مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ يَغْزُو بِمَالِ غَيْرِهِ . باب: اس شخص کا بیان جو کسی دوسرے کے مال کی بنیاد پر جنگ میں حصہ لیتا ہے
حدیث نمبر: 9652
عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ سَعْدٍ أَنَّهَا قَالَتْ : أَفْتِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ عَمَّنْ لَمْ يَغْزُ وَأَعْطَى مَالَهُ يُغْزَى عَلَيْهِ ، فَلَهُ أَجْرٌ أَمْ لِلْمُنْطَلِقِ ؟ قَالَ : " لَهُ أَجْرُ مَالِهِ وَلِلْمُنْطَلِقِ أَجْرُ مَا احْتَسَبَ مِنْ ذَلِكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤محمد محی الدین
سیدہ میمونہ بنت سعد رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہمیں ایسے شخص کے بارے میں بتائیے جو جنگ میں حصہ نہیں لیتا لیکن وہ مال دے دیتا ہے تاکہ اس مال کی مدد سے جنگ میں حصہ لیا جائے تو اجر اس کو ملے گا یا جانے والے کو ملے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے اس کے مال کا اجر ملے گا ، اور جانے والے کو اس چیز کا اجر ملے گا جو اس نے ثواب کی امید رکھی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔