حدیث نمبر: 9547
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : أَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعُودُنِي وَأَنَا مَرِيضٌ فِي نَاسٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ : " هَلْ تَدْرُونَ مَنِ الشَّهِيدُ ؟ " فَسَكَتُوا فَقَالَ : " هَلْ تَدْرُونَ مَنِ الشَّهِيدُ ؟ " فَقُلْتُ لِامْرَأَتِي : أَسْنِدِينِي فَأَسْنَدَتْنِي فَقُلْتُ : مَنْ أَسْلَمَ ثُمَّ هَاجَرَ ثُمَّ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - فَهُوَ شَهِيدٌ . فَذَكَرَ نَحْوَهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " إِنْ لَمْ يَكُنْ شُهَدَاءُ أُمَّتِي إِلَّا هَؤُلَاءِ إِنَّهُمْ إِذًا لَقَلِيلٌ ، الْقَتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدٌ وَالْغَرِقُ شَهِيدٌ وَالْمَبْطُونُ شَهِيدٌ وَالطَّاعُونُ شَهَادَةٌ وَالنُّفَسَاءُ يَجُرُّهَا وَلَدُهَا بِسَرَرِهِ إِلَى الْجَنَّةِ " . ¤ وَفِيهِ الْمُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ وَقَدْ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ وَضَعَّفَهُ آخَرُونَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کرنے کے لئے میرے پاس تشریف لائے میں اس وقت بیمار تھا انصار کے کچھ افراد موجود تھے ( یا انصار کے کچھ افراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آئے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم لوگ جانتے ہو شہید کون ہے ؟ تو لوگ خاموش رہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم لوگ جانتے ہو شہید کون ہے ؟ میں نے اپنی بیوی سے کہا: تم مجھے ٹیک دو اس نے مجھے ٹیک دی میں نے کہا: جو اسلام قبول کرے پھر ہجرت کرے اور پھر اللہ کی راہ میں قتل ہو جائے وہ شہید ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد امام بزار اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : اگر میری امت کے شہداء صرف یہی ہوں ، تو ایسی صورت میں وہ لوگ کم ہوں گے اللہ کی راہ میں قتل ہونے والا شہید ہے ڈوب کر مرنے والا شہید ہے پیٹ کی بیماری میں مرنے والا شہید ہے طاعون میں مرنے والا شہید ہے نفاس ( کے دوران مرنے والی عورت ) کو اس کا بچہ اپنی نال کے ذریعے کھینچ کر جنت کی طرف لے جائے گا “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی مغیرہ بن زیادہ ہے جسے ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے اور دوسرے لوگوں نے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9547
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1718 و 1717) أخرجه احمد فى المسند (317/5)»