مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابُ فِي أَرْوَاحِ الشُّهَدَاءِ باب: شہداء کی ارواح کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : إِذَا قُتِلَ الْعَبْدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأَوَّلُ قَطْرَةٍ تَقَعُ عَلَى الْأَرْضِ مِنْ دَمِهِ يُكَفِّرُ اللَّهُ ذُنُوبَهُ كُلَّهَا ، ثُمَّ يُرْسِلُ إِلَيْهِ بِرَيْطَةٍ مِنَ الْجَنَّةِ فَتُقْبَضُ فِيهَا نَفْسُهُ ، وَبِجَسَدٍ مِنَ الْجَنَّةِ حَتَّى تُرَكَّبَ فِيهِ رُوحُهُ ، ثُمَّ يَعْرُجُ مَعَ الْمَلَائِكَةِ كَأَنَّهُ كَانَ مَعَهُمْ مُنْذُ خَلَقَهُ اللَّهُ ، حَتَّى يُؤْتَى بِهِ إِلَى السَّمَاءِ فَمَا مَرَّ بِبَابٍ إِلَّا فُتِحَ لَهُ ، وَلَا مَلَكٌ إِلَّا صَلَّى عَلَيْهِ وَاسْتَغْفَرَ لَهُ ، حَتَّى يُؤْتَى بِهِ الرَّحْمَنَ - عَزَّ وَجَلَّ - فَيَسْجُدَ قَبْلَ الْمَلَائِكَةِ ثُمَّ تَسْجُدَ الْمَلَائِكَةُ بَعْدَهُ ، ثُمَّ يُغْفَرَ لَهُ وَيُطَهَّرَ ، ثُمَّ يُؤْمَرَ بِهِ إِلَى الشُّهَدَاءِ فَيَجِدَهُمْ فِي رِيَاضٍ خُضْرٍ وَقِبَابٍ مِنْ حَرِيرٍ ، عِنْدَهُمْ ثَوْرٌ وَحُوتٌ يَلْغَثَانِ لَهُمْ كُلَّ يَوْمٍ بِشَيْءٍ لَمْ يَلْغَثَاهُ بِالْأَمْسِ ، يَظَلُّ الْحُوتُ فِي أَنْهَارِ الْجَنَّةِ ، فَيَأْكُلُ مِنْ كُلِّ رَائِحَةٍ مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ ، فَإِذَا أَمْسَى وَكَزَهُ الثَّوْرُ بِقَرْنِهِ فَذَكَاهُ فَأَكَلُوا مِنْ لَحْمِهِ فَوَجَدُوا فِي طَعْمِ لَحْمِهِ كُلَّ رَائِحَةٍ مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ ، وَيَبِيتُ الثَّوْرُ نَافِشًا فِي الْجَنَّةِ يَأْكُلُ مِنْ ثَمَرِ الْجَنَّةِ فَإِذَا أَصْبَحَ عَدَا عَلَيْهِ الْحُوتُ فَذَكَاهُ بِذَنْبِهِ فَأَكَلُوا مِنْ لَحْمِهِ فَوَجَدُوا فِي طَعْمِ لَحْمِهِ كُلَّ ثَمَرَةٍ فِي الْجَنَّةِ ، يَنْظُرُونَ إِلَى مَنَازِلِهِمْ ، يَدْعُونَ اللَّهَ بِقِيَامِ السَّاعَةِ . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي الْجَنَائِزِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْبَيْلَمَانِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب بندہ اللہ کی راہ میں قتل ہو جاتا ہے ، تو اس کے خون کا پہلا قطرہ جب زمین پر گرتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس کے سب گناہوں کو ختم کر دیتا ہے ، پھر وہ اس کی طرف جنت میں سے ایک چادر بھیجتا ہے ، جس میں اس کی جان کو قبض کیا جاتا ہے ، اور جنت میں سے ایک جسم بھیجتا ہے ، یہاں تک کہ اس کی روح کو اس میں ڈالا جاتا ہے ، پھر وہ فرشتوں کے ساتھ اوپر جاتا ہے یوں جیسے جب سے اللہ تعالیٰ نے اسے پیدا کیا ہے تب سے وہ ان فرشتوں کے ساتھ ہی ہے ، یہاں تک کہ وہ آسمان تک آ جاتا ہے وہ جس بھی دروازے کے پاس سے گزرتا ہے اسے کھول دیا جاتا ہے وہ جس بھی فرشتے کے پاس سے گزرتا ہے وہ فرشتہ اس کے لئے دعائے رحمت اور دعائے مغفرت کرتا ہے ، یہاں تک کہ اسے رحمان کے پاس لایا جاتا ہے ، تو وہ فرشتوں سے پہلے سجدے میں جاتا ہے فرشتے اس کے بعد سجدے میں جاتے ہیں پھر اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے اور اسے پاک کر دیا جاتا ہے پھر اسے شہداء کی طرف لے جانے کا حکم دیا جاتا ہے ، تو وہ ان شہداء کو سر سبز باغات میں ریشمی قبوں میں پاتا ہے جن کے پاس ایک بیل اور ایک مچھلی ہوتی ہے وہ ان لوگوں کو روزانہ ایسی چیز فراہم کرتے ہیں ، جو گزشتہ دن نہیں دی گئی ہوتی وہ مچھلی جنت کی نہروں میں رہتی ہے اور جنت کی نہروں میں سے ہر قسم کے ذائقے والی چیز کھاتی ہے جب شام ہوتی ہے ، تو بیل اسے سینگ مار کر اسے ذبح کر دیتا ہے وہ لوگ اس مچھلی کا گوشت کھاتے ہیں ، تو انہیں جنت کی نہروں میں موجود ہر چیز کا ذائقہ اس کے گوشت میں محسوس ہوتا ہے پھر وہ بیل رات گزارتا ہے وہ جنت میں چرتا رہتا ہے وہ جنت کے پھل کھاتا ہے جب صبح ہوتی ہے ، تو مچھلی اس کے پاس آتی ہے اور اپنی دم کے ذریعے اسے ذبح کر دیتی ہے وہ لوگ اس بیل کا گوشت کھاتے ہیں ، تو انہیں اس کے گوشت میں جنت کے ہر پھل کا ذائقہ محسوس ہوتا ہے وہ اپنے ٹھکانوں کی طرف دیکھتے رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ قیامت قائم ہو جائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جو اس سے پہلے جنائز سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عبدالرحمن بن بیلمانی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔