مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابُ وَقْتِ الْقِتَالِ . باب: جنگ کا وقت
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا لَمْ يَلْقَ الْعَدُوَّ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ أَخَّرَ حَتَّى تَهُبَّ الرِّيحُ وَيَكُونَ عِنْدَ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ ، وَكَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ بِكَ أَصُولُ وَبِكَ أَجُولُ ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ سَعْدٍ الْمُكْتِبُ، وَثَّقَهُ أَبُو نُعَيْمٍ وَأَبُو حَاتِمٍ ، وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب دن کے ابتدائی حصے میں دشمن کا مقابلہ نہیں کرتے تھے ، تو جنگ کو مؤخر کر دیتے تھے ، یہاں تک کہ ہوائیں چلنے لگتی تھیں اور نمازوں کا وقت ہو جاتا تھا آپ یہ کہا: کرتے تھے ” اے اللہ ! میں تیری مدد کے ساتھ حملہ کرتا ہوں ، اور تیری مدد کے ساتھ مقابلہ کرتا ہوں ، اور اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا جو بلند و برتر اور عظمت والا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن سعد مکتب ہے جسے ابونعیم اور ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ امام نسائی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔