حدیث نمبر: 9684
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : أَجَارَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ رَجُلًا ، وَعَلَى الْجَيْشِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ فَقَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَعَمْرُو بْنُ الْعَاصِي : لَا تُجِيرُوهُ فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ : نُجِيرُهُ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " يُجِيرُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ أَحَدُهُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مسلمانوں سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے ایک شخص کو پناہ دے دی لشکر کے امیر سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ تھے ۔ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے کہا: کہ آپ اسے پناہ نہ دیں ، تو سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم اسے پناہ دیں گے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” مسلمانوں کی طرف سے ان میں سے کوئی شخص پناہ دے سکتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ مدلس ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9684
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1727) اخرجه أبو يعلى فى المسند (876 و 877) اخرجه احمد فى المسند (195/4)»
حدیث نمبر: 9685
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " يُجِيرُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ بَعْضُهُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” مسلمانوں میں سے کوئی ایک ان کی طرف سے پناہ دے سکتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ مدلس ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9685
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7907) اخرجه احمد فى المسند (250/5)»
حدیث نمبر: 9686
وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِي قَالَ : أُسِرَ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ [ فَأَبَى ] قَالَ : فَجَعَلَ عَمْرٌو يَسْأَلُهُ ، يُعْجِبُهُ أَنْ يَدَّعِيَ أَمَانًا فَقَالَ عَمْرٌو : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يُجِيرُ عَلَى النَّاسِ أَدْنَاهُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
اہل مصر سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب نے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے کہ محمد بن ابوبکر کو قید کر دیا گیا تو انہوں نے انکار کیا سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ ان سے پوچھتے رہے انہیں یہ بات پسند تھی کہ وہ امان کا دعوی کر دے تو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” لوگوں کا ادنی ترین فرد بھی لوگوں کی طرف سے پناہ دے سکتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک شخص ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔ امام أحمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9686
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (7344) اخرجه احمد فى المسند (197/4)»
حدیث نمبر: 9687
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ ، فَإِنْ أَجَارَتْ عَلَيْهِمُ امْرَأَةٌ فَلَا تَخْفِرُوهَا ، فَإِنَّ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءً [ يُعْرَفُ بِهِ ] يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَسْعَدَ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ أَبُو زُرْعَةَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مسلمانوں کا ذمہ ایک جیسی حیثیت رکھتا ہے اگر کوئی عورت ان لوگوں کی طرف سے پناہ دے دیتی ہے ، تو تم اس کی خلاف ورزی نہ کرو قیامت کے دن ہر عہد شکن کے لئے مخصوص جھنڈا ہو گا ، جس کے حوالے سے وہ پہچانا جائے گا “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسد ہے ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ابوزرعہ نے اسے ضعیف کہا: ہے اس کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9687
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (4392)»
حدیث نمبر: 9688
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَجَارَتْ أَبَا الْعَاصِ فَأَجَازَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جِوَارَهَا . ¤ وَإِنَّ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ أَجَارَتْ أَخَاهَا عَقِيلًا فَأَجَازَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جِوَارَهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارِ أُمِّ هَانِئٍ ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ الثَّقَفِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے سیدنا ابوالعاص رضی اللہ عنہ کو پناہ دے دی تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی دی ہوئی پناہ کو برقرار رکھا تھا ۔ سیدہ اُم ہانی بنت ابوطالب رضی اللہ عنہا نے اپنے بھائی جناب عقیل کو پناہ دے دی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی دی ہوئی پناہ کو برقرار رکھا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ صرف سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کے بارے میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عباد بن کثیر ثقفی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9688
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (426/22)»
حدیث نمبر: 9689
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُهَاجِرًا اسْتَأْذَنَتْ أَبَا الْعَاصِ بْنَ الرَّبِيعِ زَوْجَهَا أَنْ تَذْهَبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَذِنَ لَهَا فَقَدِمَتْ عَلَيْهِ ثُمَّ إِنْ أَبَا الْعَاصِ لَحِقَ بِالْمَدِينَةِ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا أَنْ خُذِي لِي أَمَانًا مِنْ أَبِيكِ فَخَرَجَتْ فَاطَّلَعَتْ بِرَأْسِهَا مِنْ بَابِ حُجْرَتِهِ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الصُّبْحِ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فَقَالَتْ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَإِنِّي قَدْ أَجَرْتُ أَبَا الْعَاصِ ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الصَّلَاةِ قَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي لَمْ أَعْلَمْ بِهَذَا حَتَّى سَمِعْتُمُوهُ ، أَلَا وَإِنَّهُ يُجِيرُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ أَدْنَاهُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کے لئے روانہ ہوئے تو آپ کی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر ابوالعاص بن ربیع سے اجازت مانگی کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلی جائیں انہوں نے اس خاتون کو اجازت دے دی وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئیں پھر سیدنا ابوالعاص رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ آئے اور سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو پیغام بھیجا کہ تم اپنے والد سے میرے لئے امان لے لو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نکلیں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے کے دروازے سے سر باہر نکالا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت لوگوں کو صبح کی نماز پڑھا رہے تھے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے کہا: اے لوگو ! میں اللہ کے رسول کی صاحبزادی زینب ہوں اور میں نے ابوالعاص کو پناہ دے دی ہے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آپ نے ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! مجھے اس بارے میں پتہ نہیں تھا یہاں تک کہ تم نے بھی اسے سن لیا خبردار ! مسلمانوں کا ادنی ترین فرد بھی مسلمانوں کے حوالے سے پناہ دے سکتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ۔ اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9689
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (425/22)»