مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ باب: جہاد کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " خِصَالٌ سِتٌّ مَا مِنْ مُسْلِمٍ وَفَى وَاحِدَةً مِنْهُنَّ إِلَّا كَانَ ضَامِنًا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ : رَجُلٌ خَرَجَ مُجَاهِدًا فَإِنْ مَاتَ فِي وَجْهِهِ كَانَ ضَامِنًا عَلَى اللَّهِ، وَرَجُلٌ تَبِعَ جَنَازَةً فَإِنْ مَاتَ فِي وَجْهِهِ كَانَ ضَامِنًا عَلَى اللَّهِ ، وَرَجُلٌ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى مَسْجِدٍ لِصَلَاةٍ فَإِنْ مَاتَ فِي وَجْهِهِ كَانَ ضَامِنًا عَلَى اللَّهِ ، وَرَجُلٌ فِي بَيْتِهِ لَا يَغْتَابُ الْمُسْلِمِينَ وَلَا يَجُرُّ إِلَيْهِمْ سَخَطًا وَلَا نِقْمَةً فَإِنْ مَاتَ فِي وَجْهِهِ كَانَ ضَامِنًا عَلَى اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” چھ کام ہیں ، جو بھی مسلمان ان میں سے جو بھی پورا کر دے تو وہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ میں ہو گا کہ اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے وہ شخص جو جہاد کرنے کے لئے نکلے اگر وہ اس دوران مر جائے تو وہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ میں ہو گا وہ شخص جو جنازے کے ساتھ جائے اگر وہ اس دوران مر جائے تو وہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ میں ہو گا وہ شخص جو وضو کرتے ہوئے اچھی طرح وضو کرے اور نماز کی ادائیگی کے لئے مسجد کی طرف چل کے جائے اگر وہ اس دوران مر جائے تو وہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ میں ہو گا ، اور وہ شخص جو اپنے گھر میں رہے اور مسلمانوں کی غیبت نہ کرے اور ان کی طرف ناراضگی نہ لے کر جائے اور ان کی طرف انتقام نہ لے کر جائے اور اگر وہ اس دوران مر جاتا ہے ، تو وہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ میں ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن عبدالرحمن بن ابوفروہ ہے اور وہ متروک ہے ۔