مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابُ عَرْضِ الْإِسْلَامِ وَالدُّعَاءِ إِلَيْهِ قَبْلَ الْقِتَالِ باب: جنگ سے پہلے اسلام کی پیش کش کرنا اور اس کی طرف دعوت دینا
وَعَنْ عُمَيْرِ بْنِ مُقْبِلٍ الْجُذَامِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : وَفَدَ رِفَاعَةُ بْنُ زَيْدٍ الْجُذَامِيُّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَكَتَبَ لَهُ كِتَابًا فِيهِ : " [ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، هَذَا كِتَابٌ ] مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ لِرِفَاعَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنِّي بَعَثْتُهُ إِلَى قَوْمِهِ عَامَّةً وَمَنْ دَخَلَ فِيهِمْ يَدَعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ ، فَمَنْ آمَنَ فَفِي حِزْبِ اللَّهِ وَحِزْبِ رَسُولِهِ وَمَنْ أَدْبَرَ فَلَهُ أَمَانُ شَهْرَيْنِ " . ¤ فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى قَوْمِهِ أَجَابُوهُ ثُمَّ سَارَ حَتَّى نَزَلَ الْحَرَّةَ حَرَّةَ الرَّجْلَى ، ثُمَّ لَمْ يَلْبَثْ أَنْ قَدِمَ دِحْيَةُ الْكَلْبِيُّ مِنْ عِنْدِ قَيْصَرَ حِينَ بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى إِذَا كَانُوا بِوَادٍ مِنْ أَوْدِيَتِهِمْ يُقَالُ لَهُ : شَنَارٌ وَمَعَهُ تِجَارَةٌ أَغَارَ عَلَيْهِمُ الْهُنَيْدُ بْنُ عُوَيْصٍ - وَأَبُوهُ الضَّبْعِيُّ بَطْنٌ مِنْ جُذَامٍ - فَأَصَابُوا كُلَّ شَيْءٍ مَعَهُ ، ثُمَّ إِنَّ نَفَرًا مِنْ قَوْمِ رِفَاعَةَ نَفَذُوا إِلَيْهِ فَأَقْبَلُوا إِلَيْهِ وَفِي مَنْ أَقْبَلَ : النُّعْمَانُ بْنُ أَبِي جِعَالٍ حَتَّى لَقُوهُمْ وَاقْتَتَلُوا ، وَرَمَى قُرَّةُ بْنُ أَشْقَرَ الضَّبْعِيُّ النُّعْمَانَ بْنَ أَبِي جِعَالٍ بِحَجَرٍ فَأَصَابَ كَعْبَهُ وَدَمَّاهُ وَقَالَ : ابْنُ أُثَالَةَ ثُمَّ رَمَاهُ النُّعْمَانُ بْنُ أَبِي جِعَالٍ بِحَجَرٍ فَأَصَابَ رُكْبَتَهُ وَقَالَ : أَنَا ابْنُ أُثَالَةَ ، وَقَدْ كَانَ حَسَّانُ بْنُ مِلَّةَ صَحِبَ دِحْيَةَ الْكَلْبِيَّ قَبْلَ ذَلِكَ فَعَلَّمَهُ أُمَّ الْكِتَابِ وَاسْتَنْقَذُوا مَا فِي أَيْدِيهِمْ فَرَدُّوهُ عَلَى دِحْيَةَ . ¤ ثُمَّ إِنَّ دِحْيَةَ قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَخْبَرَهُ الْخَبَرَ ، فَاسْتَسْقَاهُ دَمَ الْهُنَيْدِ وَأَبِيهِ عُوَيْصٍ ، [ وَذَلِكَ الَّذِي هَاجَ زَيْدٌ وَجُذَامٍ ] فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ وَبَعَثَ مَعَهُ جَيْشًا وَقَدْ تَوَجَّهَتْ غَطَفَانُ وَجُذَامَ وَوَائِلُ وَمَنْ كَانَ مِنْ سَلْمَانَ وَسَعْدِ بْنِ هُذَيْلٍ حَتَّى جَاءَهُمْ رِفَاعَةُ بِكِتَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَزَلَ الْحَرَّةَ - حَرَّةَ الرَّجْلَى - وَرِفَاعَةُ بِكُرَاعِ الْعَمِيمِ وَمَعَهُ نَاسٌ مِنْ بَنِي ضَبِيبٍ وَسَائِرُ بَنِي الضَّبِيبِ بِوَادِي مَدَارَةَ مِنْ نَاحِيَةِ الْحَرَّةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُتَّصِلًا هَكَذَا وَمُنْقَطِعًا مُخْتَصَرًا عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ لَمْ يُجَاوِزْهُمْ وَفِي الْمُتَّصِلِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ وَإِسْنَادُهُمَا إِلَى ابْنِ إِسْحَاقَ جَيِّدٌ . ¤عمیر بن مقبل جذامی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : سیدنا رفاعہ بن زید جذامی ایک وفد کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے ایک مکتوب لکھوایا جس میں یہ تحریر تھا : ” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے یہ اللہ کے رسول سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مکتوب ہے ، جو رفاعہ بن زید کے لئے ہے میں اسے اس کی قوم کی طرف بھیج رہا ہوں ان میں سے جو شخص ان میں داخل ہوتا ہے ( اس کی طرف بھیج رہا ہوں ) یہ ان لوگوں کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف دعوت دے گا جو شخص ایمان لے آئے گا وہ اللہ اور اس کے رسول کے گروہ میں شمار ہو گا ، اور جو منہ پھیر لے گا اسے دو مہینوں تک امان ملے گی “ ۔ جب سیدنا رفاعہ رضی اللہ عنہ اپنی قوم کی طرف آئے تو ان لوگوں نے ان کی دعوت کو قبول کیا پھر وہ روانہ ہوئے ، یہاں تک کہ انہوں نے رجلی کی پتھریلی زمین پر پڑاؤ کیا اس کے بعد وہ وہیں مقیم رہے ، یہاں تک کہ سیدنا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ قیصر کے پاس سے آ گئے جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا تھا ۔ جب وہ لوگ اپنی وادیوں میں سے ایک وادی میں مقیم تھے جس کا نام شنار تھا ، اور ان کے ساتھ تجارت تھی جس پر ہنید بن عویص نے حملہ کیا تھا اس کا باپ صبھی تھا جس کا تعلق جذام کی ذیلی شاخ سے تھا انہوں نے ان کے پاس موجود ہر چیز لے لی تھی پھر سیدنا رفاعہ رضی اللہ عنہ کی قوم کے کچھ افراد ان کی طرف گئے ، اور وہ لوگ ان کی طرف آ گئے آنے والوں میں ایک شخص نعمان بن ابوجعال تھے ، یہاں تک کہ ان کا ان لوگوں کے ساتھ سامنا ہوا اور لڑائی ہوئی تو قرہ بن اشقر ربعی نے نعمان بن ابوجعال کو پتھر مار کر اس کی پنڈلی کو زخمی کر کے خون آلود کر دیا اور کہا: ابن اثالہ پھر نعمان ابوجعال نے ایک پتھر مارا اور ان کے گھٹنے پر مارا اور کہا: میں ابن اثالہ ہوں حسان بن ملہ ، دحیہ کلبی کے ساتھ اس سے پہلے رہے تھے ۔ انہوں نے انہیں سورت فاتحہ کی تعلیم دی تھی تو ان لوگوں کے ہاتھوں میں جو کچھ تھا وہ انہوں نے چھڑوا لیا اور وہ سیدنا دحیہ رضی اللہ عنہ کو واپس کر دیا ۔ پھر سیدنا دحیہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو اس بارے میں بتایا اور انہوں نے ہنید اور اس کے باپ عویص کا خون مانگا اس کی وجہ یہ تھی زید اور جذام میں ہیجان تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور ان کے ساتھ ایک لشکر بھیجا ، انہوں نے غطفان ، جذام اور وائل قبیلے ، اور سلمان اور سعد بن ہذیل قبیلے کے افراد کی طرف رخ کیا ، یہاں تک کہ سیدنا رفاعہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب لے کر اُن کے پاس آ گئے ، اور انہوں نے رجلہ کی پتھریلی زمین پر پڑاؤ کیا سیدنا رفاعہ رضی اللہ عنہ ” کراع الغمیم “ کے مقام پر تھے ان کے ساتھ بوضبیب سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد تھے اور باقی تمام بنوضبیب پتھریلی زمین کے ایک کنارے پر وادی ” مدارہ “ میں تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اسی طرح متصل روایت کے طور پر نقل کی ہے اور منقطع اور مختصر روایت کے طور پر بھی نقل کی ہے ، جو ابن اسحاق سے منقول ہے انہوں نے ان سے تجاوز نہیں کیا متصل سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں اور ان دونوں کی سند ابن اسحاق تک عمدہ ہے ۔