مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مُقْبِلًا وَغَيْرِ ذَلِكَ باب: اس شخص کا بیان جو اللہ کی راہ میں دشمن کی طرف رخ رکھتے ہوئے قتل ہو جائے اور دیگر امور کا بیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " سَبَقَ الْمَقْتُولُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ الْمَقْتُولَ الْمُدْبِرَ إِلَى الْجَنَّةِ سَبْعِينَ خَرِيفًا [ وَمَرْضَى أُمَّتِي مِنْ أَصْحَابِهِمْ بِسَبْعِينَ خَرِيفًا ] ، وَالْأَنْبِيَاءَ قَبْلَ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ بِأَرْبَعِينَ خَرِيفًا لِمَا كَانَ فِيهِ مِنَ الْمُلْكِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ رِوَايَةِ جُوَيْبِرٍ عَنِ الضَّحَّاكِ وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اللہ کی راہ میں قتل ہونے والا وہ شخص سبقت لے جاتا ہے جس نے دشمن کی طرف رخ کیا ہوا ہو پیٹھ نہ کی ہوئی ہو اس مقتول پر سبقت لے جاتا ہے ) جس نے پیٹھ کی ہوئی تھی اور وہ جنت کی طرف ستر برس پہلے سبقت لے جائے گا ، اور ان کے ساتھیوں سے تعلق رکھنے والے میری امت کے بیمار افراد سے ستر برس پہلے سبقت لے جائے گا ، اور انبیاء سیدنا سلیمان بن داؤد علیہما السلام سے چالیس سال پہلے ( جنت میں چلے جائیں گے ) کیونکہ سیدنا سلیمان علیہ السلام میں یہ چیز تھی کہ انہیں ( دنیا میں ) بادشاہی ملی تھی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے جویبر کی ضحاک کی نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور یہ دونوں ضعیف ہیں ۔