مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابُ التَّكْبِيرِ عَلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ باب: سمندر کے ساحل پر تکبیر کہنا
عَنْ قُرَّةَ بْنِ إِيَاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ كَبَّرَ تَكْبِيرَةً عَلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ عِنْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ رَافِعًا صَوْتَهُ أَعْطَاهُ اللَّهُ مِنَ الْأَجْرِ بِعَدَدِ كُلِّ قَطْرَةٍ فِي الْبَحْرِ عَشْرَ حَسَنَاتٍ وَمَحَا عَنْهُ عَشْرَ سَيِّئَاتٍ وَرَفَعَ لَهُ عَشْرَ دَرَجَاتٍ مَا بَيْنَ الدَّرَجَتَيْنِ مَسِيرَةَ مِائَةِ عَامٍ بِالْفَرَسِ الْمُسْرِعِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ خَلِيفَةُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ الذَّهَبِيُّ : فِيهِ جُهَّالٌ وَهَذَا خَبَرٌ سَاقِطٌ . ¤سیدنا قرہ بن ایاس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص سمندر کے ساحل پر سورج غروب ہونے کے وقت بلند آواز میں ایک مرتبہ تکبیر کہتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اتنا اجر عطا کرتا ہے کہ سمندر کے ہر ایک قطرے کے عوض میں دس نیکیاں ملتی ہیں اور اس کے دس گناہ مٹا دیتا ہے اور اس کے دس درجات بلند کرتا ہے جن میں سے ہر دو درجوں کے درمیان تیز رفتار گھوڑے کی طے کی ہوئی ایک سو سال کی مسافت جتنا فاصلہ ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خلیفہ بن حمید ہے ۔ امام ذہبی کہتے ہیں : اس میں مجہول راوی پائے جاتے ہیں اور یہ روایت ساقط ہے ۔