حدیث نمبر: 946
وَعَنْ عُتْبَةَ بْنِ غَزْوَانَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ يَوْمًا لِقُرَيْشٍ : " هَلْ فِيكُمْ مَنْ لَيْسَ مِنْكُمْ ؟ " قَالُوا : ابْنُ أُخْتِنَا عُتْبَةُ بْنُ غَزْوَانَ . قَالَ : " ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ [ وَحَلِيفُ الْقَوْمِ مِنْهُمْ ] " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَهُوَ مِنْ رِوَايَةِ عُتْبَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ غَزْوَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُتْبَةَ ، وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَ عُتْبَةَ وَلَا إِبْرَاهِيمَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عقبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش سے دریافت کیا : کیا تمہارے درمیان کوئی ایسا فرد موجود ہے جو تم میں سے نہ ہو ؟ اُنہوں نے عرض کی : ہمارا ایک بھانجا عتبہ بن غزوان ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قوم کا بھانجا ، ان کا ایک فرد ہوتا ہے ( اور قوم کا حلیف ، اُن کا ایک فرد ہوتا ہے ) ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، یہ روایت عتبہ بن ابراہیم بن عتبہ بن غزوان نے اپنے والد کے حوالے سے سیدنا عتبہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے اور میں نے کسی کو عتبہ ( بن ابراہیم ) یا ابراہیم ( بن عتبہ بن غزوان ) کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 946
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الأمام الطبراني فى معجم الكبير 118/17»