مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابُ الِاسْتِعَانَةِ بِالْمُشْرِكِينَ باب: مشرکین سے مدد لینا
عَنْ خُبَيْبِ بْنِ يَسَافٍ قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يُرِيدُ غَزْوًا لَنَا وَرَجُلٌ مِنْ قَوْمِي وَلَمْ نُسْلِمْ فَقُلْنَا : إِنَّا نَسْتَحِي أَنْ يَشْهَدَ قَوْمُنَا مَشْهَدًا لَا نَشْهَدُهُ مَعَهُمْ قَالَ : " أَوَأَسْلَمْتُمَا ؟ " قُلْنَا : لَا . قَالَ : " إِنَّا لَا نَسْتَعِينُ بِالْمُشْرِكِينَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ " . قَالَ : فَأَسْلَمْنَا وَشَهِدْنَا مَعَهُ فَقَتَلْتُ رَجُلًا وَضَرَبَنِي ضَرْبَةً فَتَزَوَّجْتُ بِابْنَتِهِ بَعْدَ ذَلِكَ ، فَكَانَتْ تَقُولُ : لَا عَدِمْتَ رَجُلًا وَشَّحَكَ هَذَا الْوِشَاحَ فَأَقُولُ : لَا عَدِمْتِ رَجُلًا عَجَّلَ أَبَاكِ إِلَى النَّارِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ . ¤سیدنا خبیب بن یساف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ ایک جنگ میں حصہ لینے جا رہے تھے ، میں تھا ، اور میری قوم کا ایک فرد تھا ہم نے اسلام قبول نہیں کیا تھا ہم نے کہا: ہمیں اس بات سے شرم آتی ہے کہ ہماری قوم کے افراد جنگ میں شریک ہوں اور ہم ان کے ساتھ اس میں شریک نہ ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم دونوں نے اسلام قبول کیا ہے ؟ ہم نے عرض کی : جی نہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہم مشرکین کے خلاف مشرکین کی مدد نہیں لیں گے ۔ راوی کہتے ہیں : ہم نے اسلام قبول کر لیا اور آپ کے ساتھ جنگ میں حصہ لیا میں نے ایک شخص کو قتل کر دیا اس نے مجھے ضرب لگائی تھی اس کے بعد میں نے اس کی بیٹی کے ساتھ شادی کر لی وہ عورت یہ کہا: کرتی تھی آپ کا واسطہ ایک ایسے شخص سے بڑا تھا ، جس نے آپ کو یہ زخم لگایا تو میں یہ کہتا تھا تمہارا واسطہ ایک ایسے شخص سے پڑا ہے جس نے تمہارے باپ کو جہنم کی طرف جلدی بھیج دیا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔