مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابُ اسْتِئْذَانِ الْأَبَوَيْنِ فِي الْجِهَادِ . باب: جہاد میں حصہ لینے کے لئے ماں باپ سے اجازت لینا
حدیث نمبر: 9647
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ وَأُمُّهُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يُرِيدُ الْجِهَادَ وَأُمُّهُ تَمْنَعُهُ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " عِنْدَ أُمِّكَ قِرَّ فَإِنَّ لَكَ مِنَ الْأَجْرِ عِنْدَهَا مِثْلَ مَا لَكَ فِي الْجِهَادِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ كُرَيْبٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . قُلْتُ وَفِي الْبِرِّ وَالصِّلَةِ أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا النَّحْوِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص اور اس کی والدہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے وہ شخص جہاد میں حصہ لینا چاہتا تھا ، اور اس کی والدہ اسے روک رہی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنی ماں کے پاس ٹھہرے رہو کیونکہ تمہیں اس کے پاس ٹھہرنے پر وہی اجر ملے گا جو تمہیں جہاد میں حصہ لینے پر ملنا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن کریب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : کتاب البروالصلہ میں اس نوعیت کی کچھ احادیث آئیں گی ۔