حدیث نمبر: 953
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ أَنَّ رَجُلًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌أَنَبِيٌّ كَانَ آدَمُ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : كَمْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ نُوحٍ ؟ قَالَ : " عَشَرَةُ قُرُونٍ " . قَالَ : كَمْ بَيْنَ نُوحٍ وَإِبْرَاهِيمَ ؟ قَالَ : " عَشَرَةُ قُرُونٍ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَمْ كَانَتِ الرُّسُلُ ؟ قَالَ : " ثَلَاثَمِائَةٍ وَخَمْسَةَ عَشَرَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا سیدنا آدم علیہ السلام نبی تھے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : جی ہاں ! اُس نے دریافت کیا : سیدنا آدم علیہ السلام اور سیدنا نوح علیہ السلام کے درمیان کتنا عرصہ ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دس صدیوں کا ، اُس نے دریافت کیا : سیدنا نوح علیہ السلام اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے درمیان کتنا عرصہ ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : دس صدیوں کا ، اُس نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! رسولوں کی تعداد کتنی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تین سو پندرہ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 953
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 7545 اخرجه الامام الطبراني فى معجم الاوسط 403»