حدیث نمبر: 954
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ ، فَقَعَدَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَهُ : " هَلْ تَعَوَّذْتَ مِنْ شَرِّ شَيَاطِينِ الْجِنِّ وَالْإِنِسِ ؟ " قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ أَوَّلُ الْأَنْبِيَاءِ ؟ قَالَ : " آدَمُ " . قُلْتُ : نَبِيٌّ كَانَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، مُكَلَّمٌ " . قُلْتُ : ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ : " نُوحٌ ، وَبَيْنَهُمَا عَشَرَةُ آبَاءٍ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخْبِرْنِي عَنِ الصَّلَاةِ ؟ قَالَ : " خَيْرٌ مَفْرُوضٌ ، مَنْ شَاءَ اسْتَكْثَرَ مِنْهُ " . قُلْتُ : فَالصَّدَقَةُ ؟ قَالَ : " أَضْعَافٌ مُضَاعَفَةٌ " . قُلْتُ : وَالصِّيَامُ ؟ قَالَ : " الصِّيَامُ جُنَّةٌ . قَالَ اللَّهُ : الصِّيَامُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَخَلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ " . قُلْتُ : فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " جُهْدٌ مِنْ مُقِلٍّ ، وَسِرٌّ إِلَى فَقِيرٍ " . قُلْتُ : فَأَيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " أَغْلَاهَا ثَمَنًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ . قُلْتُ : وَتَقَدَّمَ أَنَّ أَحْمَدَ رَوَاهُ وَالْبَزَّارَ فِي بَابِ السُّؤَالِ لِلِانْتِفَاعِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ، وہ بیٹھ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : کیا تم نے جنات اور انسانوں سے تعلق رکھنے والے شیاطین کے شر سے پناہ مانگ لی ہے ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! سب سے پہلے نبی کون تھے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : سیدنا آدم علیہ السلام ، میں نے دریافت کیا : کیا وہ نبی تھے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : جی ہاں ! اُن کے ساتھ کلام کیا گیا تھا ، میں نے دریافت کیا : پھر کون ( نبی ) تھے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : سیدنا نوح علیہ السلام ، ان دونوں کے درمیان دس پشتوں کا فرق ہے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے نماز کے بارے میں بتائیے ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ ایک بھلائی ہے ، جو لازم قرار دی گئی ہے ، جو شخص چاہے وہ اسے زیادہ حاصل کر سکتا ہے ، میں نے عرض کی : صدقہ ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( اس کا اجر و ثواب ) کئی گنا ہوتا ہے ، میں نے عرض کی : اور روزہ ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : روزہ ڈھال ہے ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : روزہ میرے لیے ہے اور میں اس کی جزا دوں گا ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) اُس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، روزہ دار کے منہ کی بو ، اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے ( سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے دریافت کیا : کون سا صدقہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تنگدست شخص کا محنت کر کے ( صدقہ کرنا ) یا کسی غریب کو پوشیدہ طور پر ( صدقہ دینا ) میں نے عرض کی : ( آزاد کرنے کے لئے ) کون سا غلام زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس کی قیمت زیادہ ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے نفع حاصل کرنے کے لیے سوال کرنے سے متعلق باب میں یہ بات گزر چکی ہے کہ امام أحمد اور امام بزار نے بھی اس روایت کو نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 954
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجم الاوسط 4721»