حدیث نمبر: 9442
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : مَرَّ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِشِعْبٍ مِنْ مَاءٍ فَأَعْجَبَهُ طِيبُهُ فَقَالَ : لَوِ اعْتَزَلْتُ النَّاسَ وَأَقَمْتُ فِي ذَلِكَ الشِّعْبِ ، وَلَنْ أَفْعَلَ حَتَّى أَسْتَأْذِنَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَفْعَلْ فَإِنَّ مَقَامَ أَحَدِكُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ مَقَامِهِ فِي بَيْتِهِ سِتِّينَ عَامًا - أَوْ كَذَا عَامًا - مَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَوَاقَ نَاقَةٍ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤ وَيَأْتِي حَدِيثُ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ فِي فَضْلِ مَقَامِ الرَّجُلِ فِي الصَّفِّ لِلْقِتَالِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک صاحب کا گزر ایک گھاٹی کے پاس سے ہوا جس میں پانی موجود تھا انہیں وہاں کی پاکیزگی اچھی لگی تو انہوں نے یہ سوچا کہ اگر میں لوگوں سے الگ تھلگ ہو جاؤں اور اس گھاٹی میں مقیم ہو جاؤں ( تو یہ مناسب ہو گا ) لیکن میں ایسا اس وقت تک نہیں کروں گا جب تک اللہ کے رسول سے اجازت نہیں لے لیتا انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا ذکر کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم ایسا نہ کرو ، کیونکہ تم میں سے کسی ایک شخص کا اللہ کی راہ میں کھڑے ہونا اس کے لئے اس کے اپنے گھر میں ساٹھ سال تک کھڑے ہونے ( یا نوافل ادا کرنے ) سے زیادہ بہتر ہے ( یہاں پر ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) جو شخص اونٹنی کا دودھ دوہنے کے جتنے وقت کے لئے اللہ کی راہ میں جنگ میں حصہ لیتا ہے اس کے لئے جنت واجب ہو جاتی ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ آدمی کے جنگ کے لئے صف میں کھڑے ہونے کی فضیلت کے بارے میں سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ منقول حدیث آگے آئے گی ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9442
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1652)»