مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابُ لَا يُقْبَلُ مِنْ عَبَدَةِ الْأَوْثَانِ إِلَّا الْإِسْلَامُ أَوْ يُقْتَلُوا . باب: بتوں کے پجاریوں سے صرف اسلام قبول کیا جائے گا ورنہ انہیں قتل کر دیا جائے گا
عَنْ عِصَامٍ الْمُزَنِيِّ - وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ - قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا بَعَثَ جَيْشًا أَوْ سَرِيَّةً يَقُولُ لَهُمْ : " إِذَا رَأَيْتُمْ مَسْجِدًا أَوْ سَمِعْتُمْ مُؤَذِّنًا فَلَا تَقْتُلُوا أَحَدًا " . فَبَعَثَنَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَرِيَّةٍ وَأَمَرَنَا بِذَلِكَ فَخَرَجْنَا نَسِيرُ بِأَرْضِ تِهَامَةَ فَأَدْرَكْنَا رَجُلًا يَسُوقُ ظَعَائِنَ فَعَرَضْنَا عَلَيْهِ الْإِسْلَامَ، فَقُلْنَا : أَمُسْلِمٌ أَنْتَ ؟ فَقَالَ : وَمَا الْإِسْلَامُ ؟ فَأَخْبَرْنَاهُ فَإِذَا هُوَ لَا يَعْرِفُهُ فَقَالَ : إِنْ لَمْ أَفْعَلْ فَمَا أَنْتُمْ صَانِعُونَ ؟ فَقُلْنَا : نَقْتُلُكَ . قَالَ : فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْظِرِيَّ حَتَّى أُدْرِكَ الظَّعَائِنَ ؟ فَقُلْنَا : نَعَمْ ، وَنَحْنُ مُدْرِكُوهُ . فَخَرَجَ فَإِذَا امْرَأَةٌ فِي هَوْدَجِهَا فَقَالَ : أَسْلِمِي حُبَيْشُ قَبْلَ انْقِطَاعِ الْعَيْشِ . فَقَالَتْ : أُسْلِمُ عَشْرًا وَتِسْعًا تَتْرَى . ثُمَّ قَالَ : ¤ أَتَذْكُرُ إِذْ طَالَبْتُكُمْ فَوَجَدْتُكُمْ بِحَلِيَّةٍ أَوْ أَدْرَكْتُكُمْ بِالْخَوَانِقِ فَلَمْ يَكُ حَقًّا أَنْ يُنَوَّلَ عَاشِقٌ ¤ تَكَلَّفَ إِدْلَاجَ الثَّرَى وَالْوَدَائِقِ فَلَا ذَنْبَ لِي لَوْ قُلْتُ إِذْ أَهِلْنَا مَعًا ¤ أَتَتْنِي بِوُدٍّ قَبْلَ إِحْدَى الْمَضَائِقِ أَتَتْنِي بِوُدٍّ قَبْلَ أَنْ يَشْحَطَ النَّوَى ¤ وَيَنْأَى الْأَمِيرُ بِالْحَبِيبِ الْمُفَارِقِ ثُمَّ أَتَانَا فَقَالَ : شَأْنَكُمْ ، فَقَدَّمْنَاهُ فَضَرَبْنَا عُنُقَهُ وَنَزَلَتِ الْأُخْرَى مِنْ هَوْدَجِهَا فَحَنَتْ عَلَيْهِ حَتَّى مَاتَتْ . ¤ قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ : " إِذَا رَأَيْتُمْ مَسْجِدًا أَوْ سَمِعْتُمْ مُؤَذِّنًا فَلَا تَقْتُلُوا أَحَدًا " . فَقَطْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ وَقَدْ حَسَّنَ التِّرْمِذِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ وَإِسْنَادُهُمَا أَفْضَلُ مِنْ إِسْنَادِهِ . ¤ وَيَأْتِي حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي السَّرَايَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤سیدنا عصام مزنی رضی اللہ عنہ جنہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی کوئی لشکر یا جنگی مہم روانہ کرتے تھے ، تو ان سے یہ فرماتے تھے : جب تم مسجد دیکھو یا مؤذن کو سنو تو وہاں کسی کو قتل نہ کرنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک جنگی مہم پر بھیجا آپ نے یہی حکم دیا ہم نکلے ہم تہامہ کی سرزمین سے گزر رہے تھے ہمیں ایک شخص ملا جو خواتین ( کی سواریوں ) کو ہانک کر لے جا رہا تھا ، ہم نے اسے اسلام کی پیشکش کی ، ہم نے اس سے دریافت کیا : کیا تم مسلمان ہو ؟ اس نے دریافت کیا : اسلام کیا ہوتا ہے ؟ ہم نے اسے بتایا تو وہ اس چیز سے واقف نہیں تھا ، اس نے دریافت کیا : اگر میں ایسا نہیں کرتا ، تو تم لوگ کیا کرو گے ؟ ہم نے کہا: ہم تمہیں قتل کر دیں گے ، اس نے کہا: کیا تم مجھے اتنا موقع دو گے کہ میں ان خواتین تک ہو آؤں ، ہم نے جواب دیا : ٹھیک ہے ، کیونکہ ہم اس تک پہنچ سکتے تھے ، وہ نکلا ، اسی دوران ہودج میں ایک عورت موجود تھی ، اس نے کہا: اے حبیش ! تم زندگی ختم ہونے سے پہلے اسلام قبول کر لو ، اس عورت نے جواب دیا : میں دسویں اسلام قبول کر لوں اور نو الگ ، الگ ہو جائیں پھر اس شخص نے کہا: ” کیا تمہیں یہ بات یاد ہے کہ جب میں نے تمہیں تلاش کیا تھا توہے حلیہ کے مقام پر پایا تھا یا خوانق کے مقام پر میں تم تک پہنچا تھا کیا یہ حق نہیں ہے کہ عاشق کو یہ چیز نصیب ہو کہ وہ رات کا زیادہ تر حصہ اور دن چڑھے کا وقت سفر کرتا رہے تو میرا کوئی گناہ نہیں ہے اگر میں نے یہ کہا: کہ جب ہم اکٹھے ہوں تو وہ میرے پاس ایسی محبت لے کر آئے جو کسی قسم کی تنگی سے پہلے ہو وہ میرے پاس ایسے وصل کے ہمراہ آئے جو دوری سے پہلے ہو اور امیر جدا ہونے والے محبوب سے دور ہو جائے “ ۔ پھر وہ ہمارے پاس آیا اور بولا: تم نے جو کرنا ہے ، وہ کر لو ہم نے اسے آگے کر کے اس کی گردن اڑا دی ، پھر دوسری عورت اپنے ہودج سے نکلی اور روتی ہوئی ، اُس پر گری اور مر گئی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت میں سے صرف یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” جب تم مسجد دیکھو یا کسی مؤذن کو سنو تو وہاں کسی کو قتل نہ کرنا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ امام ترمذی نے اس کو حسن قرار دیا ہے اور ان کی سند ان دونوں کی سند سے زیادہ فضیلت رکھتی ہے ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث سرایا سے متعلق باب میں آگے آئے گی اگر اللہ نے چاہا ۔