مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا تَحْصُلُ بِهِ الشَّهَادَةُ باب: اس صورت کا بیان ، جس میں شہادت حاصل ہوتی ہے
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ نَعُودُهُ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ فَقُلْنَا : يَرْحَمُكَ اللَّهُ إِنْ كُنَّا لَنَرْجُو أَنْ تَمُوتَ عَلَى غَيْرِ هَذَا وَإِنْ كُنَّا لَنَرْجُو لَكَ الشَّهَادَةَ ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَحْنُ نَذْكُرُ هَذَا فَقَالَ : " وَفِيمَ تَعُدُّونَ الشَّهَادَةَ ؟ " . فَأَزَّمَ الْقَوْمُ وَتَحَرَّكَ عَبْدُ اللَّهِ فَقَالَ : أَلَا تُجِيبُونَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ ثُمَّ أَجَابَهُ هُوَ فَقَالَ : نَعُدُّ الشَّهَادَةَ فِي الْقَتْلِ . فَقَالَ : " إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ ، إِنَّ فِي الْقَتْلِ شَهَادَةً ، وَفِي الطَّاعُونِ شَهَادَةً وَفِي الْبَطْنِ شَهَادَةً وَفِي الْغَرَقِ شَهَادَةً وَفِي النُّفَسَاءِ يَقْتُلُهَا وَلَدُهَا جُمْعًا شَهَادَةً " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأَحْمَدُ بِنَحْوِهِ وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم سیدنا عبداللہ بن رواحہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عیادت کرنے کے لئے ان کے پاس آئے ان پر بیہوشی طاری ہوئی ہم نے کہا: اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے ہمیں یہ توقع تھی آپ اس صورت کے علاوہ انتقال کریں گے ہمیں تو آپ کے لئے شہادت کی توقع تھی جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہم یہی بات چیت کر رہے تھے ۔ آپ نے فرمایا : تم لوگ کسے شہادت شمار کرتے ہو ؟ تو لوگ خاموش رہے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے حرکت کی انہوں نے فرمایا : تم لوگ اللہ کے رسول کو جواب کیوں نہیں دیتے ہو ؟ پھر انہوں نے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دیتے ہوئے عرض کی : ہم قتل ہونے کو شہادت شمار کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس صورت میں میری امت کے شہداء کم ہوں گے قتل میں شہادت ہے طاعون میں شہادت ہے پیٹ کی بیماری میں شہادت ہے ڈوب کر مرنے میں شہادت ہے نفاس والی عورتیں جن کا بچہ ان کی موت کا سبب بن جاتا ہے ( ان کی موت ) شہادت ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد نے اس کی مانند نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔