حدیث نمبر: 9622
وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ : جِئْتُ أَنَا وَعَمِّي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يُرِيدُ بَدْرًا فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَخْرُجَ مَعَكَ فَجَعَلَ يَقْبِضُ يَدَهُ وَيَقُولُ : " إِنِّي أَسْتَصْغِرُكَ وَلَا أَدْرِي مَا تَصْنَعُ إِذَا لَقِيتَ الْقَوْمَ " . فَقُلْتُ : أَتَعْلَمُ أَنِّي أَرْمَى مَنْ رَمَى ؟ فَرَدَّنِي فَلَمْ أَشْهَدْ بَدْرًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ رِفَاعَةُ بْنُ هُرَيْرٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . وَفِي غَزْوَةِ أُحُدٍ فِي الْمُغَازِي أَحَادِيثُ نَحْوُ هَذَا . ¤
محمد محی الدین

سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اور میرے چچا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت غزوہ بدر میں شرکت کا ارادہ رکھتے تھے میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں بھی یہ چاہتا ہوں کہ میں بھی آپ کے ساتھ نکلوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کو بند کرنا شروع کیا اور فرمایا : میں تمہیں کمسن سمجھتا ہوں اور مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ جب تم دشمن کا سامنا کرو گے تو تم کیا کرو گے میں نے عرض کی : کیا آپ یہ بات جانتے ہیں کہ جو شخص تیر پھینکے گا میں اسے تیر مار دوں گا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے واپس کر دیا اس لئے میں غزوہ بدر شریک نہیں ہو سکا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی رفاعہ بن ہریر ہے اور وہ ضعیف ہے اس نوعیت کی کچھ احادیث مغازی سے متعلق کتاب میں غزوہ اُحد کے باب میں آئیں گی ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9622
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4417)»