصُّبْحِ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فَقَالَتْ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَإِنِّي قَدْ أَجَرْتُ أَبَا الْعَاصِ ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الصَّلَاةِ قَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي لَمْ أَعْلَمْ بِهَذَا حَتَّى سَمِعْتُمُوهُ ، أَلَا وَإِنَّهُ يُجِيرُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ أَدْنَاهُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کے لئے روانہ ہوئے تو آپ کی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر ابوالعاص بن ربیع سے اجازت مانگی کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلی جائیں انہوں نے اس خاتون کو اجازت دے دی وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئیں پھر سیدنا ابوالعاص رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ آئے اور سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو پیغام بھیجا کہ تم اپنے والد سے میرے لئے امان لے لو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نکلیں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے کے دروازے سے سر باہر نکالا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت لوگوں کو صبح کی نماز پڑھا رہے تھے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے کہا: اے لوگو ! میں اللہ کے رسول کی صاحبزادی زینب ہوں اور میں نے ابوالعاص کو پناہ دے دی ہے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آپ نے ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! مجھے اس بارے میں پتہ نہیں تھا یہاں تک کہ تم نے بھی اسے سن لیا خبردار ! مسلمانوں کا ادنی ترین فرد بھی مسلمانوں کے حوالے سے پناہ دے سکتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ۔ اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9689
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (425/22)»