مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الرِّبَاطِ باب: پہریداری کا بیان
وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ مَاتَ مُرَابِطًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أُجْرِيَ عَلَيْهِ عَمَلُ الصَّائِمِ وَأُجْرِيَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ وَأَمِنَ مِنَ الْفَتَّانِ وَيَبْعَثُهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ آمِنًا مِنَ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ " . ¤ قُلْتُ : حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ وَثَّقَهُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبٍ فَقَالَ : ثِقَةٌ مَأْمُونٌ ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص اللہ کی راہ میں پہرا دینے کے دوران مر جائے تو روزے دار کا عمل اس کے لئے جاری رہتا ہے اور اس کا رزق اس کے لئے جاری رہتا ہے اور وہ ( قبر کی ) آزمائش سے محفوظ رہتا ہے اور قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ اسے زندہ کرے گا ، تو وہ بڑی پریشانی ( یعنی قیامت کی ہولناکی ) سے محفوظ ہو گا“ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث کو امام ابن ماجہ نے روایت کیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے جسے عبداللہ بن شعیب نے ثقہ قرار دیا ہے وہ کہتے ہیں : یہ ثقہ اور مامون ہے دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔