حدیث نمبر: 9621
عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ أُمَّ سَمُرَةَ مَاتَ عَنْهَا زَوْجُهَا [ وَتَرَكَ ابْنَهُ سَمُرَةَ ] وَكَانَتِ امْرَأَةً جَمِيلَةً فَقَدِمَتِ الْمَدِينَةَ فَخُطِبَتْ فَجَعَلَتْ تَقُولُ : لَا أَتَزَوَّجُ رَجُلًا إِلَّا رَجُلًا تَكَفَّلَ لَهَا بِنَفَقَةِ ابْنِهَا سَمُرَةَ حَتَّى يَبْلُغَ ، فَتَزَوَّجَهَا رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ [ عَلَى ذَلِكَ ، وَكَانَتْ مَعَهُ فِي الْأَنْصَارِ ] وَكَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعْرِضُ غِلْمَانَ الْأَنْصَارِ فِي كُلِّ عَامٍ فَمَنْ بَلَغَ مِنْهُمْ بَعَثَهُ ، فَعَرَضَهُمْ ذَاتَ عَامٍ فَمَرَّ بِهِ غُلَامٌ فَبَعَثَهُ فِي الْبَعْثِ ، وَعُرِضَ عَلَيْهِ سَمُرَةُ مِنْ بَعْدِهِ فَرَدَّهُ ، فَقَالَ سَمُرَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَجَزْتَ غُلَامًا وَرَدَدْتَنِي وَلَوْ صَارَعَنِي لَصَرَعْتُهُ ؟ قَالَ : " فَدُونَكَ فَصَارِعْهُ " . فَصَارَعْتُهُ فَصَرَعْتُهُ فَأَجَازَنِي فِي الْبَعْثِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

عبدالحمید بن جعفر اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : ام سمرہ کے شوہر کا انتقال ہو گیا انہوں نے اپنے بیٹے سمرہ کو پسماندگان میں چھوڑا وہ خاتون خوبصورت خاتون تھیں وہ مدینہ منورہ آئیں انہیں شادی کا پیغام دیا گیا تو انہوں نے یہ کہنا شروع کیا کہ میں صرف اس شخص کے ساتھ شادی کروں گی جو میرے بیٹے سمرہ کے بالغ ہونے تک اس کے خرچ کا کفیل بنے گا ، تو انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب نے اس شرط پر اس خاتون کے ساتھ شادی کر لی تو وہ خاتون اس شخص کے ساتھ انصار کے محلے میں رہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال انصار کے لڑکوں کا جائزہ لیا کرتے تھے ان میں سے جو بالغ ہو جاتا تھا آپ اسے جنگی مہم پر بھیج دیتے تھے ایک مرتبہ آپ ان بچوں کا جائزہ لے رہے تھے آپ کے پاس سے ایک لڑکا گزرا آپ نے اسے جنگی مہم میں بھجوا دیا اس کے بعد آپ کے سامنے سمرہ کو پیش کیا گیا تو آپ نے انہیں واپس کر دیا سمرہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے فلاں لڑکے کو اجازت دے دی ہے اور مجھے واپس کر دیا ہے اگر آپ میرا اس کے ساتھ مقابلہ کروائیں ، تو میں اسے پچھاڑ دوں گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ٹھیک ہے تم اسے پچھاڑ کے دکھاؤ ! تو میں نے اس لڑکے کے ساتھ مقابلہ کیا اور اسے پچھاڑ دیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جنگی مہم میں جانے کی اجازت دے دی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9621
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6749)»