حدیث نمبر: 9441
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَرِيَّةٍ مِنْ سَرَايَاهُ قَالَ : فَمَرَّ رَجُلٌ بِغَارٍ فِيهِ شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ ، قَالَ : فَحَدَّثَ نَفْسَهُ بِأَنْ يُقِيمَ فِي ذَلِكَ الْغَارِ فَيَقُوتُهُ مَا كَانَ فِيهِ شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ ، وَيُصِيبُ مَا حَوْلَهُ مِنَ الْبَقْلِ ، وَيَتَخَلَّى مِنَ الدُّنْيَا، ثُمَّ قَالَ : لَوْ أَنِّي أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَإِنْ أَذِنَ لِي فَعَلْتُ وَإِلَّا لَمْ أَفْعَلْ ، فَأَتَاهُ فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي مَرَرْتُ بِغَارٍ فِيهِ مَا يَقُوتُنِي مِنَ الْمَاءِ وَالْبَقْلِ ، فَحَدَّثَتْنِي نَفْسِي بِأَنْ أُقِيمَ فِيهِ وَأَتَخَلَّى مِنَ الدُّنْيَا قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنِّي لَمْ أُبْعَثْ بِالْيَهُودِيَّةِ وَلَا بِالنَّصْرَانِيَّةِ ، وَلَكِنِّي بُعِثْتُ بِالْحَنِيفِيَّةِ السَّمْحَةِ ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَغَدْوَةٌ أَوْ رَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا وَلَمَقَامُ أَحَدِكُمْ فِي الصَّفِّ خَيْرٌ مِنْ صَلَاتِهِ سِتِّينَ سَنَةً " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنگی مہم میں حصہ لینے کے لئے نکلے ۔ راوی کہتے ہیں : ایک شخص کا گزر ایک غار کے پاس سے ہوا جس میں تھوڑا سا پانی موجود تھا اس شخص نے یہ سوچا کہ وہ اس غار میں مقیم ہو جاتا ہے وہاں اللہ تعالیٰ اس پانی کے ذریعے اسے خوراک فراہم کرتا رہے گا وہ آس پاس کی سبزیاں حاصل کر لے گا ، اور وہ دنیا سے لاتعلق ہو جائے گا پھر اس نے سوچا کہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر آپ کے سامنے یہ بات ذکر کرنی چاہیے اگر آپ نے مجھے اجازت دے دی تو میں ایسا کر لوں گا ، اور اگر اجازت نہ دی تو میں ایسا نہیں کروں گا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اس نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! میرا گزر ایک غار کے پاس سے ہوا جس میں پانی اور سبزیوں کے حوالے سے میری خوراک کا بندوبست موجود تھا میں نے یہ سوچا کہ میں اس میں مقیم ہو جاتا ہوں اور دنیا سے لاتعلق ہو جاتا ہوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے یہودیت یا عیسائیت کے ہمراہ مبعوث نہیں کیا گیا بلکہ مجھے آسان حنفیت کے ہمراہ مبعوث کیا گیا ہے ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے اللہ کی راہ میں صبح کے وقت جانا یا شام کے وقت جانا دنیا اور اس میں موجود سب چیزوں سے زیادہ بہتر ہے اور تم میں سے کسی ایک شخص کا صف میں کھڑا ہونا اس کے ساٹھ سال تک ( نفل ) نمازیں ادا کرنے سے زیادہ بہتر ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9441
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (7868) اخرجه احمد فى المسند (266/5)»