حدیث نمبر: 9467
عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا مِنْ أَهْلِ بَيْتٍ لَا يَغْزُو مِنْهُمْ غَازٍ أَوْ يُجَهِّزُ غَازِيًا بِسِلْكٍ أَوْ بِإِبْرَةٍ أَوْ مَا يَعْدِلُهَا مِنَ الْوَرِقِ أَوْ يَخْلُفُهُ فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ إِلَّا أَصَابَهُمُ اللَّهُ بِقَارِعَةٍ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سُوِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو گھرانہ ایسا ہو کہ ان میں سے کبھی کسی نے نہ کبھی جنگ میں حصہ لیا ہو اور نہ ہی کبھی کسی غازی کو جنگ میں سامان فراہم کیا ہو خواہ وہ دھاگہ یا سوئی ہی کیوں نہ ہو ، یا اس کی مانند چاندی ہی کیوں نہ ہو ، یا کسی غازی کی غیر موجودگی میں اس کے اہل خانہ کی دیکھ بھال بھی نہ کی ہو ، تو قیامت کے دن سے پہلے ، اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو مصیبت میں مبتلا کرے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سوید بن عبدالعزیز ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9467
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف