حدیث نمبر: 9610
وَعَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَغَزَوْتُ مَعَهُ فَأَصَبْتُ ظَفَرًا ، وَقُتِلَ النَّاسُ يَوْمَئِذٍ ، حَتَّى قَتَلُوا الْوِلْدَانَ - وَقَالَ مَرَّةً : " الذُّرِّيَّةَ " - فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا هُمْ أَبْنَاءُ الْمُشْرِكِينَ ؟ ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ خِيَارَكُمْ أَبْنَاءُ الْمُشْرِكِينَ " . ثُمَّ قَالَ : " أَلَا لَا تَقْتُلُوا ذُرِّيَّةً ، أَلَا لَا تَقْتُلُوا ذُرِّيَّةً ، أَلَا لَا تَقْتُلُوا ذُرِّيَّةً ، فَإِنَّ كُلَّ نَسْمَةٍ تُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ حَتَّى يُعْرِبَ عَنْهَا لِسَانُهَا ، فَأَبَوَاهَا يُهَوِّدَانِهَا أَوْ يُنَصِّرَانِهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ بِأَسَانِيدَ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ كَذَلِكَ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا بَالُ أَقْوَامٍ جَاوَزَ بِهِمُ الْقَتْلُ حَتَّى قَتَلُوا الذُّرِّيَّةَ ؟ " . فَقَالَ رَجُلٌ ، وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ . ¤ وَبَعْضُ أَسَانِيدِ أَحْمَدَ وَرِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے آپ کے ہمراہ جنگ میں حصہ لیا مجھے ایک ظفر ( شاید چھری مراد ہے ) ملا ، اس دن لوگ قتل ہوئے تھے ، یہاں تک کہ لوگوں نے ( دشمن کے ) بچوں کو بھی قتل کر دیا ( یہاں عربی کے لفظ کے بارے میں ، راوی کو شک ہے ) ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ تو مشرکین کے بچے تھے پھر آپ نے ارشاد فرمایا : تمہارے بہترین لوگ بھی مشرکین کے بچے ہیں پھر آپ نے فرمایا : خبردار تم بچوں کو قتل نہ کرو خبردار تم بچوں کو قتل نہ کرو خبردار تم بچوں کو قتل نہ کرو ہر جان فطرت پر پیدا ہوتی ہے ، یہاں تک کہ وہ بولنے کے قابل ہو جائے تو اس کے ماں باپ اسے یہودی یا عیسائی بنا دیتے ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اس طرح نقل کی ہے اور انہوں نے نقل کیا ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع ملی تو آپ نے ارشاد فرمایا : لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ انہوں نے قتل کے معاملے میں حد سے تجاوز کیا یہاں تک کہ بچوں کو بھی قتل کر دیا ؟ تو ایک صاحب نے عرض کی : اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے ۔ امام أحمد کی مختلف اسانید میں سے بعض کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9610
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (942) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (829) اخرجه أحمد فى المسند (435/3)»