مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابُ الِاسْتِعَانَةِ بِالْمُشْرِكِينَ باب: مشرکین سے مدد لینا
وَعَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ يَوْمَ أُحُدٍ حَتَّى إِذَا جَاوَزَ ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ فَإِذَا هُوَ بِكَتِيبَةٍ خَشْنَاءَ فَقَالَ : " مَنْ هَؤُلَاءِ ؟ " قَالُوا : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ فِي سِتِّ مِائَةٍ مِنْ مَوَالِيهِ مِنَ الْيَهُودِ مِنْ بَنِي قَيْنُقَاعَ فَقَالَ : " وَقَدْ أَسْلَمُوا ؟ " قَالُوا : لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " مُرُوهُمْ فَلْيَرْجِعُوا فَإِنَّا لَا نَسْتَعِينُ بِالْمُشْرِكِينَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَفِيهِ سَعْدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ فَقَالَ : سَعْدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ فَنَسَبَهُ إِلَى جَدِّهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ اُحد کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے ، یہاں تک کہ جب آپ نے ثنیہ الوداع کو پار کیا تو وہاں ایک فوجی دستہ موجود تھا آپ نے دریافت کیا : یہ کون لوگ ہیں ؟ لوگوں نے بتایا : یہ عبداللہ بن ابی ہے ، جو بنو قینقاع کے یہودیوں سے تعلق رکھنے والے اپنے چھ سو موالیوں کے ساتھ ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : ان لوگوں نے اسلام قبول کر لیا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی نہیں یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان سے کہو یہ واپس چلے جائیں ، کیونکہ ہم مشرکین کے خلاف مشرکین سے مدد نہیں لیں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعد بن منذر بن ابوحمید ہے جس کا ذکر ابن حبان نے کتاب الثقاب میں کیا ہے اور یہ کہا: ہے یہ سعد بن ابوحمید ہے ، تو انہوں نے اس کی نسبت اس کے دادا کی طرف کر دی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔