مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابُ عَرْضِ الْإِسْلَامِ وَالدُّعَاءِ إِلَيْهِ قَبْلَ الْقِتَالِ باب: جنگ سے پہلے اسلام کی پیش کش کرنا اور اس کی طرف دعوت دینا
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى حَيٍّ مِنَ الْعَرَبِ يَدْعُوهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ فَلَمْ يَقْبَلُوا الْكِتَابَ وَرَجَعُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرُوهُ فَقَالَ : " أَمَا إِنِّي لَوْ بُعِثْتُ بِهِ إِلَى قَوْمٍ بِشَطِّ عُمَانَ مِنْ أَزْدِ شَنُوءَةَ وَأَسْلَمَ لَقَبِلُوهُ " . . ¤ ثُمَّ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْجُلَنْدَا يَدْعُوهُ إِلَى الْإِسْلَامِ فَقَبِلَهُ وَأَسْلَمَ وَبَعَثَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هَدِيَّةً فَقَدِمَتِ الْهَدِيَّةُ ، وَقَدْ قُبَضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَعَلَ أَبُو بَكْرٍ الْهَدِيَّةَ مَوْرَثًا فَقَسَمَهَا بَيْنَ فَاطِمَةَ وَبَيْنَ النَّاسِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ صَالِحٍ الْأَزْدِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عربوں کے ایک قبیلے کو خط لکھا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دی انہوں نے اس مکتوب کو قبول نہیں کیا وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آئے اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر میں یہ مکتوب عمان کے کنارے ازشنوءہ اور اسلم قبیلے سے تعلق رکھنے والی قوم کی طرف بھجواتا ، تو وہ لوگ اسے قبول کر لیتے “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جلندہ کی طرف مکتوب بھیجا اور انہیں اسلام کی دعوت دی تو انہوں نے اسے قبول کر لیا اور وہ اسلام لے آئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں انہوں نے ایک تحفہ بھجوایا وہ تحفہ آیا تو اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو چکا تھا پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے وہ تحفہ لیا اور اسے وراثت کے طور پر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور دیگر لوگوں کے درمیان تقسیم کر دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن صالح ازدی ہے اور وہ متروک ہے ۔