مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الرِّبَاطِ باب: پہریداری کا بیان
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ حَرَسَ لَيْلَةً عَلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ كَانَ أَفْضَلَ مِنْ عِبَادَتِهِ فِي أَهْلِهِ أَلْفَ سَنَةٍ [ السَّنَةُ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَسِتُّونَ يَوْمًا ، وَكُلُّ يَوْمٍ أَلْفُ سَنَةٍ ] . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ خَلَا قَوْلَهُ : " عَلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ أَبِي طَوِيلٍ الْقُرَشِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَإِنْ كَانَ ابْنُ حِبَّانَ وَثَّقَهُ فَقَدْ قَالَ فِي الضُّعَفَاءِ لَا يَجُوزُ الِاحْتِجَاجُ بِهِ . ¤سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص سمندر کے ساحل پر ایک رات پہرا دیتا ہے ، تو یہ اس شخص کے اپنے گھر میں ایک ہزار سال تک عبادت کرنے سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے ( وہ سال ایسا ہو گا ) کہ ایک سال تین سو ساٹھ دن کا ہو اور ہر دن ایک ہزار سال کا ہو “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں : ” سمندر کے ساحل پر “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعید بن خالد ابوطویل قرشی ہے اور وہ ضعیف ہے اگرچہ امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، لیکن انہوں نے کتاب الضعفاء میں یہ بات بیان کی ہے ۔ اس سے استدلال کرنا جائز نہیں ہے ۔