مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الشَّهَادَةِ وَفَضْلِهَا باب: شہادت اور اس کی فضیلت کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ [ قَيْسٍ الْجُذَامِيِّ ] رَجُلٍ كَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يُعْطَى الشَّهِيدُ سِتَّ خِصَالٍ عِنْدَ أَوَّلِ قَطْرَةٍ مِنْ دَمِهِ يُكَفَّرُ عَنْهُ كُلُّ خَطِيئَةٍ ، وَيَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ ، وَيُزَوَّجُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ وَيُؤَمَّنُ مِنَ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ ، وَيُحَلَّى حُلَّةَ الْإِيمَانِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَجَمَاعَةٌ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤سیدنا قیس جذامی رضی اللہ عنہ جو ایک ایسے فرد ہیں ، جنہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” شہید کو اس کے خون کے پہلے قطرے کے ساتھ چھ خصوصیات عطا کر دی جاتی ہیں اس کے ہر گناہ کا کفارہ ہو جاتا ہے وہ جنت میں اپنے ٹھکانے کو دیکھ لیتا ہے حورعین کے ساتھ اس کی شادی ہو جاتی ہے وہ بڑی گھبراہٹ سے محفوظ ہو جاتا ہے قبر کے عذاب سے محفوظ ہو جاتا ہے اسے ایمان کا حلہ پہنا دیا جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ثابت بن ثوبان ہے جسے ابوحاتم اور ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔